بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

دہشت گرد کا سر مل گیا۔۔۔۔۔؟؟؟

گذشتہ روز راولپنڈی،کراچی اور کوئٹہ میں دہشت گردوں نے عزاداروں اور سیکیورٹی فورسز پر مختلف حملوں میں مجموعی طور پر40شہری لقمہ اجل بنے اور قریباً60افراد شدید زخمی ہوئے۔یہ حملے خود کش حملہ آوروں اور ڈیوائس کنٹرول بموں سے کئے گے۔یقینی طور پر یہ المناک واقعات انتہائی قابلِ افسوس،مذمت اور شدید نفرت و باعثِ تشویش ہیں۔آخر یہ کون لوگ ہیں جو وطنِ عزیزکو بدنام،کمزوراوردینِ اسلام کی تشریح و تعریف کو دہشت گردی سے منسوب کر رہے ہیں۔گذشتہ کئی برسوں سے جاری دہشت گردی کا سلسلہ یہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گرد گروہ نے نہ مساجد کا احترام کیا ،نہ مزارات کی حرمت کا لحاظ کیا،نہ مدارس کی عظمت کو مدِ نظر رکھا گیا ،امام بارگاہوں،چرچ اور گنجان علاقوں سمیت سیکیورٹی فورسز تک بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنانے سے ذرا بھر سرتاجِ انسانیت پیغمبر اسلام کی دعوت کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا۔میں نہ عالمِ دین ہوں اور نہ ہی فرقہ پرست لیکن انسانیت کے جو مدارج و فضیلت دینِ اسلام میں اہمیت رکھتی ہے اس بنیاد پر جید علماء کے فتووں کو سامنے رکھتے ہوئے اس دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث افراد کو داہرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں ۔اسلام نے انسانیت کے قتل کو سب سے بڑا جرم قرار دیا ہے بلکہ یہاں تک کہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کی جان اور مال کے تحفظ کا بھی واضح حکم دیا ہے۔سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ یہ کونسا گروہ ہے جو صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ اہل سنت کے علماء کرام سے ان کے پیروکاروں تک سب کا دشمن ہے ۔میری ذاتی تحقیق جو ہے اس کی روشنی میں کچھ معلومات سے آگاہی ہر ذی شعور تک کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔دہشت گرد اگر کسی اہل سنت والجماعت کے علماء یا مساجد و مدارس پر حملہ کرتا ہے تو شیعہ انتہاپسند کھلے عام یہ کہتے ہیں کہ ’’منکرین‘‘ واصل جہنم ہوئے جبکہ کوئی شیعہ عالم یا کسی امام بارگاہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اہل سنت سے تعلق رکھنے والے انتہا پسند یہی کہتے ہیں کہ دشمنان اسلام کو مارنے والے ’’مومنین ‘‘پر جنت واجب ہو گئی ہے۔اب ذرا غور طلب بات یہ سمجھنے کی ہے کہ کون جنتی اور جہنمی ہوا۔۔۔؟ جبکہ ان دونوں گروہوں کو یہ علم ہی نہیں کہ انسانیت دشمن عناصر کون ہیں ؟یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ دین کے وہ ٹھیکیدار بنا رکھے ہیں جو ایسی باتیں کر کے تفرقہ پیدا کر رہے ہیں ۔آج بھی سینکڑوں سنی اور شیعہ علماء کا ایک ضلع سے دوسرے ضلع میں جانے پر پا بندی کیوں لگائی جاتی ہے ؟ ذرا غور کریں کہ مر کون رہا ہے۔جان کس کی جا رہی ہے۔کہیں بچوں کو نشانہ بنایا گیا اور کہیں ملک کی حفاظت کرنے والے ان کی دہشت گردی سے لقمہ اجل ہوئے۔
چند دہشت گردوں نے ہمیں یرغمال بنا رکھا ہے جبکہ پوری قوم اس پر متفق ہے کہ دہشت گردی کرنے والے واجب القتل ہیں۔اگر سچی بات کی جائے تو یہ اخذ ہوتا ہے کہ بیرونی خفیہ ایجنسیاں اس ساری کارروئی میں ملوث ہیں جن کا نیٹ ورک اس قدر مضبوط ہے کہ وہ جی ایچ کیو سے لیکر ملک کے ہر اس ادارے تک نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ان کا خام مال وہ نوجوان ہیں جو بے روز گاری سے تنگ اور زندگی سے مایوس ہوکر ان انسانیت دشمنوں کے جال میں پھنستے جا رہے ہیں ۔حیران کن بات یہ ہے کہ ان بد بختوں کے خلاف جس نے بھی آواز بلند کی وہ بھی ان کا تر نوالہ بن گیا۔وطن عزیز کا قیمتی سرمایہ علماء کرام اور ہمارے سیاسی و سماجی رہنما ہیں ان وحشیوں نے بے نظیر بھٹو ،حکیم سعید سے لیکر جید علماء کرام اور ذاکرین تک کسی کو معاف نہیں کیا،آپ جب ماضی کے تانے بانے ملاحظہ کرین تو بخوبی اخذ ہوتا ہے کہ جب بھی کسی فرقہ ،سیاسی جماعت یا کسی صحافی پر ایسا حملہ کیا گیا ان دہشت گردوں نے اپنی طرف سے نظریں ہٹانے کے لئے اپنے پیروکاروں کو دوسرے فرقہ کو اس کا ذمہ دار ٹہرایاجس سے نفرت اور عداوت بڑھی اور یقینی طور پر ان دہشت گردوں نے اس تاثر کے ردعمل میں اپنے مذموم عزائم مربوط منصوبہ بندی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔راولپنڈی ڈھوک سیداں میں ہونے والے خود کش حملہ سے یہ بھی بخوبی علم ہوا کہ دہشت گرد کا جو سر ملا ہے اس سے ابتدائی طور پر یہ پتہ لگتا ہے کہ اس کی عمر 20سے 22سال کی تھی جو اس امر کی غمازی ہے کہ نوجوان ذہین کو اس انسانیت سوز جرم کے لئے تیار کرنے والے مائنڈ سیٹ بڑے تجربہ کار،منظم،باخبر اور بھر پور وسائل کے حامل ہیں۔جن کے خلاف پوری قوم یکسو ہونے کے باوجود انہیں قابو کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو پا رہی ۔حیران کن بات یہ ہے کہ ہماری پولیس کے پاس بھی وہ وسائل نہیں جن کے بل بوتے پر دفاعی حکمت عملی بنائی جا سکے۔بلکہ گذشتہ روز ڈھوک سیداں راولپنڈی کے المناک واقعہ کے بعد یہ بتایا گیا کہ اس وقت بجلی نہ ہونے اور پولیس کی نفری کم ہونے کے سبب احتیاطی تدابیر کارگر ثابت نہ ہو سکیں ۔اگر درست تجزیہ کیا جائے تو ہماری پولیس ذیادہ تر وی وی آئی پی سرگرمیوں میں مصرف کار رکھی جاتی ہے جبکہ ثانوی درجہ کی نفری کو محض روایاتی طور پر ناکوں یا کسی اجتماعی مقام پر تعینات کیا جاتا ہے جو بلا وجہ عام شہریوں کی نقل و حرکت میں خلل انداز تو ہو سکتے ہیں جبکہ دہشت گرد ان کے کسی بھی گھیرے میں نہیں آ سکتے ۔
ہماری سوچ و فکر کا تضاد اور انتظامی کمزوری دو ایسے بنیادی عوامل ہیں جن سے دہشت گرد آسانی سے اپنا ہدف پا لیتے ہیں ۔اس کے علاوہ ہمارا معاشی نظام جس سے بے روزگاری اور مایوسی نے جنم لیا ہوا ہے اس کے نتیجے میں ہمارے نوجوان گمراہی کا شکار ہو کر انتہائی اقدام اٹھانے پر اپنی جانوں کی پرواہ تک نہیں کر رہے ہیں ۔ہم بیماری کے اسباب پر کم اور بیمار کے خاتمے پر ذیادہ توجہ دے رہے ہیں جس سے ہمیں نت نئے مسائل درپیش ہیں ۔ہمارے وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ موٹر سائیکل اور موبائل چلتے پھرتے بم ہیں بلاشبہ دہشت گردوں کا یہ آسان ہتھیار ہیں مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر موٹر سائیکل اور موبائل رکھنے والا دہشت گرد ہو سکتا ہے ۔ہماری پو لیس کا یہ حال ہے کہ اب وہ اپنی کارکردگی بنانے کے لئے بلا وجہ موٹر سائیکل چلانے والے کو ایسے پکڑتے ہیں جسے وہی دہشت گرد ہو ! جبکہ دوسری طرف پولیس کا یہ حال ہے کہ جب ڈھوک سیداں میں خود کش حملہ ہوا تو وہاں پر موجود پولیس والے ایسے بھاگے کہ جیسے دہشت گرد ان کا پیچھا کر رہا ہو۔پولیس والے ہمارے بھائی ہیں مگر پہلے ذکر کیا ہے کہ ان کے پاس صرف اتنی طاقت ہے کہ وہ عام شہری کو بآسانی تو پکڑ سکتے ہیں مگر ان کے قابو دہشت گرد آنا معجزہ ہی ہو گا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ذمینی حقائق کو مد نظر رکھ کردیر پا منصوبہ بندی کی جائے ،ملک کا معاشی نظام بہتر کر کے بے روز گاری کے خاتمے کے لئے وسائل فراہم کئے جائیں۔پولیس کو جدید تربیت اور ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کی اہلیت کے لئے موثر حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ امن کی کوششیں رنگ لا سکیں ۔سیاسی و مذہبی قیادتوں کو بھی ہوشمندی کا مظاہرہ کرنا ہو گا ۔ایسی تقاریر اور ایسے پروپیگنڈوں سے اجتناب کرنا پڑے گا جن سے شدت پسندی کی جانب اشارہ ملتا ہو۔حکومت کو چاہئے کہ وہ ایسی قانون سازی کریں تاکہ ایسے علماء اور ذاکرین جو اسلامی معاشرت کے برعکس اپنی روزی و روٹی کے لئے اشتہال آمیز تقاریر و تعلیم دینے کے مرتکب ہوں انہیں عمر قید کی سزا دینے کا باقاعدہ قانون پاس کیا جائے نیز بے روز گار افراد کو روزگار فراہم کرنے تک بے روزگار الاؤنسز کا انتظام کیا جائے جو ساری دنیا میں بنیادی حق تسلیم شدہ ہے ۔جب تک ہم ہر پہلو پر اصلاحات نہیں لائیں گے تب تک یہ دہشت گردی کے خلاف سطحی اقدامات کارگر ثابت نہیں ہو سکتے ہیں۔ہم پھر ہر خود کش حملے کے بعد یہی سنتے رہیں گے کہ ’’دہشت گرد کا سر مل گیا ہے‘‘ مگر اس کے آگے ہمیں کیا ملے گا وہ ہم کئی برسوں سے دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔!!!

یہ بھی پڑھیں  پھولنگر:دیہاتی اور کسان موٹروے پولیس کے جرمانوں سے بہت تنگ آگئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker