تازہ ترینعلاقائی

ڈی سی او بہاولنگر نے متوقع سیلاب اور بارشوں سے نمٹنے کیلئے تمام محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی

بہاولنگر (نامہ نگار) ڈی سی او بہاولنگر محمد جہانزیب اعوان نے متوقع سیلاب اور بارشوں سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نمٹنے کیلئے تمام محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ جبکہ متعلقہ محکموں کے عملے و آفسران کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔ ڈی سی او نے تمام ٹی ایم اوز کو بارش سے متاثرہ علاقوں میں رین کیمپ لگانے اور پانی کی فوری نکاسی کیلئے اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ ڈی سی او آفس کے کمیٹی روم میں ممکنہ سیلاب کی صورت حال سے جائزہ کے متعلق خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے محکمہ اریگیشن، ہیلتھ،ٹی ایم اوز، محکمہ زراعت، پولیس، لائیو سٹاک اور مختلف محکموں کے ای ڈی اوز کو ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنی مکمل تیاریاں اور انتظامات یقینی بنائیں اور اس ضمن میں کسی غفلت اور کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ڈی سی او نے مزید کہا کہ اس مرتبہ فلڈ پلا ن کو پریکٹیکل بنیادوں پر بنایا گیا ہے۔ تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال کے نتیجہ میں درست اور مستند ڈیٹا اور انفارمیشن کے ساتھ صورت حال سے نمٹا جائے۔ ڈی سی او نے کہا کہ دو تین دن مزید بارشوں کی توقع ہے جس کی وجہ سے فلڈ الرٹ بھی جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے محکمہ اریگیشن کو نہروں اور دریائے ستلج کے کمزور پشتوں اورحفاظتی بندوں کو مزید مضبوط بنانے اور حساس پوائنٹس کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے مختلف مائینرز اور ڈسٹری بیوٹری میں اوور فلو اور ممکنہ شگاف کو بھی کنٹرول کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں ریسکیو 1122 ، پولیس ،ہیلتھ ، اریگیشن، زراعت، لائیو سٹاک اور دیگر محکمہ کے علاہ اسسٹنٹ کمشنرز نے بھی فلڈ فائیٹنگ کی تیاریوں اور انتظامات سے متعلق آگاہ کیا۔ ڈی سی او نے ای ڈی ورکس کو ہدایت کی کہ وہ ہیوی مشینری، ایکس کویٹر، کرین اور دیگر مشینری کی دستیابی کی لسٹ بنا لیں اور ان انتظامات کے ساتھ مکمل تیار رہیں۔ انہوں نے ریلیف کیمپ کے قیام، متاثرہ افراد کے انخلاء اور ادویات کی فراہمی سمیت تمام امور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں اے ڈی سی نے فلڈ فائیٹگ پلان کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ تمام تحصیلوں و ضلع کی سطح پرکنٹرول روم قائم کردیے گئے ہیں جوکہ چوبیس گھنٹے آپریشنل رہیں گے۔ ایکسین اریگیشن نے بتایا کہ اس وقت ڈاؤن سٹریم میں سلیمانکی پر پانی کا ڈسچارج سات ہزار کیوس اور گنڈا سنگ پر دو ہزار کیوسک ہے جبکہ گھاگھرا میں کوئی پانی نہیں چھوڑا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!