بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

آذادکشمیر کا دسواں ضلع۔۔۔ہٹیاں بالا

بہت سے قارئین کو مجھ سے شکایت ہے کہ میں اپنے ضلع کے مسائل کم زیر بحث لاتا ہوں ،ان سے معذرت سے عرض ہے کہ میرے کالم پچاس سے زائد قومی اخبارات میں شائع ہوتے ہیں اور کئی انٹرنیشنل نیوز ایجنسیاں بھی اپ لوڈ کرتی ہیں اس کے پیش نظر قومی سطح پر ہی زیادہ کالموں کو محیط رکھنا پڑتا ہے تاکہ وطن عزیز سے وفا رکھنے والے صحافتی خدمات سے استفادہ حاصل کر سکیں۔بہرحال اپنے آبائی ضلع سے کسی طور کنارہ کش بھی نہیں ہو سکتا ۔آج اپنے ضلع کے بارے قارئین کی دلچسپی ،اصرار اور اجتماعی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ارباب اختیار تک چند مسائل و معاملات زیر نظر کرنا چاہوں گا۔اگرچہ عمومی طور پر عوامی مسائل بے شمار ہیں لیکن نیا ضلع بننے کی بنا پر جن مسائل کا عوام کو سامنا ہے اس سے باخبر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
آذادکشمیر کا ضلع ہٹیاں بالا قائم ہوئے دو سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے ۔ماضی میں یہ آذادکشمیر کی سب سے بڑی تحصیل تھی جسے ضلع بنائے جانے کے لئے سب سے پہلے حلقہ کے نامور اور ملک کے شہرت یافتہ شخصیت سابق سپیکر،سینئر وزیر،قائد حزب اختلاف اور صدر پی پی پی آذادکشمیر صاحبزادہ اسحق ظفر ؒ کی شروع کردہ ’’ضلع بناؤ‘‘ تحریک پر سابق اتحادی حکومت کے وزیر اعظم (صدر)سردار محمد یعقوب خان نے مسلم لیگ ن کے صدر و قائد حزب اختلاف راجہ فاروق حیدر خان کی تجویز،مشاورت اور عوامی مطالبہ پر ضلع کا درجہ دینے کا نوٹیفکشن جاری کیا ۔اس طرح ضلع ہٹیاں بالا کے قیام سے عوام کا درینہ مطالبہ پورا ہوا اگر چہ ضلع ہٹیاں بالا کے قیام کے بارے پی پی پی اور مسلم لیگ ن دونوں اپنا اپنا کردار ظاہر کر کے عوام میں فخریہ انداز سے اعزاز کا مستحق سمجھتیں ہیں بلاشبہ تحریک کے بانی صاحبزادہ محمد اسحق ظفر تھے مگر اس تحریک کو عملی جامہ پہنانے میں راجہ فاروق حیدر خان کے جرات مندانہ اقدام کو ہر گز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،کیونکہ انہوں نے اپنے سیاسی حریف کی تحریک کو جس دور اندیشی اور جرات مندی سے تسلیم کروایا یہ ان کی سیاسی فتح ثابت ہوئی ۔
ہٹیاں بالا ضلع بن گیا ،ضلعی افسران بھی براجمان ہوگے ،دیگر انتظامی ادارے بھی قائم کر لئے گے ۔عوام نے سکھ کا سانس لیا کہ اب ان کے مسائل کا ازالہ ممکن ہو جائے گا،مگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ’’ضلع‘‘ عوام کے لئے وبال جان بنتا گیا جس بارے راجہ فاروق حیدر خان کے قبل ازیں خدشات تھے وہ درست ثابت ہوتے گے ۔سب سے پہلے نادرا نے عوام کو یہ خوشخبری سنائی کہ ان کے شناختی کارڈ تبدیل ہونگے ۔کیونکہ ضلع بننے کے بعد تحصیل ہٹیاں بالا کی بجائے ضلع ہٹیاں بالا کا اندراج ضروری ہو چکا ہے ۔اس آفت انسانی کے آنے سے یہ ہوا کہ اب نادرا والے 200سے 1500روپے تک شناختی کارڈ فیس لینے کا سلسلہ شروع کئے ہوئے ہیں ،یہی نہیں بلکہ محکمہ تعلیم نے طلباء و طالبات پر لازم کردیا کہ ان کا داخلہ بغیر فارم ب کے قابل قبول نہیں ہوگا۔جبکہ نادرا نے فارم ب کے لئے پیدائش کا سرٹیفکیٹ لانا لازم قرار دیا جس کے حصول کے لئے فی فارم 200روپے ادائیگی سیکرٹری یونین کونسل کے ذریعے ضروری قرار دی گئی ہے اور 50روپے فارم ب کے وصول کئے جا رہے ہیں ،اس پراسس کے نتیجہ میں عوام کا قیمتی وقت اور مالی نقصان کیا جا رہا ہے عوام کو اپنی شہریت کے حصول کے لئے نادرا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جس سے ہر شہری طویل قطاروں میں کئی کئی دنوں کے انتظار میں خوار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔اس ساری صورت حال پر کوئی لب کشائی بھی نہیں کر رہا ہے ،عوام کے بہی خواہ بھی عوامی لاچاری اور بے بسی کا خاموشی سے نظارہ لے رہے ہیں ، کوئی یہ پوچھنے کی جسارت بھی نہیں کر رہا ہے کہ جناب ! ہم اس ملک کے شہری ہیں ہمیں بار بار کیوں شہریت کی تجدید کے لئے رسواء کیا جا رہا ہے؟ عوام کے جیبوں پر نظر رکھنے والے ہمیشہ ایسا راستہ اختیار کرتے ہیں جس سے عوام کی کھال اتر سکتی ہو،اس ضمن میں ہر ادارے کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کس طرح چھری تیز کر سکتے ہیں۔بہرحال یہ انتہائی قابل شرم اور قابل افسوس امر ہے کہ وطن عزیز کے شہریوں کو اپنی تجدید شہریت کے نام پر یہیں نہیں بلکہ پورے ملک میں یکساں لوٹا اور خوار کیا جا رہا ہے۔یہ ضلع بننے کے بعد ہٹیاں بالا کے عوام کو پہلا تحفہ ملا ۔اب مختصراً کچھ اور مسائل بھی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔جنگلات ضلع کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہے مگر اس کا ضلعی ادارہ ابھی تک قائم نہیں کیا گیا جس سے ضلع کی آمدن ضلع مظفرآباد منتقل ہو رہی ہے ۔اس پر کسی نے ابھی تک غور نہیں کیا کہ ضلع کا اپنا حق کیسے لیا جائے ؟ ضلع کونسل اور بلدیہ میں ابھی تک نہ پورا سٹاف ہے اور نہ ہی انہیں متحرک کرنے کے لئے فنڈز مختص ہیں ۔پولیس کی نفری انتہائی محدود اور تحصیل سطح کی ہے جو کسی بھی ہنگامی صورت حال میں ناکافی اور زیادہ تر انتظامی افسران کے ہمراہ خصوصی ڈیوٹی پر مامور ہونے کے سبب اپنے کلی فرائض سے پہلو تہی کا شکار ہے۔ڈسٹرکٹ ہسپتال کا یہ عالم ہے کہ جو سٹاف اور سہولیات اس سطح پر ہونا ضروری ہیں وہ میسر نہیں۔
یوں ضلع ہٹیاں بالا نام کے اعتبار سے ضلعی صدر مقام ہے مگر عوام کئی مسائل اور مشکلات سے دوچار ہیں ۔انتظامی صورت حال بھی تسلی بخش نہیں اس پر آئندہ تفصیلی روشنی ڈالی جائے گی ، ترقیاتی فنڈز بھی تحصیل سطح کے ہیں جس سے عوام متاثر ہورہے ہیں ۔حکومت کو چاہئے کہ وہ ضلع کے منافع بخش اداروں کو قائم کرئے اور ضلع کے ترقیاتی فنڈز مساوی طور پر تقسیم کئے جائیں ،پیدائش کے سرٹیفکیٹ پر لاگو 200روپے کی فیس کم کر کے 50 روپے تک کی جائے نیز شناختی کارڈ کی تبدیلی پر عائد کردہ فیس کم کی جائے اور قطاروں میں کھڑے عوام کو رسواء نہ کیا جائے ،نادرا ہنگامی بنیادوں پر ڈیسک میں اضافہ کرئے تاکہ ہر شہری آسانی کے ساتھ شناختی کارڈ حاصل کر سکے ۔ضلع کونسل اور بلدیہ کو متحرک کرنے کے لئے سٹاف پورا کیا جائے نیز استحقاق کی بنیاد پر فنڈز فراہم کئے جائیں۔پویس کی نفری جو ابھی تک تحصیل لیول کی ہے اسے بڑھایا جائے اور دیگر اداروں میں بھی موجود خلاء پُر کیا جائے۔انٹرا کشمیر تجارت جو گذشتہ کئی ماہ سے دن بدن کم ہوتی جارہی ہے اس سے ٹیکسوں کا ماحاصل گرتا جارہا ہے جس سے انتظامی طور پر کافی خلل ہو رہا ہے ،حکومت کو چاہئے کہ وہ اس ضمن میں وزارت امور کشمیر اور وزارت خارجہ کی ذمہ داریوں کا جائیزہ لیکر مفید فیصلے کرئے۔اس وقت ضلع ہٹیاں بالا میں تین بجلی گھر چل رہے ہیں جن کی آمدن اور منافع کو ضلعی سطح پر رکھا جائے اور بجلی کی مقامی پیداوار ہونے کی بنا پر بجلی کے نرخوں میں کمی کی جائے ۔جنگلات ضلع کا قیمتی خزانہ ہے جسے ضلعی عوام کی ضروریات کے لئے ارزاں نرخوں پر فراہم کو یقینی بنایا جائے ۔روزگار کے مواقع بڑھانے کے لئے ایسے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے جو باآسانی خام مال کی دستیابی سے فرنیچر بنانے کے کارخانے لگانا چاہتے ہوں ۔امید کی جاتی ہے کہ ان مسائل کے حل کے لئے عوامی نمائندے اور انتظامیہ بھر پور انداز سے اقدامات اٹھائیں گے تاکہ عوام ضلع بننے کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیں  وقار یونس نے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ میں شکست پر ہاتھ جوڑ کر قوم سے معاف مانگ لی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker