تازہ ترینعلاقائی

ڈسکہ: ڈاکٹر شاہد فاروق نے انسانیت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا

ڈسکہ﴿نامہ نگار﴾ آپریشن دوران انسانی اعضا غائب اور تجربے کرکے مریضوں کی وجہ موت بنناڈاکٹر شاہد فارو ق کا اخلاقی مذہبی معاشرتی قانونی اور پیشہ ورانہ جرم ہے ایسا کرکے ڈاکٹر شاہد فاروق نے انسانیت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے محاسبہ کرنا سول سوسائٹی سمیت معاشرے کے ہر فرد کی اجتماعی ذمہ داری ہے ان خیالات کا اظہار مختلف مذہبی سماجی سیاسی تجارتی راہنماوں صوبائی امیر جماعت اہلسنت قاری خالد محمود صوبائی نائب ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہلحدیث حافظ عبدالغفارسابق ممبر صوبائی اسمبلی ق لیگ ممتاز علی چودھری سابق تحصیل ناظم اعجاز احمد چیمہ سابق تحصیل نائب ناظم محمد عمران بٹ ایڈووکیٹ صدر مرکزی انجمن تاجراں میاں محمد اشرف صراف کنوینئر مصالحتی کمیٹی شہباز علی محسن راہنما تحریک انصاف محمد آصف خان شیر وانی ٹکٹ ہولڈر پیپلز پارٹی قاری ذوالفقار علی سیالوی ضلعی صدر ن لیگ یوتھ ونگ ڈاکٹر امین رضا رہنما جے یو پی شاہد انصاری راہنما سنی تحریک سجاد قادری صدر شباب ملی اعجاز گھمن راہنماجماعت اسلامی محمد افضل لون صدر صرافہ ایسوسی ایشن رانا محمد شبیر چیئر مین ینگ بلڈ فائونڈیشن بشیر احمد ناز تحصیل امیر فلاح انسانیت فاونڈیشن خلیل الرحمن سماجی راہنما محمد ارشد جٹھول صدر تحریک تحفظ پاکستان ناصر محمود رانجھا نے ڈاکٹر شاہد فاروق کے غلط آپریشن سے جاں بحق ہونے والے صحافی کامران افضال کے اعضائ غائب ہونے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے پر کیا راہنماوں نے کہا کہ ڈاکٹر شاہد فاروق کومریضوں کی جانوں سے کھیلنے کا کوئی حق نہیں تھا اور اعضا نکالنے والوں کا فوری لائسینس کینسل کرکے مریضوں کی جانیں بچائی جائیں انہوں نے کہا کہ قبروں سے نعشیں نکالنا اور دوران آپریشن اعضائ غائب کرنا دونوں ایک جیسے بڑے جرم ہیں اور اپنے حقیقی بھائی کا گوشت کھانے خون پینے کے مترادف ہے

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: نامعلوم افرادکی فائرنگ ایک شخص قتل جبکہ موٹر سائیکلوں اور ٹرک کے تصادم میں محنت کش ہلاک تین افراد زخمی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker