پروفیسر مظہرتازہ ترینکالم

ڈَر کاہے کا۔۔۔۔؟

riffat mazharمعطل RPO زعیم قادری صاحب نے سانحہ راولپنڈی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو بیان دیتے ہوئے فرمایا کہ راجہ بازار میں فائرنگ کے دوران اُن کے سکوارڈ کے لوگوں نے اُنہیں ایک گلی میں چھپا دیا اور خود ’’موقع واردات‘‘سے فرار ہو گئے ۔بھئی جان تو سبھی کو پیاری ہوتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ محافظ اپنے ’’باس‘‘ کو اکیلے چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے شرم محسوس کرتے ہوں اِس لیے پہلے اُنہوں نے باس کو ’’نُکرے‘‘ لگایا اور پھر یہ جا ، وہ جا۔ویسے مجھے یقین ہے کہ RPO صاحب نے اکیلے رہ جانے پر یہ ضرور گنگناتے رہے ہونگے کہ
کَلی کَلی جان ، دُکھ لکھ تے کروڑ وے
دُور جان والیا ، مہاراں ہُن موڑ وے
یہ ابھی تک صیغۂ راز میں ہے کہ RPO صاحب گلی میں کس جگہ چھُپے ۔کیا وہ زمین پر اوندھے لیٹ گئے یا کسی گٹر کا ڈھکنا اُٹھا کر اندر داخل ہو گئے ؟۔یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ ’’رعبِ تھانیداری‘‘ میں اُنہوں نے کئی گھروں کے دروازے کھٹکٹائے ہوں لیکن کسی نے دروازہ کھولنے کی زحمت ہی گوارا نہ کی ہو کیونکہ آجکل لوگ پولیس سے کَم کَم ہی ڈرتے ہیں۔ویسے بھی آجکل قدم قدم پہ اتنے ’’مقاماتِ خوف‘‘ درپیش ہیں کہ ہم نے ’’خوف‘‘ سے دوستی کر لی ہے ۔سچ کہا تھا غالب نے کہ
رنج سے خُوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں اتنی پڑیں مُجھ پہ کہ آساں ہو گئیں
اب ہم اُن چیزوں سے نہیں ڈرتے جن سے ہمارے بزرگ ڈرا کرتے تھے کیونکہ ہمارے ڈر کی نوعیت بدل چکی ہے مثلاََہمیں ڈرانے کے لیے تو گلی کی نُکڑ پہ بیٹھا سبزی فروش ہی کافی ہے جو شکل سے ہی دہشت گرد لگتا ہے اور اب تو وہ ایسا ’’ڈان‘‘ بَن گیا ہے جس کے ہاں موجود ہر سبزی ہماری پہنچ سے باہر ہوتی ہے ۔جب ہم سبزی خریدنے میں ناکام رہتے ہیں تو یہ سوچنے لگتے ہیں کہ کتنا خوش نصیب ہے یہ ڈان جو اتنی ڈھیروں ڈھیر ’’انمول دولت‘‘ کے عین وسط میں کسی ناگ کی طرح پھَن پھیلائے بیٹھا ہے ۔ایک بار تو ہم نے بھی سوچا کہ ہم اپنے میاں سے کہیں کہ وہ جو سارا دِن گھر میں پڑے اینٹھتے رہتے ہیں ،کم از کم سبزی کی دوکان ہی کھول لیں لیکن ہمیں بھی وہی مسئلہ ’’فیثاغورث‘‘درپیش ہے جس میں ہمارے حکمران اُلجھے ہوئے ہیں ۔حکمرانوں کو امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا بہت شوق ہے اور ہمیں اپنے میاں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔لیکن بلّی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ ۔ویسے آپس کی بات تو یہ ہے کہ آجکل ہم دُنیا کی کسی اور شے سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا ’’ٹماٹروں‘‘ سے ڈرتے ہیں ۔یہ ٹماٹر شاید اللہ تعالیٰ نے بنائے ہی ڈرانے کے لیے ہیں ۔پہلے اِن سے صرف سیاست دان ڈرتے تھے اب پوری قوم ڈرنے لگی ہے ۔ہمارے انتہائی محترم چیف جسٹس صاحب نے بھی’’عالمِ خوف‘‘ میں فرمایا کہ جس ملک میں ایک کلو ٹماٹروں اور ایک کلو مُرغی کے گوشت کی قیمت برابر ہو اُس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے ۔ہمارے بھولے چیف صاحب اپنی ’’آئینی‘‘ عینک سے اب بھی اُس زمانے کو دیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جب لوگ رقیبوں پر ٹماٹروں اور گندے انڈوں کی بارش کیا کرتے تھے ۔وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ چیف صاحب کو سبزی خریدنے کا سرے سے کوئی تجربہ ہی نہیں کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ وہ اپنی جھنڈے والی بُلٹ پروف گاڑی میں بیٹھ کر حفاظتی حصار میں سبزی خریدنے نکل پڑیں۔اُنہیں تو کسی نے ٹماٹروں کی قیمت بتائی ہو گی جس پر اُنہوں نے ’’از خود نوٹس‘‘ لے لیا(ہمارے نزدیک چیف صاحب کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ از خود نوٹس ہی ہوتا ہے)۔حقیقت تو یہ ہے کہ آجکل تو ہر سبزی پکار پکار کر چیف صاحب کو از خود نوٹس لینے کی دہائی دے رہی ہے اور ٹماٹروں کو تو ہم اپنی امارت کا ’’رعب شُوب‘‘ ڈالنے کے لیے ایسی نمایاں جگہ پہ رکھتے ہیں جہاں ہر کسی کی نظر پڑے۔رہی انڈوں کی بات تو اگر کوئی انڈہ گندا نکل آئے تو پورا گھر پریشان ہو کر یہ عقدہ وا کرنے میں جُت جاتا ہے کہ آخر مُرغی نے گندا انڈہ کیوں ، کیسے اور کِس سازش کے تحت دیا؟۔جدید ترین تحقیق کے مطابق اِس میں مُرغیوں کا قصور نہیں پایا گیا وہ تو سارے انڈے صاف شفاف اور اُجلے اُجلے ہی دیتی ہیں لیکن کچھ انڈے ہوتے ہی گندے ہیں جن کے بارے میں حضرتِ اقبالؒ نے بھی کہا تھا کہ
اُٹھا کر پھینک د و باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
ہمیں اقبالؒ کی ساری شاعری اور فلسفہ و تفلسف میں صرف اِس شعر سے اختلاف ہے کیونکہ یہاں گندے انڈوں کی اتنی بہتات ہے کہ اگر اُنہیں اٹھا کر گلیوں میں پھینکنا شروع کر دیا گیا تو اِس سے تعفن کا وہ سونامی اُٹھے گا کہ باقی ’’ککھ ‘‘ نہیں بچے گا ۔
سونامی سے یاد آیا کہ ہمارے انتہائی محترم عمران خاں صاحب ’’کی سونامی‘‘ 23 نومبر کواپنے لاکھوں عاشقان کے جَلو میں چھَم چھَم کرتی نیٹو سپلائی روکنے جا رہی ہے ۔بخُدا ہمیں آج پہلی بار اُس سونامی پر پیار آ رہا ہے جِس میں غیرت و حمیّت کوٹ کوٹ کر بھری ہے وگرنہ ہم تو یہی سمجھ بیٹھے تھے کہ ’’حمیّت نام ہے جس کا ، گئی تیمور کے گھر سے‘‘۔ غیرت و حمیّت ہر مسلمان کا زیور ہے اور میرے آقا ﷺ کا فرمان ہے ’’اللہ غیرت مند ہے اور غیرت مندوں کو دوست رکھتا ہے ‘‘۔اگر امریکہ سے ترقیاتی کاموں کے لیے پچاس ملین ڈالر لینے کے بعد بھی کپتان صاحب میں یہ ہمت ہے کہ وہ نیٹو سپلائی روک کر امریکہ کو ناراض کر سکیں تو بسم اللہ ہم اُن کے ساتھ ہیں ۔سوال مگر یہ ہے کہ کیا ایک آدھ دن کے علامتی دھرنے سے ’’عالمی غُنڈہ‘‘ سیدھا ہو جائے گا؟۔عمران خاں صاحب نے توایک اینکر کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ فرمایا تھاکہ خیبر پختونخواہ کی صوبائی کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جو مستقل بنیادوں پر نیٹو سپلائی روکنے کا فیصلہ کرے گی ۔کابینہ کا اجلاس ہوا اور ’’دیکھنے ہم بھی گئے پہ تماشہ نہ ہوا‘‘۔ کابینہ کے اجلاس میں ایسے کسی فیصلے کادور دور تک نام و نشاں ہی نہ تھا۔اِس اجلاس پر سب سے خوبصورت تبصرہ جمیعت علمائے اسلام کے حافظ حمد اللہ کا تھا جنہوں نے کہا’’کھودا پہاڑ نکلا چوہا، وہ بھی دُم کَٹا‘‘۔پتہ نہیں یہ صوبائی کابینہ کی خاں صاحب سے بغاوت ہے یا تحریکِ انصاف کی مصلحت۔اگر یہ محض کابینہ کی بغاوت ہے تو دِل سے دُعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ محترم عمران خاں کو استقامت بخشے اور اُنہیں طاغوت کے خلاف اِس جہاد میں کامران کرے اوراگریہ مصلحت ہے تو’’سونامیوں‘‘ کو مبارک ہو کہ اب کپتان صاحب بھی سیاست دان بنتے جا رہے ہیں۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button