بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

دہشت گردی+سیکیورٹی=وزارت داخلہ

مجھے ایک قاری نے ایس ایم ایس کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ آپ اسرائیلی جارحیت اور فلسطینی مظلومیت پر لکھیں،میں نے انہیں جواب دیا کہ ضرور لکھوں گا مگر صرف فلسطین ہی نہیں یہاں پورا عالم اسلام ظلم و بر بریت ،قتل و غارت اور وحشی درندوں کے نرغے میں ہے کس کس کو زیر تذکرہ کروں۔چند ماہ قبل برما میں ایک مہینہ کے دوران قریباً تیس ہزار مسلمانوں کو ٹارگٹ کلنگ سے شہید کیا گیا اس وقت کوئی مسلمان ملک ان مظلوم و بے بس انسانوں کے لئے لب کشائی نہ کر سکا ۔عراق ،افغانستان ،یمن،لیبیا،شام ،کشمیر یہ سب مسلم اکثریتی ریاستیں ہیں ان میں جو کچھ ہو رہا ہے کیا یہ فلسطینی بھائیوں سے ہونے والے ناروا سلوک سے کم ہے۔ان تمام ممالک کو ایک طرف رکھئیے سب سے پہلے اپنے وطن عزیز کا حال دیکھیں کہ ڈرون حملوں میں کون لوگ مارے جا رہے ہیں ۔خودکش،ٹارگٹ کلنگ،بم حملوں میں کیا ہر روز پچاس سے زائد بے گناہ لقمہ اجل نہیں ہو رہے ہیں ۔آخر یہ سب کچھ کیا مسلم کشی نہیں،ہمیں پہلے اپنے ملک سے ان درندوں کا صفایا کرنا پڑے گا پھر ہماری آواز میں طاقت و قوت پیدا ہو سکے گی۔
کشمیر اور فلسطین کی آذادی کے لئے ہمیں دعائیں کرتے ہوئے 65برس گذر گے مگر ہم ابھی تک دعا سے آگے نہیں بڑھ سکے ۔ایک لاکھ سے زائد صرف بارہ برسوں کے دوران کشمیری نوجوان ،بچے اور بزرگ بھارتی افواج نے کھلے اور سرعام گولیوں سے چھلنی کئے جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے مگر ہمارے ضمیر نہ جانے کیوں اتنے مردہ ،بے حس اور بے غرض کیوں ہو چکے ہیں کہ ہم مظلوم ہونے کے باوجود دہشت گرد قرار دیئے جا رہے ہیں ۔حالانکہ دہشت گردی میں منظم انداز سے امریکہ، اسرائیل اور انڈیا برابر کے شریک ہیں ۔دراصل یہ قصور من حیث القوم ہم سب کا ہے ۔ہمارے لیڈر جہاں تک اس بے خبری کا شکار ہیں اس پر صفِ ماتم الگ موضوع رکھتا ہے۔مگر یہاں ان خامیوں اور غلطیوں کا ذکر کرنا قومی فریضہ سمجھتا ہوں جس کی وجہ سے پورا عالم اسلام زیر عتاب آچکا ہے۔
اگر ہمارے سابق حکمران عقل و دانش کا مظاہرہ کرتے اور بلا وجہ افغان روس جنگ میں ٹانگ نہ اڑاتے تو آج ہم ان حالات کا ہر گز شکار نہ ہوتے ۔اس لا تعلق ،بے سود اور نقصان دہ جنگ نے ہمیں کلاشنکوف کلچر،ڈرگ مافیا،35لاکھ سے زائد افغان مہاجرین اور اس کے نتیجے میں خود کش بمبار جنہوں نے ہمیں دہشت گردی کا شکار کر رکھا ہے منافع میں یہ سودا اب ہمارے گلے میں ہڈی بن چکے ہے جس سے نہ فرار ممکن ہے اور نہ نجات،ان بد بختوں نے ہمارے بے گناہ شہری گاجر اور مولی کی طرح کاٹے ہیں،مساجد،مزارات،امام بارہ گاہیں ،ججز،صحافی اور سیاست دانوں کو نشانہ بنانے والے یہی عناصر سرگرم رہے اور اس وقت بھی انہی کا راج نہ سہی راج گیری چل رہی ہے۔تازہ صورت حال یہ ہے کہ ہمارے ایک صحافی رحمت اللہ عابد کو بلوچستان پنجگور میں سر عام قتل کیا گیا جبکہ کئی حق گو ان کے نشانے پر ہیں ۔اسلام نے یہ درس تو نہیں دیا ہے کہ انسانیت کا قتل عام کیا جائے ۔کراچی میں روزانہ اوسطاً درجن سے زائد بے گناہ شہری ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہو رہے ہیں ان کے قاتل کون ہیں اس کا بھی ہمیں علم نہیں۔دن دیہاڈے میر مرتضیٰ بھٹو،بے نظیر بھٹو ،حکیم سعید سمیت بے شمار محب وطن قتل کئے جا چکے ہیں مگر ان کے قاتل ابھی تک ناصرف پوشیدہ ہیں بلکہ وہ اپنے مذموم عزائم جاری رکھے ہوئے ہیں ۔اسی طرح علماء کرام ،ذاکرین اور دین حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو بے دردی سے شہید کرنے والوں تک رسائی نہ ہونا ہماری مجموعی بے حسی کی علامت ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ وطن عزیز کا ہر شہری ان دہشت گردوں سے خائف نہیں ہوا ۔عوام کی جرات ،سیکیورٹی فورسز کی دلیری ، عدلیہ ،مقننہ ،انتظامیہ اور صحافتی اداروں نے جس ہمت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا وہ یقیناًقابلِ داد ہے۔
خلیفہ دوئم امام المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے مختصر عرصہ میں بیس ہزار مربع میل پر علم پاک کو سر بلند کیا جبکہ اس وقت جدید ہتھیار بھی نہ تھے اگر ان کی فتوحات کا جائیزہ لیا جائے تو یہ سب انعاماتِ ربانی اسلامی معاشرت کے ثمرات سے نصیب ہوئے۔آج ہم مختلف تعصبات کی بھینٹ چڑھ کر شکست و ریخت سے دوچار ہیں ۔ہماری سماجی بے راہ روی کا یہ عالم ہے کہ ہم چاروں اطراف سے گھیرے میں ہیں ،حق و باطل کی تمیز نہیں رہی ،انسان کی عمر ہی کیا ہوتی ہے کہ اس مختصر عرصہ میں نفرت ،عداوت ،بغض اور تعصب کی بنیاد پر اپنے بھائیوں کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔یزید ملعون کے مظالم پر ہم نوحہ کناں ہیں مگر جو ظلم اب ہم دیکھ رہے ہیں یہ یذیدیت سے بھی بڑھ کر ہورہا ہے۔آج ہم مسلمان کو مسلمان کے ہاتھوں قتل ہوتے دیکھ رہے ہیں ۔یذیدی فوج نے پھر بھی للکار کر ظلم و بر بریت کی تھی یہ بد بخت منافقانہ انداز سے پسِ پشت حملہ آور ہو کر ہزاروں بے گناہ انسانوں کے قاتل اسلامی ریاست کو چیلنج کر رہے ہیں ۔
ان دہشت گردوں نے ہماری معیشت اور ہمارے امن کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا دیا ہے اب ان کی سر کوبی کے لئے ٹھوس اور دیر پا اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے ہمارے مذہبی اقدار کو داغدار کر رکھا ہے ۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیاسی ،سماجی ،عسکری اور ہر سطح پر منظم و متحد ہو کر ان کا راستہ ہی نہ روکیں بلکہ ان کے گراس روٹ کو تباہ کر دیں تب ہی ہمارے ملک میں امن و سلامتی ممکن ہو سکتی ہے۔وزیر داخلہ نے درست کہا ہے کہ موٹر سائیکل اور موبائل چلتے پھرتے بم ہیں اس بارے عام شہریوں کو مشکلات میں ڈالے بغیر ایسا طریقہ وضع کیا جائے تا کہ اس سے دہشت گردوں کو تلاش کرنے میں آسانی ممکن ہو سکے۔میں مذکورہ کالم جن حالات میں تحریر کر رہا ہوں وزیر داخلہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ دہشت گردوں کی جانب سے صحافیوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے دھمکیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہماری سیکیورٹی یقینی بنانے کے لئے فوری اقدامات کریں ۔ابھی تک صحافتی اداروں اور حق گو صحافیوں کی سیکیورٹی نہ ہونا انتظامیہ کی خطرناک لاپروائی ہے۔اندرونی اور بیرونی مسلم کش حالات انتہائی توجہ طلب ہیں ۔جن کو محض معمول قرار دینا بیوقوفی ہے ۔سنجیدہ روی کے ساتھ ان عوامل و اسباب کا جائیزہ لیا جائے جن کی وجہ سے پورا عالم اسلام شدت پسندوں کی سازشوں کا شکار ہے۔حکومت کو چاہئے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے اور فلسطینیوں پر روا رکھے جانے والے مظالم فوری بند کر وائے۔اس ضمن میں امریکہ اور عالمی برادری پر بھی بآور کر وایا جائے کہ ایسے حالات سے دہشت گرد تقویت پکڑ سکتے ہیں ۔ڈرون حملوں بارے بھی امریکہ پر زور دیا جائے کہ اس سے بے گناہ شہری متاثر ہو رہے ہیں ۔ایسے مظالم منفی اثرات مرتب کرتے ہیں جن کی روک تھام ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker