شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / داتا کی نگری میں دہشت گردی کی واردات

داتا کی نگری میں دہشت گردی کی واردات

مقدس ماہ صیام کے دوسرے روزے کو صوفی بزرگ حضرت داتا گنج بخش علی ہجویریؒکے سامنے انتہائی مصروف روڈ پر ہر وقت لوگوں کا جم غفیرتھایہ انتہائی مصروف جگہ ہے یہاں دن اور رات کا پتا نہیں چلتا، انتہائی گنجان آباد علاقے میں واقع دربار شریف پر روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں زائرین آتے ہیں،دربار کے ساتھ بازار،رہائشی آبادیاں،مارکیٹیں،عمارتیں موجود ہیں دربار شریف کی سیکیورٹی پر مامور ایلیٹ فورس کی گاڑی نمبر56گیٹ نمبر دو کے سامنے کھڑی تھی جس میں انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز موجود تھے کہ8.45بجے دربار شریف سے ملحقہ گلی سے سیاہ رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ویس کوٹ پہنے تقریباً 15سالہ نوجوان پیدل گاڑی کے قریب پہنچا اور خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا حملہ آور پہلے شیش محل روڈ کی جانب گیا پھر ذیلدار روڈ پر آ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیالگتا ہے خود کش حملہ آور دربار شریف کے اندر داخل ہونا چاہتا تھا،دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنائی دی ہر طرف دھواں پھیل گیا قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے خوف وہراس کی فضا میں ہر لاشے بکھر گئے ہر طرف خون ہی خون نظر آنے لگا افراتفری پھیل گئی لوگ ڈر اور خوف کے مارے وہاں سے بھاگنے لگے حملہ آور کے چیتھڑے اڑ گئے اداروں کو اس کا ایک بازو مل گیا،دیسی ساختہ خود کش جیکٹ میں 8سے10کلو دھماکہ خیز مواد میں بال بیرنگ کے علاوہ آگ لگانے والا کیمیکل بھی موجود تھا، دہشت گرد اگر یہی دھماکہ رش ایریا میں کرتا تو اموات کی شرح کہیں بڑھ جاتی مگر اس کا اصل ٹارگٹ پولیس ہی تھی دھماکہ میں پولیس وین مکمل طور پر تباہ ہو گئی شہید اہلکاروں میں سہیل احمد،شاہدنذیر،گلزار احمد،سہیل صابر اور محمد سلیم شامل ہیں پولیس گاڑی کا ڈرائیور معجزانہ طور پر محفوظ رہا دہشت گردی کی بھیانک واردات میں چار پولیس اہلکاروں،نجی سیکیورٹی اہلکاررفاقت علی اور نا معلوم بچہ،دو خواتین سمیت10افراد شہید جبکہ 30کے قریب زخمی ہوئے جن میں سے 8افراد کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے زخمیوں جن میں پولیس اہلکار شہری اور خواتین بھی شامل ہیں کو میو ہسپتال اور لیڈی ولنگٹن ہسپتال پہنچایا گیا،دھماکہ کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے نے علاقہ کو گھیرے میں لے لیا رینجرز کے جوان موقع پر پہنچ جائے،لاہور کے مختلف مقامات پر فوری طور پر سرچ آپریشنز کا آغاز کر دیا گیا متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے،دربار حضرت داتا گنج بخشؒ کو زائرین کے لئے مکمل طور پر بند کر دیا گیا جبکہ احاطہ دربار شریف میں موجود تمام زائرین کو باہر نکال دیا گیا،ایلیٹ فورس کی گاڑی سیکیورٹی کی وجہ سے روازنہ ہی اس ایریا میں موجود رہتی تھی جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں پر سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت 6کیمرے نصب ہیں جن کی مدد سے خود کش حملہ کی پوری نقل و حمل واضح نظر آئی،سیکیورٹی اداروں کے مطابق مطابق خود کش بمبار کی شناخت کر لی گئی ہے تاہم پھر فنگرز پرنٹ کی مزید تصدیق کے لئے نادرا سے مدد لی جا رہی ہے تاہم حملہ آور بارے متعلق حقائق بہت جلد سامنے لائے جائیں گے سی سی ٹی فوٹیج کے ذریعے حملہ آور کی نقل و حمل اور اس کے سہولت کار کی تلاش کے لئے تمام ذرائع بروئے کار لا جا رہے ہیں ان تحقیقات میں حساس اداے بھی شامل ہیں اس المناک واقعہ کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے تاہم حتمی رپورٹ آئی جی پنجاب خود وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کریں گے، واردات کے بعدفوری طور پر لاہور کے تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی ناٖفذ کر دی گئی شہر بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ جبکہ تمام اہم مقامات پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی،جبکہ شہر اقتدار اسلام آباد میں موجود درباروں حضرت امام بری سرکار ؒ اور گولڑہ شریف پر بھی پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی،اس کے علاوہ صوبہ بھر میں موجود تمام اہم درباروں،مساجد اور مقامات پر سیکیورٹی کے حوالے سے پنجاب حکومت نے خصوصی ہدایات جاری کر دیں،وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار دہشت گردی کی اطلاع ملتے ہی اپنا،سرگودھا،بھکراور شیخو پورہ کے دورے منسوخ کرنے کے بعدسیف سٹی ہیڈ کوارٹر پہنچ گئے جہاں انہیں ایک اجلاس کے دوران مکمل طور پر دہشت گردی کی اس واردات کے حوالے سے فوٹیج دکھائی دینے کے بعد بریفنگ دی گئی،بعد میں وزیر اعلیٰ صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت علی اور معاون خصوصی شہباز گل کے ہمراہ جائے وقعہ پہنچے اور معائنہ کیا،ان سے قبل آئی جی پنجاب ڈاکٹر عارف نواز،سی سی پی او بی اے ناصر،ڈی آئی جی آپریشن اشفاق احمد خان جائے وقوع اور ہسپتال پہنچے،صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر راشدہ یاسمین،کمشنر و ڈپٹی کمشنر لاہور بھی جائے وقع اور ہسپتال پہنچے، گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور خود کش دھماکے کے مقام پہنچے اور کہا دہشت گردی کے اس واقعہ سے پوری قوم صدمے میں ہے، آئی جی پنجاب کے مطابق حملہ آور کا اصل ٹارگٹ ہی پولیس اہلکار تھے،(اب تک لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کے دوران 2300سے زائد پولیس اہلکار و افسران شہید ہو چکے ہیں)،آئی جی نے کہا شہادتوں کے باوجود ان کی فورس کے حوصلے بلند ہیں جنہیں بز دل دشمن پست نہیں کر سکے گا دہشت گردی کے مرتکب ناسوروں کوہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا آئی جی پنجاب نے للاہور سمیت صوبہ بھر کے آرپی اوز کو خصوصی ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ خود فلیڈ میں جا کر حساس مقامات اور عمارتوں کا جائزہ لیں، عثمان بزدار نے بتایا کہ دہشت گردی کی اس واردات سے لاہور کے امن کو تار تار کرنے کی کوشش کی گئی ہے مگر ہم امن دشمنوں کو بھاگنے نہیں دیں گے دہشت گردی کے حوالے سے تھریٹس ملتے رہتے ہیں مگر دربار حضرت داتا گنج بخش کے قریب کسی نوعیت کی دہشت گردی کی کوئی انٹیلی جنس نہیں تھی دہشت گرد سن لیں قوم کا عزم بہت بلند ہے جسے پست نہیں کیا جا سکتا،دہشت گردی کا شکار ہونے والے تمام افراد کی مالی امداد بھی کی جائے گی،وزیر اعظم عمران خان نے دھماکہ سے ہونے والے جانی نقصان پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کر لی اور زخمیوں کو ہر ممکن سہولت دینے کا حکم دیا،وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ ملک کی سیکویرٹی پالیسی پر مکمل نظر ثانی کی جائے گی دوبارہ ایسے واقعات کا رونما ہونا بد قسمتی ہے،وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہاہمارا عزم دہشت گردوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے ریاست نے کبھی دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے ہمارے تمام سیکیورٹی ادارے ملک کو امن کا گہوارہ بنانے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں،اپوزیشن لیڈر شپہباز شریف نے لندن سے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل نہ کرنا افسوسناک ہے غور کرنا ہو گا کہ ایسے واقعات دوبارہ کیوں شروع ہو گئے ہیں؟بلاول بھٹو زرداری نے کہاملک دشمنوں کے خلاف پولیس کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں ایسے ناسوروں کو قومی دھارے میں لانے کی بجائے نشان عبرے بنایا جائے،لاہور میں ہونے والے خود کش دھماکہ کی صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی،سپیکر قومی اسمبلی تمام صوبوں کے گورنرز،وزراعلیٰ سمیت کئی سیاستدانوں نے مذمت کی۔دربار داتا گنج بخش ؒ کے احاطہ میں 2010میں دو خود کش بمباروں نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا جس کے نتیجہ میں 50افراد شہید جبکہ دو سو سے زائد زخمی ہوئے تھے، وطن اور قوم کی محبت سے سرشار اور بلند حوصلوں کے ساتھ ایلیٹ فورس کے نوجوان نئی گاڑی کے ساتھ اسی جگہ ڈیوٹی دینے پہنچ گئے ان کے مطابق ان کے دل میں کوئی خوف نہیں،دربار شریف کو بھی 6گھنٹے بند رکھنے کے بعد زائرین کے لئے کھول دیا گیا،سیکیورٹی اداروں کی جانب سے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر اگلاٹارگٹ احاطہ دربار بھی ہو سکتا ہے جس کے لئے فول پروف انتظامات کو یقینی بنایا جا رہا ہے،لاہور کے حساس ترین علاقہ میں ہونے والی دہشت گردی کی ذمہ داری کالعدم تنظیم حزب الحرار نے قبول کی ہے،سی ٹی ڈی تھانہ میں اس ایچ او عابد بیگ کی مدعیت میں خود کش بمبار سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے باقی دونوں ساتھیوں نے حملہ آور کو ہاتھ ہلا کر الوادع کیا جو مینار پاکستان کی جانب سے آئے اور ساتھی کو چھوڑ کر ملحقہ آبادی میں چلے گئے،ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کا نیٹ ورک اسی علاقہ میں فعال ہے،اس واردات کے تانے بانے بھارتی ایجنسی RAWسے مل رے ہیں،

یہ بھی پڑھیں  اویس شاہ کا اغوا: پاکستان بار کونسل کا عدالتیں بند رکھنے کا اعلان

error: Content is Protected!!