تازہ ترینکالم

دین اوردنیا ساتھ ساتھ

umme maryamمیری ذات اتنی اہلِ رائے تو نہیں مگر میری ناقص عقل میں یہ بات ضرور آتی ہے کہ دین وہ ضابطہ حیات ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ دنیا میں گزر بسر کیسے کرنی ہے۔یہی وہ لائحہ عمل ہے جو انسان کو جانوروں سے باامتیاز کرتا ہے۔ اگر انسان اسکی متعین کردہ حدود سے تجاوز کر جائے تو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی مشکلات میں مبتلا کر دیتا ہے۔
بشرِخاکی کیلئے یہ خاص ترکیبِ زندگی اسلئے نازل کی گئی کہ ہمیں اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے اور شعور عطاء کیا گیا ہے۔اگر اس شعور کے باوجود ہم دین کو اپنی روزمرہ زندگی سے الگ کر کے دیکھیں تو ہم جان لیں گے کہ اس ایک عنصر کے نکل جانے سے انس و حیواں روّیوں کے اعتباریکساں ہو جاتے ہیں۔انکا کوئی اعتبار نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کب کسی پہ حملہ آور ہو جائیں، کب کسی کا حق غضب کر لیں یا کب کسی کو چیر پھاڑ کہ رکھ دیں ۔ہم انسانوں میں جنگلی جانوروں سا رویہ پائیں گے، جس کا مشاہدہ آجکل ہم اپنے معاشرے میں باآسانی کر سکتے ہیں۔ہم اپنی معاشرتی حالت دیکھ کر دین کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
مگر صد افسوس کہ جسے بھی اللّہ کے منتخب کردہ دینِ اسلام کو سیکھنے اور اس پر عمل پیراہونے کی دعوت دی جائے وہ ایک ہی حجت پیش کر کے بری الذمہ ہو جاتا ہے کہ جی ہم جدید دور کے لوگ ہیں ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا پڑتا ہے، ہم دنیا میں رہ کر دنیا سے قطع تعلق کیسے ہو سکتے ہیں؟ اور اس خود فریبی کے عالم میں اللّہ کے حرام کردہ کام نہایت آسانی سے خود پر حلال کر نے میں عار تک محسوس نہیں کرتے۔اگر دین اور دنیا بیک وقت چلائے جا سکتے تو نہ ہجرت کی اذیتیں اٹھانے کی ضرورت رہ جاتی ہے نہ ہی جہاد فی سبیل اللّہ کا کوئی مقصد سمجھ میں آتا ہے۔
’ہجرت ‘ کے حکم کی مصلحت ہی یہ کہ اگر کسی مسلمان کو اسلام کے احکام پر عمل نہ کرنے دیا جائے اور اسے خطرہ ہو کہ وہ دین کی راہ سے بھٹک جائے گا تو وہ اپنے رب کی رضاء حاصل کرنے کی نیت سے دین کی حفاظت کیلئے ہجرت کر جائے۔اسی طرح جہاد ہے کہ نہ دنیا کی پرواہ کریں نہ دنیا والوں کی اور خود کو ہر برائی سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرے اور ضرورت پڑنے پر اسلام دشمنوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے سے گریز نہ کرے۔اسکی منطق کچھ یوں ہے کہ کوئی بھی مومنہ جو باپردہ ہو اور ’ اللّہ‘ رب العزت کا حقیقی خوف رکھنے والی ہو وہ دنیا کی ٹاپ کلاس ماڈل نہیں ہو سکتی۔نہ ہی کوئی تقوی باز شخص دنیا کے فحش کاموں میں ملوث ہو سکتا ہے۔یہ محض ہماری خام فہمی ہے کہ ہم شیطان کی راہ پہ چلتے ’ رحمن‘ کو پا لیں گے، ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا اسکی رضاء حاصل کرنے کیلئے اپنے نفس کو اسکے تابع کرنا ہو گا۔
دنیاوی اشیاء کی چمک دمک ان لوگوں کو متاثر کرتی ہے جو محدود سوچ کے مالک ہیں یا پھر روحانی بصیرتوں سے محروم ہیں جیسے ہماری حدِ نظر صرف مہتاب و آفتاب تک ہے اسلئے ہمیں یہ کائنات میں سب سے روشن نظر آتے ہیں جبکہ در حقیقت اللہ کی قدرتیں ہماری بصیرت سے پنہاں ہیں۔آج سائنس ان سے آگے کہکشاؤں کو دریافت کر رہی ہے مگر میرا ایمان ہے کہ تا قیامت کوئی بھی علم کی ان حدوں کو نہیں چھو سکتا ، کیونکہ ارشادِ نبوی ﷺ کے مفہوم کے مطابق جتنی معرفت و روحانی بصیرت آپ ﷺ کو عطاء ہوئی اور کسی کو نصیب نہ ہوئی۔اسلئے میں اللہ کے عطاء کردہ علم پر ایمان رکھتے ہوئے قارئین کو دعوت دیتی ہوں کہ دنیا کی ظاہری کشش سے خود کو بچائیں اسکی خوش اندامی عارضی آزمائش کے سوا کچھ نہیں۔
اس حقیقت سے خود کو آشکار کر لیں کہ انسان اگرآسمانوں میں اپنا ٹھکانہ بنانا چاہے تو اسے زمین کو چھوڑنا پڑے گا اور اگر زمین کی گہرائیوں میں بسنا چاہے توآسماں کی وسعتوں کو نظر انداز کرنا پڑے گا۔دینِ اسلام وہ منزل ہے جو آسماں کی وہ وسعتوں میں ہے جو ہمیں لاھوت و لامکاں تک رسائی دے دیتی ہے اوریہ طمطراق ، فانی و لایعنی دنیا ، زمین کی وہ پستیاں ہیں جن میں کھو کر انسان اپنی معرفت کھو کر گمنامیوں میں فنا کر دیتا ہے۔اب فیصلہ آپکو کرنا ہے کہ آپ کی منزل کہاں ہے۔note

یہ بھی پڑھیں  24 گھنٹوں کے دوران بالائی علاقوں میں کہیں کہیں بارش کا امکان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker