تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

دانائے راز ’’ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ ‘‘

نیک ‘ پاکیزہ اور باحیا والدین کی اولاد شاعرِ مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کا یومِ ولادت ہم ہر سال ۹ نومبر کو بڑے جوش و جذبے کے ساتھ مناتے ہیں ‘ فاتحہ خوانی کرتے ہیں ‘ اور اللہ سے ان کی مغفرت اور بلند درجات کی دعا کرتے ہیں اور کیوں نہ منائیں یہ وہی شخصیت ہیں جن کے حسین ترین خواب کی عملی تعبیر ’’ پاکستان‘‘ ہے۔ اللہ پاکستان کو اپنی امان میں رکھے اور پاکستانیوں کو بھی۔۔۔۔۔۔
ایک موقعے پر سر علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا تھا کہ ہم مسلمان اس دنیا کے سفر میں ‘ اسلام کے قافلے کے مسافر ہیں اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمارے سالار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کی اطاعت اور پیروی سے ہی ہم اپنی منزل کو پانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ آپ ان کے اشعار میں بھی اسلامی اور حضور ﷺ کی پیروی کرنے کی جھلک دیکھ سکتے ہیں ۔
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی ﷺ
ہم صرف ان کا برتھ ڈے بہت دھوم دھام سے مناتے ہیں مگر ان کے اقوال پر عمل کیوں نہیں کرتے ۔ یہ کبھی کسی نے نہیں سوچا : ہزاروں اقوال ہیں ان کے جن پر عمل کرنے سے پاکستان ترقی کے دور میں صفِ اوّل پر جلوہ گر ہو سکتا ہے ۔میں یہاں پر ان کا ایک قول درج کئے دیتا ہوں شاید کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات:
علامہ محمد اقبال ؒ نے فرمایا: ’’جب تک قومیں اپنی اصلاح کے بارے میں نہیں سوچتیں قدرت بھی انہیں درست نہیں کرتی۔‘‘کیا ہم اور آپ سب اس پر عمل کرتے ہیں نہیں ! کیونکہ ہم لوگوں نے کبھی کوشش ہی نہیں کہ اپنی اصلاح کریں، اگر کر لیتے تو شاید آج ہم سب کسی ترقی یافتہ ملک اور اعلیٰ اقدار کے قابل ہوتے۔
خوشبوؤں کی لطافت اور روشنی کی جلوۂ سامانی اور پھر عالمِ شوق و احساسات لئے جو لوگ پیدا ہوتے ہیں وہی لوگ تابندہ ہستیاں ہیں جن میں علامہ محمد اقبال ؒ کا نام بھی سرِفہرست ہے۔ جن کے وجود سے روشنی دنیائے عالم میں پھیلتی ہے اور ایسے لوگ ہی تاریخ کی نشو و نما میں نمایاں خدمات انجام دیتے ہیں۔ تصورِ اقبال کسی سے پوشیدہ نہیں کیونکہ جس اسلامی ریاست کو فلاحی ریاست کا تصور انہوں نے دیا جو قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور پاکستان کا مقصود بھی تھا۔ وہ خواب جو شاعرِ مشرق علامہ اقبال ؒ نے دیکھا جس کی تعبیر کی صورت اس قوم کو قائد اعظم محمد علی جناح جیسا قائد قدرت نے بخشا۔وہ خواب جو ہمارے فلسفی شاعر نے دیکھا اور جو پوری قوم کی امنگوں ‘ آدرشوں ‘ آرزوؤں کی علامت بن گیا۔ یوں اقبال نے پوری دنیا پر یہ بات واضح کر دی کہ فرد کا ملت سے وابستہ رہنا ہی واحد عمل ہے اور اسی کی بدولت اسلام کے اصولوں کو بنی نوع انسان کی تاریخ میں از سرِ نو تاریخ ساز کردار ادا کرنے کے لئے اکھٹا کیا جا سکتا ہے
چند کتابوں سے اقتباس پیشِ خدمت ہے : وزیر بھوپال منشی امتیاز علیہ صاحب فضل رحمانی کی کوٹھی لکھنؤ میں فقیر شروانی سے ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب سے ملاقات ہوئی منشی صاحب آستانہ عالیہ آ رہے تھے۔ ڈاکٹر اقبال صاحب کو بھی شوق بڑھا سب کے ہمراہ ہو کر آستانہ آئے بوقت حاضری ڈاکٹر اقبال صاحب نے کہا کہ حضور اعلیٰ کو ئی ایسا وظیفہ ارشاد فرمائیں جس سے زیارت رسالت ﷺ ہو جائے (مولانا بابا علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ والہانہ محبت خود سبب دیدار ہے تم اپنے میں وہ بات پیدا کر لو کہ آنحضرتﷺ کی نگاہِ مبارک خود تمہاری طرف اُٹھ جائے یہی سب سے بڑا ہے۔
اخبار ’’وطن‘‘ کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خان علامہ کے ہاں اکثر حاضر ہوتے تھے، ان دنوں علامہ اقبال انار کلی بازار میں رہتے تھے اور وہیں طوائفیں آباد تھیں۔ میونسپل کمیٹی نے ان کے لیے دوسری جگہ تجویز کی، چنانچہ انہیں وہاں سے اٹھا دیا گیا۔ اس زمانے میں مولوی انشاء اللہ کئی مرتبہ علامہ سے ملنے گئے، لیکن ہر مرتبہ یہی ہوا کہ علامہ باہر گئے ہوئے تھے۔ اتفاق سے ایک دن گھر پر مل گئے، مولوی صاحب نے مزاحاً کہا۔
’’ڈاکٹر صاحب ! جب سے طوائفیں انار کلی سے اٹھوا دی گئی ہیں، آپ کا دل بھی یہاں نہیں لگتا۔‘‘علامہ اقبال نے جواب دیا۔ ’’ مولوی صاحب! کیا کیا جائے، وہ بھی تو وطن کی بہنیں ہیں۔‘‘ مولوی صاحب کٹ کے رہ گئے (مولوی انشاء اللہ خان، وطن کے ایڈیٹر تھے)
زندگی میں ایک مرتبہ سیالکوٹ جانے کا اتفاق ہوا مجھے اشتیاق تھا کہ علامہ اقبال ؒ کا وہ آبائی گھر دیکھوں جس کے در و دیوار کتنی ہی داستانیں سمیٹے کھڑے ہیں۔ گاڑی اقبال روڈ کی بھیڑ سے راستہ بناتی رینگ رہی تھی جو اب ایک تنگ سا بازار بن گئی ہے۔میں وہاں پہنچ کر کسی اور ہی زمانے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ تب اس بازار کے دکانداروں میں سے کسے معلوم تھا کہ صبح صبح گلے میں بستہ ڈالے اسکول جانے والا یہ بچہ ایک دن شاعر مشرق، ترجمان حقیقت ، علامہ سر محمد اقبال کہلائے گا۔ اس کی شاعری لاہور سے تابخاب بخارا اور ثمرقند کے دلوں میں ولولہ ناز جگا دے گی اور اس کا یہ چھوٹا سا گھر زیارت گاہ اہلِ علم و عرفان بن جائے گا۔
سنا تھا کہ اس وقت اقبال منزل کے نگراں سید ریاض حسین نقوی ہوتے تھے ۔کتابوں میں ذکر ہے کہ زیریں فرشی سطح کے تین کمرے کوئی ڈیڑھ سو برس قبل 1861ء میں شیخ نور محمد نے ڈیڑھ سو روپے میں خریدے تھے۔ بالائی منزل علامہ کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد نے بنوائی۔ بعد ازاں بغلی گھر خرید کر اس میں شامل کئے گئے۔ اندرونی پختہ دالان ، وہ بڑا ڈرائنگ روم جس کی پانچ کھڑکیاں محلہ چوڑی گراں اور پھولوں والی گلی کی طرف کھلتی تھیں، وہ کمرہ جس میں اقبال کی ولادت ہوئی اور جہاں لکڑی کا وہ پنگھوڑا رکھا ہے جس میں بے جی اپنے بالی کو ہلکورے دیتی تھیں، ایک مہمان خانہ جہاں علامہ کی وفات کے برسوں بعد 1953ء میں محترمہ فاطمہ جناح نے ایک شب قیام فرمایا، وہ کمرہ جو شیخ نور محمد کے زیرِ استعمال تھا اور جس کی کھڑکیاں کشمیری بازار کی طرف کھلتی تھیں۔ کہتے ہیں جب وہ انتہائی خوش الحانی سے تلاوت فرماتے تو بازار میں چلتے لوگ رک جاتے۔ یہی وہ کمرہ ہے جہاں علامہ کی ولادت سے کچھ ہی دن قبل شیخ نور محمد نے ایک عجیب خواب دیکھا تھا۔ دور دور تک پھیلا ایک وسیع وعریض میدان ہے، سفید شفاف پروں والا ایک کبوتر فضاء میں تیرتے ہوئے اوپر نیچے غوطے لگا رہا ہے۔ کبھی زمین کی طرف لپکتا اور کبھی آسمان کی طرف اٹھ جاتا۔ بھیڑ کے بیچوں بیچ کھڑے شیخ نور محمد حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے ہیں۔ لوگ لپک لپک کر اس خوبصورت کبوتر کو پکڑنے کی کوشش کرہے ہیں۔ اچانک کبوتر تیر کی سی تیزی سے غوطہ لگاتا اور شیخ نور محمد کی جھولی میں آن گرتا ہے۔ آنکھ کھلی تو شیخ نور محمد کا دل نور سے معمور تھا ، تعبیر بتائی گئی کہ آپ کو اللہ ایک فرزند عطا کرے گا جو بڑا نام اور مقام پائے گا۔
میکلوڈ روڈ پر لکشمی انشورنس کمپنی کی عمارت سے کچھ آگے سینما ہے۔ سینما سے ادھر ایک مکان چھوڑ کے ایک پرانی کوٹھی ہے جہاں آج کل آنکھوں یا دانتوں کا کوئی ڈاکٹر رہتا ہے۔ کسی زمانے میں علامہ اقبال یہیں رہا کرتے تھے۔لوگ جب بھی اس کوٹھی کے قریب پہنچتے ہونگے تو ان کے قدم رکتے معلوم ہوتے ہونگے اور نظریں بے اختیار اس کی طرف اٹھ جاتی ہونگی ۔ کوٹھی اچھی خاصی تھی۔ صحن بھی خاصا کشادہ۔ ایک طرف شاگرد پیشہ کے لئے دو تین کمرے بنے ہوئے تھے جن میں علامہ اقبال کے نوکر چاکر علی بخش رحمان ‘ دیوان علی وغیرہ رہتے تھے لیکن کوٹھی کی دیواریں سیلی ہوئی۔ پلستر جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا۔ چھتیں ٹوٹی پھوٹی۔ منڈیر کی کچھ اینٹیں اپنی جگہ سے اس طرح سرکی ہوئی تھیں کہ ہر وقت منڈیر کے زمین پر آ رہنے کا اندیشہ تھا۔ میر کا مکان نہ سہی۔ بہر حال غالب کے بلی ماراں والے مکان سے ملتا جلتا نقشہ ضرور تھا۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا جس فلاحی اسلامی مملکت کا خواب اقبال ؒ نے دیکھا تھا جو قائداعظم اور رفقاء پاکستان کو مقصود تھا ، ۶۵ سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود وہ مقصد حاصل ہو سکا یا نہیں؟ ہم نے اپنی عاقبت نا اندیشی کے سبب ملک کو دولخت کر دیا۔ اور اس عظیم سانحہ سے بھی کوئی سبق نہ سیکھا اور آج کے حالات بھی علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کی روح کو تڑپانے کے لئے کافی ہیں۔ امن و امان نام کی کوئی چیز ہمارے ملک میں نہیں۔ پوری قوم بے یقینی اور مایوسی کا شکار ہے ۔ بہرحال اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی بداعمالیوں ، فرقہ بندیوں، اور دوسری تمام برائیوں سے اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور توبہ کریں اور یہ عہد کر یں کہ ہم صرف اور صرف پاکستان ہیں تب ہی اس ملک کے حالات اور علامہ اقبال کے دیکھے گئے اسلامی پاکستان کے روح کے قابل ہوگا۔
اقبال جیسی شخصیت پر لکھنا کیا یہ تو چند چیدہ چیدہ حقائق تھے جو درج کر دیئے ۔ حقیقت میں اگر ان پر لکھنے کی سعی کی جائے تو راقم ان کے سچے قولوں اور ان کی حالاتِ زندگی پر کئی کتاب لکھ دے، مگر یہاں پر ایک مختصر مضمون جو صرف اخبارات کی زینت بن رہا ہے وہی لکھا جا سکتا ہے ۔ اس لئے کوشش کی ہے کہ مختصر لیکن جامع مضمون لکھا جائے ۔ دیکھئے کہاں تک کامیابی نصیب ہوئی ہے۔
دل سے جو بات نکلتی ہے اَثر رکھتی ہے
پَر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
قدسی الاصل ہے رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اُٹھتی ہے گردوں پہ گزر رکھتی ہے

یہ بھی پڑھیں  پتوکی: شاہراہ قائداعظم پر تجاوزات کے خلاف آپریشن، ریڑھیاں اور پھٹے اٹھوا دیئے گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker