تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

دعوے ترقی کے، کرپشن اور اُمیدِزندگی

zafarایک خبر کے مطابق ہنگری کے ایک ہسپتال میں مصنوعی سانس پر زندہ ایک خاتون نے بچی کو جنم دیا ہے۔ہسپتال حکام کا کہنا ہے کہ بچی صحت مند اور بالکل ٹھیک ٹھاک ہے جبکہ اس کی والدہ دماغی طورپر وفات پاچکی ہے۔واضح رہے کہ مذکورہ خاتون نے اپنی وفات سے دوروزقبل اپنے دل،جگراورگردے عطیہ کردیئے تھے۔ ایسے واقعات روزمرہ زندگی کا معمول تو نہیں اس لئے یہ لوگوں کے لئے دلچسپی کی خبرضرور ہوگی مگر اتنی حیران کن اس لحاظ سے نہیں کہ ماہرین طب کے نزدیک اگر کوئی خاتون جسمانی لحاظ سے زندہ ہو تو بچہ جنم دے سکتی ہے ۔مذکورہ خبر میںیہ تذکرہ بھی کہ بچی جنم دینے والی خاتون نے مرنے سے دوروز قبل اپنے جسمانی اعضاء عطیہ کردیئے تھے اہمیت رکھتی خبر ضرور ہے مگر جسمانی اعضاء عطیہ کردینے کی ایسی خبریں اکثروبیشتر سننے اور پڑھنے کوملتی ہیں اور اس حوالے سے سری لنکن عوام قابل ذکر ہیں کہ وہ مرنے سے پہلے اپنی آنکھیں عطیہ کردیتے ہیں۔مذکورہ خبرکی اگر ہمارے لئے کوئی اہمیت ہے تو وہ سوچنے اورغورکرنے کی ہے کہ مملکت خداداد پاکستان سے چند سال قبل یا کچھ سال بعد آزادی کا سورج دیکھنے والے ممالک کی ترقی کا آج یہ حال ہے کہ وہاں لوگ مر کر بھی زندہ ہیں اوریہاں زندہ رہتے ہوئے بھی لوگ محض لاشیں بن گئے ہیں۔ان ممالک میں سہولیات کی یہ حالت کہ نیم مردہ خاتون بچہ جنم دیتی ہے اور جنم لینے کے بعد بچہ صحت منداور ٹھیک ٹھاک ہوتاہے مگریہاں پسماندگی کا یہ عالم کہ صحت مند خاتون رکشہ،فٹ پاتھ اور بس سٹاپ پر بچہ جنم دیتی ہے تو زچہ بچہ کی موت واقع ہوتی ہے یا دونوں میں کسی ایک کی۔۔جبکہ ہسپتال میں جنم لینے والے بچے تو پیدائش کے بعد اغواء ہوجاتے ہیں اور ان کے والدین یہ سوچ کر خود کو موردالزام ٹھراتے ہیں کہ انہوں نے بچہ پیداکرنے کا گناہ کیوں کیا۔۔چند سال قبل جب یہاں حالات نارمل ہواکرتے تھے اور غیر ملکی لوگ بغیر کسی قدغن اور سیکورٹی خطرات کے چلتے پھرتے دکھائی دیتے تھے ان دنوں مقدس ماہ رمضان میں پشاور سے بائی روڈ چترال جانے والے ایک غیر ملکی نے بازاروں میں سڑک کے کنارے پڑے پکوڑے ،اچاراور شربت سمیت ایسے اشیائے خوردونوش جنہیں کھانے سے قبل دھویاجاتاہے نہ دھویاجاسکتاہے دیکھ کر کہا تھا کہ ان جیسے طاقتور لوگ نہیں ہیں جو یہ سب چیزیں کھاکر بھی زندہ ہیں۔ لیکن اس غیرملکی نے شائد سانس لیتے دیکھ کر ہمیں زندہ لوگ قرار دیا تھااس نے اس بات پر غور نہیں کیاتھا کہ محض سانس لینازندہ رہنے کی علامت نہیں ہواکرتی۔۔بلکہ زندہ رہنے کے لئے معیاری غذاء ،پینے کا صاف پانی،آلودگی سے پاک و صاف ماحول،بہتر طبی سہولیات، صحت مند معاشرہ کی تشکیل کے لئے کھیل کود جیسی توانا سرگرمیوں کی ضرورت ہوتی ہے اگر ضروریات کی یہ تمام سہولیات کسی ملک اور معاشرہ کے عوام کومیسرہوں توانہیں زندہ کہاجاسکتا ہے لیکن ان کے بغیر کسی قوم کو زندہ کہنا تویہ اس قوم کامذاق اڑانے کے مترادف ہوگا اس کے سواء کچھ نہیں ۔۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ ایسا کیوں ہے کیا یہاں حکومت اور انتطامیہ نہیں ہے،کیا یہاں ریاستی ادارے اور حکومتی انتظامی محکمے نہیں ہیں، کیا یہاں جمہوریت اور عوام کے ووٹ کے ذریعے ان کے نمائندوں کے چناؤ کا عمل نہیں ہے،کیا یہاں قانون ساز ادارے نہیں ہیں،کیا یہاں طبی مراکز نہیں ہیں اوراگر ہیں توکیا ان میں طبی عملہ نہیں ہے ،کیا اس ملک کا آئین اور قاعدہ قانون نہیں ہے۔۔ ڈھونڈنے پر جواب ملے گا کہ کیوں نہیں یہاں تو یہ سب کچھ ہیں اور وہ سب کچھ بھی جو ترقی یافتہ ممالک اور وہاں کے معاشرے میں موجود ہوتے ہیں تو ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ پھر ایسا کیوں ہے وہاں اور یہاں کے معیار زندگی اور طرززندگی میں اتنا فرق اور واضح تضاد کیوں ہے۔کیا اس لئے نہیں کہ یہاں ادارے موجود ہیں مگر ان کی کارکردگی صفر ہے تمام ادارے غفلت ولاپرواہی کے شکارہیں،یہاں معیاری زندگی کے لئے تمام قاعدہ قانون موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہے،یہاں جمہوری نظام بھی ہے اور عوام کے ووٹ سے ان کے نمائندوں کے چناؤ کا عمل بھی مگر کیا کہیں ان نمائندوں کا جو منتخب ہونے کے بعد اپنے انتخاب اور منتخب ایوانوں میں جانے کا مطلب و مقصد ہی بھول جاتے ہیں یا انہوں نے منتخب ایوانوں تک رسائی کو ٹھیکیداری نظام اور کاروباری معاملات سے تعبیر کیا ہواہے کہ ڈگری اصلی ہو یا جعلی،تشدد اور قتل وغارت گری کے بل بوتے پر ہو یا انتخابی دھاندلی کے سہارے بس سرمایہ کاری کرتے جاؤ اور منتخب ہوکرپھرالزامات چاہے دھاندلی کے لگیں یا کرپشن کے بس کماتے جاؤ۔۔لیکن عوام کرے بھی تو کیا کرے کسی ایک جماعت پر کرپشن کا الزام ہو تو عوام اس کی جگہ اپنے اعتماد کا اظہار کسی دوسرے جماعت پر کرے لیکن یہا ں لگتا یہ ہے کہ سب نہائے ہیں کرپشن کی گنگا میں ۔۔خیبرپختونخواحکومت میں اہم اتحادیوں کا اتحاد ٹوٹ جانا اور دونوں کا ایک دوسرے پر کرپشن کے سنگین الزامات عائد کرنا اس کی واضح مثال ہے کہ تحریک انصاف نے مخلوط حکومت میں شامل جماعت قومی وطن پارٹی کے دو وزراء وزیر محنت و افرادی قوت بخت بیدار خان اور وزیر جنگلات حاجی ابرار حسین کو غیرقانونی بھرتیوں،اختیارات کے ناجائزاستعمال اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت برطرف کردیا جس کے بعدنہ صرف قومی وطن پارٹی کے صوبائی صدرسکندر خان شیرپاؤ نے سینئرصوبائی وزارت سے بطور احتجاج استعفیٰ دیا بلکہ اتحادختم کرتے ہوئے حکومت کو خیرباد بھی کہہ دیا۔تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ ان کے پ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button