تازہ ترینکالممحمد فرقان

سونامی کو سونامی لے ڈوبا

انسان اگر پہلے ہی سوچے کہ وہ اِس گڑھے میں نہ گِرجائے، اُسی گڑھے میں لازمی گر جاتا ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو گِرنے کے لیے پہلے ہی دماغی طور پر تیار کرچکاہے۔
اِسی طرح سونامی کے متعلق آ پ بخوبی آگاہ ہوں گے کہ سونامی ایک سمندری طوفان جو تباہی پھیلاتاہے۔یعنی یہ ایک بگاڑ پیدا کرنے والی شے کا نام ہے۔جسے عمران خان صاحب اپنے الفاظ میں کچھ اِس طرح سے استعمال کر رہے ہیں کہ تحریکِ انصاف کے سونامی کو کوئی نہیں روک سکتا۔خان صاحب کی یہ بات بالکل ٹھیک ثابت ہوئی اور تحریکِ انصاف کا سونامی آیا اور کسی اورکو نہیں، خود تحریکِ انصاف کو بہا کر لے گیا۔
30 اکتوبر 2011کو لاہور میں ہونے والے جلسے کے بعد پاکستان تحریکِ انصاف عوام میں بڑی تیزی سے مقبول ہوئی اور دوسری پارٹیوں سے تعلق رکھنے والے بے شمار سیاسی لیڈران نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی۔لوگ جوق در جوق عمران خان کی قیادت میں تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کرنے لگے مگر افسوس کہ چند مہینے بعد ہی دوسری پارٹیوں سے آنے والے سیاسی لیڈر پاکستان تحریکِ انصاف سے استعفی دے کر واپس دوسری پارٹیوں میں شامل ہو گئے۔تحریکِ انصاف کی قیادت کو شائد کوئی عقلمند اور باصلاحیت سیاسی مشیر نہیں ملا جس کی وجہ سے پارٹی کے تمام فیصلے خود پارٹی کے چیئر میں عمران خان صاحب کرتے ہیں اور پارٹی کے کسی بھی ممبر سے مشورہ کرنا انہیں گوارہ ہی نہیں۔
پاکستان تحریکِ انصاف کی مقبولیت میں کمی کی وجہ چیئر میں عمران خان کا رویہ ہے جیسے دوسری پارٹیوں کے رہنماؤں پر تنقید کرنا کہ انہوں نے ماضی میں فلاں فلاں برے کام کیے ،انہیں چاہیے کہ دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے عوام کے لیے فلاحی پلان اور پاکستان کو ان مشکل حالات سے نکالنے کے لیے ایسے معاشی منصوبے اور ایسی خارجہ پالیسی مرتب کریں جس سے ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکے۔ ۔دنیا میں سب سے آسان کام کسی پر تنقید کرنا ہے لیکن صرف تنقید کرنے سے عوام کے ذہنوں پر منفی اثر پڑتا ہے اسی لیے خان صاحب کو دوسروں پر تنقید کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پالیسیاں بنائیں اور عملی کام کریں تا کہ لوگوں کا اعتماد حاصل ہو سکے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے پاس قابل رہنما ؤں کا فقدان بھی موجود ہیں جو ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے میں کار آمد ثابت ہوں اور بہتر انداز میں حکومت کر سکیں۔
قارئین آپ آگاہ ہوں گے کہ شیری مزاری پاکستان تحریکِ انصاف کی عقلمند اور پڑھی لکھی رہنما تھیں جو96سے پی ٹی آئی کے ساتھ تھیں کچھ دنوں پہلے پارٹی رہنماؤں سے اختلافات کی بنا پر استعفی دے دیا ۔اُن کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے پارٹی کے قیام کے وقت عمران خان کا بھر پور ساتھ دیا اور 15سال بعد آج جب تحریکِ انصاف ابھر رہی تھی تو پارٹی رہنماؤں کے رویہ سے تنگ آ کر علیحدگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔چند دنوں پہلے ایڈمرل جاوید اقبال صاحب نے بھی تحریکِ انصاف سے استعفی سے دے دیا،اُن کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف آمروں کے حواریوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہو چکی ہے۔30اکتوبر2011کے جلسے کے بعد گیلپ سروے کے مطابق پاکستان تحریکِ انصاف پاکستان کی مقبول پارٹی بن گئی تھی،لیکن اب پی ٹی آئی کی مقبولیت میں کمی ہو رہی ہے،کمی کی شرح22.6فیصد ہے جبکہ عمران خان صاحب نے پارٹی مقبولیت میں 10فیصد کمی تسلیم کی ہے۔
اِن دنوں تحریکِ انصاف کی وکٹیں دھڑا دھڑ گِر رہی ہیں،پہلے اِن کے اہم رہنما پارٹی چھوڑ کر جارہے تھے مگر اب پارٹی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ عوام بھی جا رہے ہیں۔انٹر نیشنل ری پبلیکیشن انسٹیٹیوٹ (IRI)نے پاکستان کے مختلف حصوں سے چھ ہزار لوگوں کا سروے کیا ،سروے میں لوگوں سے کہا گیاکہ اگلے ہفتے الیکشن ہوتے ہیں تو آپ کِس کو ووٹ دیں گے۔سروے سے معلوم ہوا کہ مسلم لیگ ن نے بازی مارتے ہوئے 28فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف نے 21فیصد ووٹ حاصل کیے اور پاکستان پیپلز پارٹی نے14فیصد ووٹ لیے۔اس سے پہلے فروری میں ہونے والے سروے اور IRIکے کیے ہوئے سروے کے موازنے سے معلوم ہوا کہ مسلم لیگ ن کی مقبولیت میں 3.7فیصد اضافہ ہوا جبکہ پی ٹی آئی کو زور کا جھٹکا لگتے ہوئے مقبولیت میں 22فیصد کمی ہوئی اور پی پی کی مقبولیت میں 12.5فیصد سے کمی ہوئی۔اس طرح کے ہونے والے سروے 100فیصد درست ثابت نہیں ہوتے لیکن تقریباً الیکشن کے بعدنتیجہ انہی کے قریب قریب ہو تا ہے۔
رہی بات خان صاحب کی تو وہ پارٹی کے چیئر مین ہوتے ہوئے پارٹی کے ٹکٹ اپنی مرضی سے تقسیم کرنے کے مجاز ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں عمران خان صاحب کو اپنے وطنِ پاکستان سے بے پناہ محبت ہے اسی لیے وہ پاکستان کو مختلف بحرانوں میں جھکڑا ہوا نہیں دیکھ سکتے مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکیلے ملک کو بحرانوں سے کیسے نکالیں گے؟ایک کام کے لیے ایک مخصوص ٹیم کی ضرورت ہے جوکہ شائد عمران خان کے پاس نہیں ہے۔لیکن ہماری دعا عمران خان صاحب کے ساتھ ہے کہ اللہ انہیں محنت اور لگن سے عوام کی فلاح وبہبود کرنے اور وطنِ عظیم کو درپیش مسائل سے نکالنے کی توفیق عطا فرمائے کیونکہ عمران خان پاکستان کی عوام کے لیے شائد آخری اُمید ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پتوکی:تھانہ سٹی پتوکی کے ایس ایچ او کی ناجائز اسلحہ کے خلاف خصوصی مہم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker