امجد قریشیتازہ ترینکالم

درس انسانیت

amjadقارئین کرام آج کل حد درجہ صحافتی مصروفیات کی وجہ سے لکھنے پر توجہ نہیں دے پا رہا ،حالانکہ قلم اور صحافت کا رشتہ ایسے ہی ہے جیسے پورے جسم میں ریڑھ کی ہڈی کا ہوتا ہے ،اس لئے مصروفیات کی بنا پر لکھنے میں کمی تو ہوسکتی ہے مگر تحریروں کا سفر رک نہیں سکتا ۔اور ویسے بھی ملکی حالات پر سیاستدانوں کے کرتوتوں،بیوروکریٹ کی کارستانیوں اور انتظامیہ کی ہٹ دھرمی اور بے غیرتیوں پر اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اب بندہ کیا بار با انہی چیزوں کا راگ الاپتا رہے جبکہ ہمارے ملک کے نوے فیصد سے زائد دانشور ان چیزوں کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں اور لکھ لکھ کر اُن بیچاروں کی کمریں جھک گئیاور کئی داغ مفارقت دیکر داعی اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں مگر جنہیں شرم نامی چیز چھو کر بھی نہ گزری ہوں اُن پر ان تحریریوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا،ہاں لیکن حق گوئی ہم سب پر فرض ہے جو ہمیں ادا کرتے رہنا چاہیے کیا پتہ کسی بے ضمیر کے ضمیر کو کبھی جھنجھوڑ ہی ڈالے ۔
خیر میر�آج کا موضوع قطعی سیاست یا ملکی حالات نہیں،بلکہ میرا موضوع انسانیت ہے جو آج کل کمیاب ہوتی جا رہی ہے ،اپنے آس پاس کے لوگوں کا خیال ،بڑوں سے شفقت چھوٹوں سے صلہ رحمی ،ایک دوسرے کے حقوق کا خیال معاشرے سے آہستہ آہستہ کرکے ختم ہوتا جا رہا ہے ،یہاں اب ہر کسی کو صرف اپنی اپنی پڑی ہے ایک نفسانسی کا عالم ہے ،نہ کوئی کسی کے حال سے واقف ہے نہ احوال سے مطلب، خود غرضی حرص طمع کا بازار گرم ہے ۔
آپ ؐ نے فرمایا ’’مسلمان ہے ہی وہ جو اپنے ہاتھ اور زبان سے کسی کو دکھ نہ پہنچائے ‘۔‘ایک اور جگہ تاجدار کائنات نے ضرور دیتے ہوئے تین دفعہ دہرایا اللہ کی قسم وہ ایمان والا نہیں!پوچھا گیا کون؟ تو آپؐ نے جواب دیا وہ جو اپنے ہمسائے کو تنگ کرتا ہے وہ ایمان والا نہیں جو اپنے ساتھ رہنے والے کو تنگ کرتا ہے وہ ایمان والا نہیں جو کسی کو ناحق ستاتا ہے وہ ایمان والا نہیں۔
اب ہمیں خود سوچنا چاہیے ہم کیا کر رہے ہیں اور کس طرف جا رہے ہیں ، اگر زندگی میں راحت و سکون چاہیے تو برداشت کرنا سیکھویہی درس اسلام ہے یہی درس انسانیت ہے ، قصہ مختصرایک بزرگ نے درس انسانیت پر ایک بڑی جامع بات کہی ہے کہ جس کی زبان کھول گئی اُس کا دین گیا جس کی زبان ہاتھ میں آگئی اُس کا سارا دین ہاتھ میں آگیا۔
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو سمجھاتے ہوئے فرمایا’’ بیٹا میں چپ رہنے پر کبھی نہیں پچھتایا،مجھے چپ رہنے کا کبھی افسوس نہیں ہوا مجھے جب بھی افسوس ہوا اپنے بولنے پر ہوا کہ یہ میں نے کیا کہ دیا۔‘‘
افسوس اور دکھ کا مقام ہی یہی ہے کہ ہم کیا تھے کیا ہوتے جا رہے تھے ہمارے نبی ؐکا درس انسانیت مسلمانوں ہی کیلئے نہیں پوری انسانیت کیلئے مشعل راہ ہے اور ہم تو اُس عظیم ترین ہستی کے امتی ہیں جو ساری انسانیت کا معلم ہے جس نے اپنے سیرت و کردار سے سب کچھ عملی طور پر کرکے دکھایا تو کیا وجہ ہے ہم کیوں اپنے معلم کے دئیے ہوئے درس سے دور ہوگئے ،ہمیں تو اپنے نبیؐ کے بتائے ہوئے ہر طریقہ کا سب سے بڑا علمبردار ہونا چاہیے تھا۔
ایسے ہی آج مطالعہ میں مشغول تھا تو عربی کا ایک مشہور قصہ جو انسانیت کی ایک اعلیٰ مثال ہے نظر سے گزرا تو بڑی مشکل سے ترجمہ کر کے یہاں لکھ رہا ہوں جس میں بہت گہری نصیحت پنہاں ہے ،قصہ کچھ اس طرح ہے کہ ایک استاد اور شاگرد مسجد سے باہر نکل رہے تھے کہُ ان کی نظر ایک پرانے جوتے پر پڑتی ہے ،لگتا تھا کہ کوئی غریب شخص دیر تک مسجد میں بیٹھا ہوا ہے ،شاگرد نے اُستاد سے کہا کہ اگرہم اس کے جوتے چھپا دیں تو ہمیں یہ دیکھنے کا موقع مل جائے گا کہ یہ غریب شخص اس طرح کے حالات میں کیا کرتا ہے ،کیا دوسرے کی چپل یا جوتے پہن کر چلا جاتا ہے یا اس کا ردعمل کچھ اور ہوتا ہے؟۔
اُستاد نے جواب میں شاگرد سے کہاکہ یہ غیر مناسب لگتا ہے کہ ہم کسی کوتکلیف دیکر اُس کی پریشانی کا منظر دیکھیں،اگر دیکھنا ہی ہے تو میرے پاس اس سے بہتر طریقہ ہے کہ اُس کے جوتے میں ہم کچھ رقم چھپا دیتے ہیں،اور پھر دیکھتے ہیں کہ اُس کا رد عمل رقم ملنے پر کیسا رہتا ہے ۔اُستاد اپنی جیب سے کچھ رقم نکال کراُن جوتوں میں چھپا دیتے ہیں،اور وہ دونوں ایک جگہ چھپ کر یہ منظر دیکھنا شروع کردیتے ہیں کہ اب کیا ہوگا،وہ غریب مزدور شخص مسجد سے باہر نکلتا ہے اور اپنے جوتوں میں جب پیر داخل کرتا ہے تو اُسے احساس ہوتا ہے کہ اُس کے جوتوں میں کوئی چیز موجود ہے ،ہاتھ ڈال کر نکالنے پر حیرت سے دیکھتا ہے کہ وہ نوٹ ہیں اور دوسرے جوتے میں جب دیکھتا ہے تو دوسرے جوتے میں بھی اُسے پیسے ملتے ہیں،وہ مزدور رقم کو نکال کر اِدھر اُدھر دیکھتا ہے اور جب کوئی اُسے نظر نہیں آتاتو آسمان کی جانب نظر اُٹھا کر کہتا ہے کہ،اے اللہ تیرا بے حد شکر ہے کہ تو نے اپنے کسی بندے کہ دل میں یہ بات ڈال دی کہ میری بیوی سخت بیمار ہے ،میرے پاس اُس کے علاج کے تو درکناراپنے معصوم بچوں کو کھلانے کیلئے بھی کچھ نہیں ،اے اللہ اُس نیک انسان کو جزائے خیر عطا فرما۔اُس غریب شخص کی آنکھوں میں آنسو تھے اور وہ بار بار یہی الفاظ دہرا رہا تھاکہ ،اے اللہ تیرا شکر ہے میرے بچوں کی بھوک مٹ جائے گی ،میری بیوی کی دوائی آجائے گی۔
اُستاد نے شاگرد سے پوچھا کیسا محسوس ہورہا ہے کیا تاثرات ہیں اس ردعمل پر؟شاگرد کہتا ہے کہ آج میں نے آپ سے بہت کچھ سیکھا ہے ،میں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ حقیقی خوشی اُس وقت ملتی ہے جب آپ کسی کو کچھ دیتے ہیں کسی کی چیزیں لینے یا اُنہیں چھپانے میں خوشی نہیں صحیح معنوں میں تو خوشی دینے میں ہے ،اُستاد نے کہا کہ اے میرے بیٹے کسی شخص کو رقم دینا ہی خوشی نہیں بلکہ کسی بھائی کی غیر موجودگی میں اُس کیلئے دعا کرنا بھی اُس کی مدد کرنا اور خوشی دینا ہی ہے ،کسی کا عذر قبول کرنا اور غلطی کو معاف کردینابھی رقم دیکر خوشی دینے سے کم نہیں ہے ،لہٰذا دینے کی فکر کرو،دینے کی عادت ڈالو،معاف کرنے کی عادت ڈالو،شرعی عذر قبول کرو ،اچھا گمان رکھو اور بھائی کی غیر موجودگی میں اُس کا دفاع کروں اور کسی بھی شخص کو آزمائش اور امتحان میں نہ ڈالو۔
اے کاش مسلمانوں میں پھر سے ایسے استاد اور شاگرد والا جذبہ زندہ ہوجائے تو ایک جاندار اور شاندار معاشرہ قائم ہوسکتا ہے ،اللہ کریم ہم سب کو ایک دوسرے کا ساتھ اور مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

یہ بھی پڑھیں  ٹی 20ورلڈکپ کے گروپ تشکیل، پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں شامل

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker