بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

دہشتگردوں سے مذاکرات کیوں اور کیسے۔۔؟؟؟

bashir ahmad mirگذشتہ روزکالعدم تحریک طالبان کے امیر حکیم اللہ محسود اور نائب امیر ولی الرحمن نے تازہ ویڈیو پیغام میں حکومت پاکستان کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں لیکن بات چیت غیر سنجیدہ نہیں ہونی چاہئے،غیر مسلح نہیں ہونگے یہ مطالبہ مذاق کے مترادف ہے۔حکومت نے کئی امن معاہدوں کی خلاف ورزی کی ،ہم جمہوری نظام کے خلاف ہیں،کیونکہ یہ غیر اسلامی ہے ،اے این پی اور دوسری جماعتوں پر حملے جاری رکھیں گے ،سیاستدان پاکستان کو لوٹنے کے ایجنڈے پر متفق ہو سکتے ہیں تو مجاہدین اللہ کی خاطر ایک ہیں‘‘۔42منٹ کی ویڈیو میں انہوں نے یہ بھی کہا ’’تحریک طالبان پہلی بار غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش کرتی ہے‘‘۔
دیر آید درست آید کے مترادف طالبان نے ایک نئی کروٹ لی ہے،اگر یہی بات آج سے دو چار سال پہلے کی جاتی تو ہزاروں جانوں کا قتل ان طالبان نما قاتلوں کے سروں پر نہ آتا پھر بھی بڑی بات ہے کہ ان کابے بس،نہتے اور بے گناہ انسانی جانوں پر کچھ رحم آیا ۔۔۔!مذاکرات ہونے چاہئیں ،اسلام میں بھی مذاکرات کفار سے جائیز ہیں یہ پھر بھی بھٹکے ہوئے مسلمان ہیں ،اگر یہ بات چیت کرنا چاہئتے ہیں تو اس میں کوئی برائی نہیں تاہم مذاکرات سے قبل طالبان یہ ضرور طے کر لیں کہ اگر وہ سنجیدہ ہیں تو انہیں کھلے دل سے آگے آنا ہو گا۔بد معاشی،مکاری، عیاری،غنڈہ گردی اور من پسند ایجنڈا کسی دباؤ سے لاگو کرنے جیسی فنکاری نہیں چلے گی۔اگر وہ اسلام کی بات کرتے ہیں تو انہیں اسلام کی روشنی میں ہزاروں بے گناہ جانوں کے خون کے بدلے کے لئے بھی اپنے آپ کو پیش کرنا پڑے گا۔ویڈیو کے مطابق حکیم اللہ محسود،ولی الرحمن،احسان اللہ احسان اور عصمت اللہ معاویہ نے مشترکہ مذاکراتی پیشکش کی ہے،انہوں نے مذاکرات کو از خود غیر مشروط کہا مگر ساتھ ہی خود یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم غیر مسلح نہیں ہونگے،جمہوری نظام کے خلاف ہیں،پاکستان کو لوٹنے والے متفق ہو سکتے ہیں تو بقول ان کے مجاہدین بھی ایک ہیں۔
ہم مسلمان ہیں ،ہماری حکومت اسلامی جمہوریہ مملکت کے نام سے وجود میں آئی ہے ،جہاں تک جمہوریت کا تعلق ہے تو یہ حالات حاضرہ میں کہیں بھی اسلامی نقطہ نظر سے غیر اسلامی نظام نہیں،رہی یہ بات کہ ملک لوٹنے والوں کے خلاف آپ متحد ہیں تو کیا آپ سے یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ ایک بے خبر،نوخیز ذہین بارہ پندرہ سالہ نوجوان کوورغلا کر اسے خود کشی کے لئے تیار کرنا اور پھر اسے ملک کی مساجد،مدارس،مکاتب،مزارات ،امام بارہ گا ہوں،چرچ و دیگر عبادت گاہوں،ملک کی حفاظت کرنے والے نوجوانوں کے دستوں ،اہم شخصیات اور اداروں کو نشانہ بنانے کے لئے تربیت دینا کیا عین اسلام ہے،افسوس ہوتا ہے کہ ان شیاطین صفت گروہ سے شرعاً مذاکرات کیسے جائیز قرار دئیے جا سکتے ہیں۔۔۔؟
کیا ہزاروں شہداء کا خون یہی تقاضہ کرتا ہے کہ ان کے قاتلوں سے مذاکرات کئے جائیں۔۔۔؟ کیا یہی بے گناہ لوگ اس ملک کو لوٹ رہے تھے کہ ان کے خلاف ان بد بختوں نے خود کش حملوں ،بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا سہارا لیکر پورے عالم اسلام کو بد نام کیا اور پاکستان کو سب سے ذیادہ جانی و مالی نقصانات پہنچایا،کیا مسجد میں اللہ کی عبادت کرنے والے اس ملک کو لوٹ رہے تھے،کیا مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے والے کسی غیر اسلامی فعل میں ملوث تھے،کیا چرچ میں عبادت کرنے والے لٹیرے تھے،کیا حضرت امام حسینؓ کی یاد کرنے والے مجرم تھے ،کیا عوام الناس کے فلاح کا عزم رکھنے والے محب الوطن شخصیات کی جانیں قابل سزا تھیں،کیا یہی مجاہدین کے اوصاف ہوتے ہیں ۔۔؟؟ ان سوالوں کا جواب بھی یہی نام نہاد مجاہدین کسی ویڈیو ریکارڈنگ میں عوام کو سنائیں۔
جید علماء کرام کے فتوؤں کی روشنی میں دہشتگردی میں ملوث افراد کا تعلق اسلام سے ہرگز نہیں ،اس جمہور فتوے کی روشنی میں مذاکرات کس سطح پر جائیز ہیں اس پر سب سے پہلے حکومت کا فرض ہے کہ ملک بھر کے علماء کرام سے مشاورت کر کے مذاکرات کرنے کی حامی بھری جائے۔ورنہ یہ شیطانی عمل ہرگز نتیجہ خیز نہیں ،قاتل سے مذاکرات کہیں بھی اسلام میں جائیز نہیں،عوام نے کافی نقصان اٹھا لیا ہے ،ان نام نہاد اسلام پسندوں کی وجہ سے پاکستان ایک ارب ڈالر سے زائد معاشی نقصان کر چکا ہے ،ہزاروں قیمتی جانیں ان ننگ دین ،ننگ وطن گروہ نے ہم سے چھینیں ہیں،مہنگائی نے گھر گھر دستک انہی ہی کی وجہ سے دے رکھی ہے،بیرون ممالک سرمایہ کار انہی کی کارستانیوں سے بھاگے ہیں ،توانائی کا مسئلہ انہی کی ملک دشمنی سے پوری قوم بھگت رہی ہے،بے روزگاری کا سیلاب انہی کا پیدا کردہ ہے،شدت پسندی اور انتہاء پسندی کا مرکز و محور یہی گروہ ہے کیا ان سے مذاکرات کرنے اب جائیز ہیں۔۔؟یہ سوال ہر شہری ان سے پوچھ رہا ہے۔
اسلام دہشتگردی کے خلاف ہے جبکہ غیر مسلم امریکہ سمیت دیگر ممالک نے ہمارے مذہب کے تقاضوں کے مطابق ہمارا ساتھ دیا جو حیران کن امر ہے ،تباہی کا شکار بھی ہم ہو رہے ہیں اور ہماری بہتری کے لئے غیر مسلم ممالک کا ہمارا ساتھ دینا احسن اخلاق کی نشاندھی کرتا ہے ،اگر ایک طرف مسلمان بن کر مسلمان کی جان لی جا رہی ہو اور غیر مسلم ہماری مدد کو آئے تو کیا دہشتگردوں سے ہماری ہمددری کس ناطے سے جائیز ہو سکتی ہے۔
ان تمام پس منظر اور پیش منظر کو مد نظر رکھتے ہوئے اب حکومت کے کورٹ میں گیند آ چکا ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری چھان پھٹک کر آگے بڑھا جائے ،ملک کی تمام مذہبی ،سیاسی شخصیات کو مل بیٹھ کر اس مذاکراتی پیشکش پر غور و فکر کرنا چاہئے،پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلوا کر اتفاق رائے سے اس پیشکش کا جواب دیا جائے ۔بہرحال کسی بھی مسئلہ کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ طالبان جنہیں ظالمان کہا جائے غلط نہ ہو گا ، کیایہ راہ راست پر آ جائیں گے ؟ حالات یہ بتاتے ہیں کہ وہ توجہ ہٹانے کے لئے مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر اپنے مذموم عزائم اور مکروہ اہداف کو جاری رکھنا چاہئے ہیں ۔ان تمام محرکات،خدشات اور خطرات کو سامنے رکھ کر حکومت سمیت تمام محب الوطن قوتوں کو ہوشمندی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔حق گو قلمکاروں کی صدا روکنے والوں کے شر سے ہمیں محفوظ تو اللہ تعالیٰ ہی رکھے گا کیونکہ جو رات قبر میں وہ باہر نہیں ہو سکتی بہر حال آخر میں حکومت باالخصوص وزارت داخلہ کی ذمہ داری ہے کہ ہماری حفاظت کی
تدبیر ضرور کی جائے تاکہ ہماری صٖفوں میں چھپے قاتل ہماری قلم کو توڑ نہ سکیں۔اس نوعیت کی اپیل پہلے بھی کر چکا ہوں مگر ہمارے قومی اداروں میں بے حسی کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے ۔امید ہے کہ ان سطور کو پڑ ھ کر ہوشمندی کا مظاہرہ کیا جائے گا ۔

یہ بھی پڑھیں  اسلام مخالف فلم، ممبئي میں یوٹیوب پر مقدمہ

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker