پروفیسر مظہرتازہ ترینکالم

دہشت گرد کون ۔۔۔۔ ؟

پچھلے دنوں میرے دل کے بہت قریب ایک کالم نگار دوست میرے گھر تشریف لائے ۔اُن کے پاس انٹرنیٹ سے حاصل کی گئی ملالہ کی ڈائری ااور سلگتے ذہن میں سوالات کا طوفان تھا ۔انہوں نے کاپی میرے سامنے پھینکتے ہوئے کہا ’’بتائیں ملالہ نے اس میں کون سی قابلِ اعتراض بات لکھی ہے ‘‘؟۔میں نے کہاکہ میں نے کب کہاکہ ملالہ نے کچھ غلط کہا ہے ۔میں نے تو لکھا تھا کہ ایسی خبروں کی تردید ہونی چاہیے جن کے مطابق ڈائری ملالہ نے نہیں بلکہ کسی دوسری طالبہ نے لکھی تھی جسے ملالہ کے والد ضیاء الدین یوسف زئی نے ملالہ کے نام کے ساتھ منسوب کر دیا۔ضیاء الدین کے غیر ملکی میڈیا کے ساتھ تعلقات تھے اور ایک غیر ملکی نمائندہ چھ ماہ تک اُ سکے ساتھ رہا۔ملالہ پر حملے کے بعد اُس کے والد کی مالی حالت یکلخت تبدیلی دیکھنے میں آئی اور ملالہ کہتی ہے کہ داڑھی کو دیکھ کر مجھے فرعون یاد آ جاتا ہے ۔ملالہ سے منسوب اِن خبروں کی آ ج تک تردید نہیں ہوئی۔
محترم دوست کو اعتراض تھا کہ ملالہ کے ساتھ عافیہ صدیقی اور ڈرون حملوں کو کیوں نتھی کیا جا رہا ہے ؟ ان کا فرمان تھا کہ ’’فخر ہوتا ہے گھرانے کا سدا ایک ہی شخص‘‘ ۔۔ ۔ میں ایسی شاعرانہ توجیحات کا قائل تو نہیں پھر بھی دست بستہ عرض کیا کہ محترم ’’مقاماتِ آہ و فغاں اور بھی ہیں‘‘۔مزید یہ کہ اگر ایک وحشیانہ اقدام کی بنا پر قوم کے پچھلے سارے زخم ہرے ہوجاتے ہیں تو کسی کوکیا اعتراض ہے؟۔اگر ملالہ کے غم میں ٹسوے بہانے والے اوبامہ کے ڈرون اس سانحے کے اگلے ہی دن سکول کے اٹھارہ طالب علموں کی جان لے لیتے ہیں تو اس چنگیزیت کا ذکر کرنے میں کیا قباحت ہے؟۔اگر اقوامِ متحدہ ’’ملالہ ڈے‘‘ مناتی ہے تو باجوڑ سکول کے اُن اسی معصوموں کا ’’ڈے‘‘ کیوں نہیں جنہیں ڈرون نگل گیا؟۔ملالہ بھی ہماری اور وہ معصوم شہید بھی ہمارے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ ربِ کردگار کے کرم سے ملالہ زندگی کی طرف لوٹ آئی۔لیکن جن ماؤں کی کوکھ اجڑ گئی انہیں چنگھاڑتے درندے یہ پیغام دے رہے ہیں ۔
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقّفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں ، کوئی نہیں آئے گا
ملالہ پر حملہ کس نے کیا،کیوں کیا اور کس مقصد کے لیے کیا؟۔یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے لیکن اگر مشام تیز ہو توبہرحال کچھ اندازے ، کچھ تخمینے تو لگائے ہی جا سکتے ہیں۔
محترم کو یہ بھی گلہ تھا کہ مذہبی جماعتوں کے علماء طالبان اور خود کش حملوں کی مذمت نہیں کرتے۔عرض ہے کہ تمام مکاتبِ فکرکے جید علماء بہت پہلے یہ فتویٰ دے چکے ہیں کہ خود کش حملے حرام ہیں۔یہی نہیں بلکہ افغانستان پر روسی جارحیت کے دوران القاعدہ نے خود کش حملوں کو ’’حرام موت‘‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا البتہ کہیں بھی افراتفری پیدا کرنے کے لیے خود کش حملے اور ٹارگٹ کلنگ امریکہ کا یہ پسندیدہ ترین کھیل ہے۔نامور تجزیہ نگار سپنزک نے فارن پالیسی میگزین میں لکھا ’’پہلے خود کش پیدا کرو پھر اُن کے خلاف حملہ آور ہو جاؤ۔یہ ایک سادہ ، محفوظ اور کم خرچ طریقہ ہے ۔یہ بڑے پیمانے پر ہلاکتوں اور نقصان کی گارنٹی دیتا ہے ۔مرنے کی وجہ سے خود کش بمبار کسی کو کچھ بتا بھی نہیں سکتا اور میڈیا اور عوام پر اس کا گہرا اثر بھی پڑتا ہے‘‘۔ سابق امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری خزانہ پال گریگ رابرٹ نے ’’کاؤنٹر پنچ ‘‘ میں لکھا ’’ افغان جنگ کا اصل مقصد مزید دہشت گرد پیدا کرنا ہے کیونکہ امریکہ حکومت کومسلمانوں کے خلاف جنگ کے دائرے کو وسعت دینے کے لیے مزید دہشت گرد اور مزید دہشت گردی درکار ہے ‘‘۔سوال مگر یہ ہے کہ امریکہ یہ سب کچھ کیوں کر رہا ہے ؟ اس کا جواب خود معروف امریکی معیشت دان پال بی فریل نے یوں دیا ہے ’’امریکی معیشت نہ زرعی ہے نہ صنعتی پیداوار کی ۔آؤ ہم ایماندار بن جائیں اور یہ اعلان کریں کہ ہماری معیشت غیر اخلاقی ، مجرمانہ ، غضب ناک ، دھماکہ خیز اور انتہائی ظالمانہ جنگوں کی معیشت ہے ۔ہمیں جنگوں کی ضرورت اور جنگوں سے پیار ہے ۔جنگ ہمارے لیے تورات اور انجیل ہے‘‘۔اگر اس امریکی ذہن کو مدِ نظر رکھا جائے تو وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ کراچی اور کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کبھی بند نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ امریکی پالیسی کا حصّہ ہے اور ان مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے امریکہ نے حسین حقانی کے ذریعے سی آئی اے کے تین ہزار کارندے پورے پاکستان میں پھیلا رکھے ہیں۔یہ وہی حسین حقانی ہیں جنہیں میموگیٹ کمیشن غدار قرار دے چکا ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ امریکہ نے ویت نام میں بھی ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے بڑے بڑے لیڈروں کو ٹارگٹ کرکے افرا تفری پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب ریٹائرڈ ایڈمرل لارڈ فشر تک یہ کہتے ہوں کہ ’جنگ میں اعتدال بیوقوفی ہے کیونکہ اس کا جوہر تشدد ہے‘‘۔تو پھر نام نہاد طالبان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا بھی سمجھ میں آتا ہے ۔ایسا امریکہ لیبیا میں بھی کر چکا ہے ۔جہاں اُس نے القاعدہ کے ساتھ معمر قذافی کے خلاف گٹھ جوڑ کیا۔ہیلری کلنٹن نے القاعدہ کے اتحادی اسلامک فائیٹنگ گروپ کے رہنما محمود جبریل سے ملاقاتیں کیں ، القاعدہ کے رہنماؤں ابو اللیث ، ابو خراج ، سفیان بن قومو اورعبد الحکیم الحاسوی کو قذافی کے ساتھ لڑنے کے لیے ڈھیروں ڈھیر امریکی اسلحہ دیا گیا۔سفیان بن قومو القاعدہ کا وہ رہنما ہے جو گوانتاموبے جیل میں چھ سال گزار بھی چکا ہے ۔عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ کی دوستی اور دشمنی خالصتاََ اُس کے ذاتی مفاد سے وابستہ ہوتی ہے۔اس لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں کہ وہ اپنے زر خریدغلاموں کو طالبان کا روپ دے کر یہ سب کچھ خود ہی کروا رہا ہو ۔سبھی کو یاد ہے کہ 24 مارچ 2006 ء کو پاک فوج نے عسکریت پسند نیک محمد سے امن معاہدہ کیا اور امریکہ نے 18 جون 2006 ء کو اسے ڈرون حملے میں مار دیا ۔30 جون 2006 ء کو عسکریت پسندی کے مکمل خاتمے کے لیے معاہدہ ہونے والا تھا لیکن اسی دن امریکہ نے باجوڑ میں سکول پر ڈرون حملہ کرکے 80 بچے شہید کر دیئے اور یہ معاہدہ نہ ہو سکا۔کسے نہیں معلوم کہ سوات میں مولوی فضل اللہ کا گروپ ہی دہشت گرد ی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور فضل اللہ کابل میں سی آئی اے کی پناہ میں ہے اس لیے اگر کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ملالہ پر حملہ امریکی سازش کا حصہ ہے تو کچھ غلط بھی نہیں ہے۔میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ طالبان کے کئی نہیں بلکہ صرف دو گروپ ہیں ۔ایک وہ جو افغانستان میں ملّا عمر کی سر براہی میں نیٹو افواج کو ناکوں چنے چبوا رہا ہے اور دوسرا وہ جو امریکی سر پرستی میں پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے ۔یہ نام نہاد طالبان کا وہی گروپ ہے جس کا دین سے کوئی تعلق ہے نہ ملک و ملت سے ۔یہ وہی گروپ ہے جس سے ملّا عمر کئی بار لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں۔ اس لیے دست بستہ عرض ہے کہ مذہبی جماعتوں کو رگیدنے اور نشانۂ تضحیک بنانے کی بجائے ان ہاتھوں کو تلاش کریں جو فساد کی جڑ ہیں

یہ بھی پڑھیں  سرائے مغل۔ ہیڈ بلوکی روڈ کھنڈرات بن گئی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker