تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

دیرکاضمنی الیکشن اور الیکشن کمیشن کافیصلہ

zafarدیر لوئرمیں خیبرپختونخوااسمبلی کے انتخابی حلقہ پی کے 95 کے ضمنی انتخاب میں خواتین کی عدم شرکت کے حوالے سے دائر پٹیشن پر2 جون کوالیکشن کمیشن آف پاکستان نے فیصلہ صادرکرتے ہوئے ہونے والے الیکشن کو کالعدم قراردے کردوبارہ الیکشن کرانے کاحکم دیاہے۔ مذکورہ نشست جماعت اسلامی کے امیرسینیٹر سراج الحق نے خالی کرائی تھی جس پر ہونے والے ضمنی الیکشن میں جماعت اسلامی کے ضلعی امیر اعزازالملک افکاری عوامی نیشنل پارٹی کے سابق ایم پی اے حاجی بہادرخان کوشکست دے کر کامیاب قرارپائے تھے۔اگرچہ جماعت اسلامی کامؤقف یہ ہے کہ خواتین اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے نہیں جاتیں مگراس حقیقت کوبھی کسی صورت نظراندازنہیں کیاجاسکتاکہ ماضی میں سیاسی جماعتیں خواتین کوووٹ ڈالنے سے روکنے کے لئے باقاعدہ معاہدہ میں مبینہ طورپر ملوث رہی ہیں۔ تاہم انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے معاہدات اورخواتین کاالیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کے تناظرمیں یہ کہناغلط نہیں ہوگاکہ محض جماعت اسلامی قصوروارنہیں تھی بلکہ اگرواقعی خواتین کوووٹ ڈالنے سے روکنے کا ایساکوئی معاہدہ ہوچکاہو تو قومی اور علاقائی دھارے کی دیگرتمام جماعتیں بھی اس میں خوکو شرکت سے مبراقرارنہیں دے سکتیں ۔بلاشبہ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے زیادہ نقصان جماعت اسلامی کوہواہے کیونکہ وہ جیتی ہوئی جماعت ہے اور اس کافائدہ الیکشن ہارنے والی عوامی نیشنل پارٹی کوہواہے لیکن مناسب ہوتااگرخواتین کی عدم شرکت کی بنیادپرپی کے95 میں دوبارہ الیکشن کاحکم صادرکرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف پاکستان دیگرسیاسی جماعتوں کوبھی قصوروار قرادے کرکسی نہ کسی شکل میں سزاوار ٹہراتاجیساکہ سول سوسائٹی کے بعض حلقوں اورسیاسی امورکے ماہرین کابھی کہناہے بلکہ دیگرزاویوں سے دیکھاجائے توپیپلزپارٹی،عوامی نیشنل پارٹی،مسلم لیگ نون ،تحریک انصاف اورخود کو پراگریسیو کہنے والی دیگرجماعتیں زیادہ قصوروار ٹہرتی ہیں۔جائزہ لیاجائے تو ذوالفقار علی بھٹو کے بعدپیپلزپارٹی کی قیادت بے نطیربھٹو شہید کے ہاتھ میں تھی اور وہ دومرتبہ ملک کی خاتون وزیراعظم بھی رہی ہیں جبکہ الیکشن 2008 کے بعد پیپلزپارٹی نے اپنی بننے والی حکومت میں قومی اسمبلی میں سپیکرشپ کے عہدہ کے لئے ڈاکٹرفہمیدہ مرزا اور سندھ کی صوبائی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکرشپ کے لئے شہلارضاکی صورت میں خواتین کوہی نامزد کیا، یوں ذکر ہوپی کے 95 دیرلوئرسے متعلق الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے پر خوشی کی تالیاں بجانے اور جشن منانے والی عوامی نیشنل پارٹی کاتوخدائی خدمتگارخان عبدالغفارخان(باچاخان)کی بہواور رہبرتحریک خان عبدالولی خان کی اہلیہ بیگم نسیم ولی خان ایک خاتون ہی تھیں جو دودہائیوں سے زائد عرصے تک پارٹی کی طاقتورترین صوبائی قائد رہی ہیں، تبدیلی کی دعویداراور علمبردار تحریک انصاف میں خواتین کے سیاسی کردارکوکسی صورت نظراندازنہیں کیاجاسکتاڈاکٹر شیریں مزاری،ڈاکٹرفوزیہ قصوری اور عائشہ گلالئی سمیت کئی دیگر خواتین کاسیاسی کردارڈھکاچھپانہیں ،اسی طرح مسلم لیگ نون کاتذکرہ ہوتو12،اکتوبر1999ء کواس وقت کے فوجی آمر پرویزمشرف کے ہاتھوں میاں برادران کی جلاوطنی کے بعدمختصر عرصے کے لئے پارٹی قیادت نوازشریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز نے سنبھالی تھی کیاوہ خاتون نہیں تھیں جبکہ موجودہ حکومت کی تشکیل کے بعدوزیراعظم خود روزگاراسکیم کی چیئرپرسن مریم نوازکومقررکیاگیاتھاکیاوہ خاتون نہیں تھیں ،کیامتحرک سیاسی کردارکی حامل ماروی میمن اور وزیرمملکت انوشہ ء رحمان خواتین نہیں ہیں پھریہ دوہراسیاسی معیارکیوں۔یہاں مذہبی جماعتوں کے کردارپربھی سوالیہ نشان ہے کہ کیامنتخب ایوانوں میں ان کی پارٹی خواتین کی نمائندگی نہیں کررہی ہیں اورکیاان جماعتوں کی خواتین کی ذیلی تنظیمیں نہیں ہیں،کیاوہ ملک کے دیگراضلاع میں خواتین سے ووٹ نہیں لیتیں اگر جواب ہاں میں ہے تویہاں یہ اور وہاں وہ کیوں؟ایک ہی کمرے میں گرمی اور سردی کے الگ الگ موسم کیوں؟گوکہ سیاسی جماعتوں کایہ کہنااپنی جگہ کہ دیرمیں خواتین اپنی مرضی سے ووٹ ڈالنے نہیں جاتیں اور ممکن ہے کہ علاقائی روایات کے پیش نظر بڑی حد تک یہ مؤقف درست بھی ہواور اگرووٹ نہ ڈالناواقعی تمام خواتین کی اپنی مرضی ہے توسیاسی جماعتیں اس ضمن میں کچھ کربھی نہیں سکتی بلکہ خواتین توکیامردوں کوبھی ووٹ ڈالنے کے لئے مجبورنہیں کیاجاسکتامگریہاں اٹھتاسوال یہ ہے کہ خواتین کی عدم شرکت کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے والے کون ہیں کیاوہ مذکورہ انتخابی حلقے سے تعلق رکھتی خواتین نہیں ہیں؟مذکورہ فیصلے پر جماعت اسلامی کاغم وغصہ اور احتجاج اپنی جگہ جبکہ وہ اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل کرنے کابھی حق رکھتی ہے تاہم اب اگر فیصلہ اپناوجودبرقراررکھتاہے جوکہ الیکشن کمیشن نے دیاہے اور اس کی روشنی میں ری الیکشن ہوتاہے تو سیاسی جماعتوں کوسنجیدگی کے ساتھ سوچناہوگااورانہیں مؤثرحکمت عملی اختیارکرناہوگی یہ احساس کرتے ہوئے کہ خواتین کوحق رائے دہی کے استعمال سے مزید روکانہیں جاسکتاجبکہ یہاں اٹھتے سوال یہ بھی ہیں کہ اگر خواتین شناختی کارڈ اورپاسپورٹ کے حصول کے لئے نادرااور پاسپورٹ آفس جاسکتی ہیں،اگر خواتین خریداری کے لئے بازار جاسکتی ہیں اور سرکاری وغیرسرکاری اداوں میں ملازمت کرسکتی ہیں اور اگر خواتین ملک کے دیگر علاقوں میں حق رائے دہی استعمال کرسکتی ہیں تووہ دیر لوئرمیں اس حق سے محروم کیوں؟اگر سیاسی جماعتیں منتخب ایوانوں میں خواتین کی شرکت پر یقین رکھتی ہیں تودیرلوئرمیں خواتین کے ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ کیوں بن رہی ہیں جیساکہ ان پر الزام ہے۔واضح رہے کہ اگر چہ خیبرپختونخوامیں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں کم ہی سہی ضلع کے مختلف علاقوں میں خواتین ووٹ ڈالتی نظر ضرورآئی ہیں تا ہم اگرتذکرہ ہواس سے قبل ہونے والے عام یابلدیاتی انتخابات کاتو دیر کی خواتین نے قیام پاکستان سے لے کراب تک انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیاہے جبکہ الیکشن کمیشن کاحالیہ فیصلہ بھی اپنی نوعیت کا پہلااورمنفرد فیصلہ ہے مگر کیایہ فیصلہ اپناوجود برقرار رکھ پائے گااور کیاوہاں کی خواتین کوان کاحق رائے دہی دیاجائے گاحتمی طورپر کچھ نہیں کہاجاسکتا

یہ بھی پڑھیں  آزاد کشمیر کا ترانا،لیڈر اور سوکھی مچھلی کے '' اعضائے مخصوصہ''

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker