انور عباس انورتازہ ترینکالم

خاص لوگ دانا دشمن کی کامیاب حکمت عملی

anwar abasکسی گھر کی ایک چھت تلے مختلف رنگ و نسل کے افراد رہتے ہوں ۔۔۔۔لاکھ ان میں اختلافات بھی موجود ہوں۔۔۔۔۔۔ چاہے ان اختلافات کی نوعیت سیاسی ہو یا عقیدے اور مسالک الگ الگ بھی ہو ں۔۔۔۔۔حتی کہ انکے مابین بول چال بھی بھی نہ ہو ۔۔۔۔۔نہ ہی کسی قسم کے سماجی روابط کی زنجیر مین بندھے ہوں۔۔۔۔۔لیکن اس سب کے باوجود ان میں سے کو ئی ذی شعور انسان محض عقیدے ، مسلک اورسیاسی سوچ کے اختلاف کی بنیاد پر اس گھر کو جلانے کا نہیں سوچ سکتا۔۔۔۔کیونکہ اسے اتنی عقل اللہ نے ضرور دی ہے کہ وہ اس مکان کو ہر گز نہیں جلائے گا۔ جس کی چھت کے نیچے وہ خود ا ور اسکے اہل و عیال ،بیوی بچے رہ رہے ہوں ۔اس کو یہ اس قدر تو سوجھ بوجھ رکھتا ہوگا کہ اگر اس نے اس مکان کو جلا کر راکھ بنانے کی کوشش کی تو اسکے بیوی بچے بھی اس کے ساتھ ہی خاکستر ہو جائیں گے۔۔۔۔اس مکان کے ملبہ میں اس کے جان سے زیادہ عزیز والدین کی لاشیں دب جائیں گی۔۔۔۔۔ اگر مکان کی چھت جلے گی تو اس کے اندر پڑا اسکا سامان بھی محفوظ نہ رہے گا بلکہ وہ سب سے پہلے اسکی لگائی ہوئی آگ کا ایندھن بنے گا۔عید قربان کی آمد آمد ہے ۔۔۔لوگ اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے جانور خرید رہے ہیں۔۔لیکن چند روز ان جانوروں کو اپنے ساتھ رکھنے کے باعث جب انہیں ذبح کرنے لگتے ہیں تومحض چند دن کی انس کے سبب سب کی آنکھوں میں آنسو امڈ آتے ہیں۔۔
میرے لیے تو ایسا سوچنا بھی ممکن نہ تھا کہ خود کو مسلمان کہنے والے ۔۔۔۔۔ اپنے خالق و مالک اللہ اور اسکے رسول ﷺ کا امتی ہونے پر فخر کرنے والے۔۔۔۔۔قران کو بھی اپنے سینے میں محفوظ رکھنے والے
۔۔۔۔۔۔طالبان ۔۔۔۔ یعنی علم کے طالب ۔۔۔۔ علوم دینیہ کے حصول میں سرگرم عمل ہونے کے دعویدار ۔۔۔۔پاکستان کے شہری ہونے کی بنیاد پر اسکے قومی شناختی کارڈ کے حامل اور حقدار قرار پانے والے۔۔۔طالبان۔۔۔۔۔اس کی زمین سے اگنے والے اناج سے اپنا اور اپنے اہل و عیال کا پیٹ بھرکے زندگی کی سانسوں کی ڈور چلانیوالے۔۔۔طالبان ۔۔ اس قدر احسنا ت کے باوجود ۔۔۔۔۔ اسی پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تل جائیں گے۔۔۔؟اسے تباہ و برباد کرنے کے مشن کی تکمیل کے لیے دشمن کی سازشوں میں اس کے آلہ کار بن جائیں گے ؟۔اسی پاکستان کے وجود کے دشمن بن جائیں گے۔۔۔۔ جس پاکستان کے سبز ہلائی پرچم کے سائے تلے وہ اور ا نکے بیوی بچے رہتے ہیں۔اوراسی پاکستان کے اس بے گناہ عوام کا قتل عام کرنااپنا نصب العین بنا لیں گے۔جو خود کو مسلمان کہتے ہیں ۔ اوراسی اللہ کی واحدانیت کا اقرار کرتے ہیں ۔جس کی مخلوق خود یہ طالبان ہیں۔ اور اسی نبی رحمت ﷺ کے کلمہ گو ہیں۔جس نبی کریم کا یہ طالبان کلمہ پڑھتے ہیں۔
مجھے بالکل یقین نہیں آتا کہ یہ مسلمان ہو سکتے ہیں۔جو لوگوں کو اس بات کی تربیت دیتے ہوں اوریہ کہتے ہوں۔۔۔مار ڈالو اسے جو سیاہ علم اٹھائے تمہیں دکھائی دے یا جو خود کو شیعہ کہلواتا ہو ۔۔۔۔ہر اس گھر کو برباد کر کے رکھ دو جس کی چھت پر پنجے کے نشان والا ’’ کالا علم ‘‘ لہرا رہا ہو۔۔۔۔۔گو لیوں کی بوچھاڑ کر کے بھون ڈالو ہر اس شخص کو جو ان کے عقیدے سے اختلاف رائے رکھتا ہو۔۔۔۔کھنڈرات میں تبدیل کر دو ہر اس چیز کو جو ان کے راستے ہیں آئے ۔۔۔چاہے یہ مسجد یں ہوں یا امام بارگاہیں ہو ں ۔۔۔۔۔مسیح برادری کی عبادت گاہیں چرچ ہوں ۔۔۔۔۔۔ ان اولیا اللہ کے مقدس مزارات ہی کیوں نہ ہوں جن دینی خد مات اور جدوجہد کے باعث ان کے اباو اجداد کفر کی وادیوں سے نکل کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔۔۔۔۔۔۔ چاہے ہسپتال میں زیر علاج مریض ہوں۔۔ سب کو تہس نہس کر دو۔۔۔ سب کو بموں کے دھماکوں سے اڑا کر جنت میں گھر کے حسصول کو یقینی بنائیں؟۔۔۔۔۔طالبان جو دنیا بھر کے لیے رحمت بن کر آنے والے پیغمبر اعظم کے غلام ہونے کا دم بھرتے نہیں تھکتے وہی طالبان
پاکستان کے ان بہادر جنرلوں اور جوانوں کے خون سے اسلام کے شیدائیوں کے ہاتھ رنگین ہوں گے؟ پاکستان کی اس نیوی کے مراکز کو نشانہ بنانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔۔۔۔جو دن رات ،اٹھتے بیٹھتے ہماری ماوں بہنوں اور بیٹیوں کی عزت اور ناموس کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔
اب مجھے یقین کامل ہو گیا ہے۔کہ ان طالبان میں کوئی ایسی طاقت گھسی ہوئی ہے ۔جو انہیں ایسا کرنے کی تربیت دیتی ہے۔انہیں ایسا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔یہ قوت انہیں مالی مدد فراہم کرتی ہے۔۔۔یہی قوت انہیں اسلحہ اور بارود مہیا کرتی ہے۔۔۔اگر با ہر سے انہیں مالی اور اسلحہ کا تعاون حاصل نہ ہو تو ان کے اس قدر گروپ وجود مین نہ آتے ۔۔۔۔ ان کا مذید گروپوں میں تقسیم ہوتے جانا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ انہیں ملک سے باہر کی قوتوں کا تعاون حا صل ہے۔۔۔یہ ان کے ایجنٹ بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔جبھی تو طالبان کے تمام گروپوں کے قیادین کے پاس بڑی بڑی لگژی گاڑیوں اور روپے پیسے کی ریل ہے
۔۔۔ان کے پاس عالیشان کوٹھیاں محض مدرسوں کی دال روٹیاں کھانے سے یا مدرسوں میں بچے پڑھانے سے تو نہیں آ سکتیں؟
خود کو طالبان کا نام دینے والے بھلا علم کے دشمن ہو سکتے ہیں ؟بچیوں کے سکولوں کو اڑانے والے علم دشمن ہو سکتے ہیں؟ ۔۔۔۔۔ علم کی طلب رکھنے والی معصوم بچیوں کو بے رحمی سے موت کی نیند سلانے والے طالبان ہو سکتے ہیں؟نہیں۔۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔۔۔ نہیں حصول علم کے لیے آنے والوں کے دلوں میں علم کی شمعین رو شن کرنے والی درس گاہوں کو بموں سے کھنڈرات کے ڈھیر میں تبدیل کرنے والے طالبان نہیں ہو سکتے۔۔۔اور نہ ہی مسلمان ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔مسلمان تو علم کی شمعیں اپنے خون سے روشن کرتے ہیں۔۔۔۔انہیں بجھاتے نہیں
میں تو انہیں بھی مسلمان تسلیم نہیں کرتا جو انہیں سپورٹ کرتے ہیں۔جو اں دہشت گردوں کو ۔۔۔۔۔۔ان کرائے کے قاتلوں کو ۔۔۔۔۔۔۔ان نام نہاد جہادیوں کو جہاد کے نام پر لاکھوں اور کروڑوں روپے کا چند محض اس لیے دیتے ہیں کہ انہیں جنت میں بنگلہ مل جائے۔۔۔۔۔۔ایسے وطن دشمنوں کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہئے۔۔۔اور بھرپور ریاستی طاقت سے ایکشن ہونا چاہئے۔۔۔مجھے تو حکومت کی نیت پر بھی شک ہونے لگا ہے ۔کہ مذاکرات۔۔۔۔۔مذاکرات ۔۔۔۔مذاکرات ۔۔۔۔کیا مذاکرات کی سدھائے طوطے کی طرح مذاکرات کی رٹ لگا رکھی ہے
کیا کبھی لاتوں کے بھوت باتوں سے مانتے ہیں ۔۔۔۔۔کیا بقول علامہ اقبال ’’
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرداں ناداں پر کلام نرم و نازک ہے بے اثر
طالبان جنہیں طالبان کہنا ہے زیادتی ہے۔مذاکرات سے راہ راست پر نہیں آئیں گے حکومت فوری طور پر مذاکرات کی سوچ ترک کر دے اور ان دہشت گردوں کے خلاف پوری ریاستی قوت کے ساتھ بھرپور ایکشن کیا جائے اور اس وقت تک ایکشن جا ری رکھا جائے جب تک ایک بھی دہشت گرد اس دھرتی پر موجود ہے۔ کیونکہ یہ دہشت گرد نہ تو دین اسلام کی کوئی خد مت سرانجام دے رہے ہیں اور نہ ہی پاکستان کی۔۔۔۔بلکہ الٹا اپنی دہشت گردی کی وارداتوں کے ذریعے دین اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔اور پاکستان کے دانا دشمنوں کے آلہ کار بن کر پاکستان اور اسکی محا فظ افواج کے خلاف برسرپیکار ہیں۔میں پاکستان کے ان دانا دشمنوں کو داد دیتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں جنگوں کے ذریعے شکست دینے میں ناکامی اعتراف کرتے ہوئے ایک ایسی حمکت عملی اختیار کی کہ ہمارے اندر سے ہی اپنی فوج تیار کر لی ہے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button