انور عباس انورتازہ ترینکالم

دہشت گردی ایک عالمگیر مسلہ

anwar abasسچ دنیا کی سب سے بہترین افواج میں سے ایک پاکستانی فوج بھی ہے۔دنیا اس حقیقت کو تسلیم بھی کرتی ہے۔ اسی لیے تو دنیا متحد ہوکر ہماری اس فوج کا زہر نکالنے کے درپے ہے۔پاکستانی فوج کے سپہ سالار اعظم جنرل اشفاق پرویز کیانی کہتے ہیں۔کہ پاکستان کو درپیش روایتی خطرات کئی گناہ بڑھ گے ہیں۔۔۔ان کا مزید کہنا بھی روز روشن کی طرح سچ ہے کہ تمام خطرات کا مقابلہ قوم کی اجتماعی کوشش سے ہی کیا جا سکتا ہے ۔جس میں مرکزی کردار مسلح افواج کا ہے ۔۔۔انکا یہ بھی کہنا غلط نہیں ہے کہ ہمارا مقابلہ ایک ایسے دشمن سے ہے جس کی کوئی واضع شکل ہمارے سامنے نہیں ہے ۔ان کی اس بات کو بھی جھٹلا نے کی قطعا گنجائش نہیں ہے ۔کہ بیرونی حالات اور غیر یقینی اندرونی صورت حال نے بے شمار سکیورٹی چیلنجز کو جنم دیا ہے ۔۔۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیا ں بھی ہماری ہیں۔اور نقصانات بھی ہمارے ہی دنیا بھر سے زیادہ ہو رہے ہیں۔اور دنیا میں سب سے زیادہ تحقیر بھی ہم پاکستانیوں کی کی جا رہی ہے۔۔۔اس غیر واضع اور بے شکل دشمن سے لڑتے ہوئے جتنا جانی اور مالی نقصان ہمارا ہوا ہے پوری دنیا کا نہیں ہوا۔۔۔جنرل کیانی کا یہ کہنا بھی سو فیصد درست اور بجا ہے ۔کہ ان تمام چیلنجز اور خطرات کا مقابلہ قوم کی اجتماعی کوششوں سے ہی کیا جا سکتا ہے ۔اور اس کے بغیر غیر واضع دشمن کو شکست دینا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ مشرقی پاکستان کی مثال ہم سب کے سامنے ہے ۔ کہ عوام اور افواج آمنے سامنے آ گئی تھیں۔عوام اور افواج کی سوچ مختلف تھی۔عوام کی سوچ جمہوریت اور جمہوری نظام کو اپنے اور پاکستان کے لیے بہتر سمجھتی تھی۔ جبکہ دوسری سوچ اسٹبلشمنٹ کی سوچ تھی۔اوریہ ملک پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے حق میں تھی۔اسٹبلشمنٹ نے عوام کی سوچ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پسند نہیں کیا۔دشمن فوج کے آگے ہتھیار ڈالنے جیسی زلت برادشت کرنا گوارا کرلی۔۔۔ دونوں سوچیں ایک دوسرے کے مقابل آ گئیں تو دونوں سوچوں کے تصادم کا نتیجہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں برآمد ہوا۔میرے خیال میں ہمارے سپہ سالار اعظم کے بیان سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے سقوط ڈھاکہ کے عوامل اور اسباب سے بخوبی آگاہ ہیں ۔تبھی تو انہوں نے سب پر واضع کردیا ہے ۔کہ اکیلے چاہئے وہ افواج پاکستان ہوں یا اکیلی عوام ملک کو درپیش چیلنجز اور خطرات سے نجات نہیں دلا سکتے۔بڑی اچھی بات ہے ۔کہ سب اسٹیک ہولڈر ملک کر ملک اور قوم کو بحرانوں کی دلدل سے نکالنے کی جدوجہد کریں۔چونکہ سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر اس ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام ہیں ۔اور ان کی قیادت ہمارے سیاسی قائدین کے ہاتھ میں ہے۔اس حوالے سے سب سے اہم اور بڑی زمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے۔باقی افواج پاکستان تو عوام کی منتخب نمائندوں (پارلیمنٹ) کے احکامات کے طابع ہیں۔سیاسی قیادت جو انہیں احکامات دیتی ہے ۔اورافواج اس پر عملدرآمد کی پابند ہوتی ہیں۔اس لیے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوتی کہ عوام کے منتخب نمائندوں کی طابع افواج تو اپنے فرائض احسن انداز سے ادا کر رہی ہیں ۔مگر سیاسی قیادت (حکومت اور اپوزیشن) آپس میں پنجہ آزمائی میں مصروف کار ہیں۔اس باہمی جنگ و جدال کے باعث دشمنان پاکستان بھر پور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اور پاکستان کو معیشت اور اقتصادیات کے حوالے سے کمزور کر رہے ہیں۔کراچی 249بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی اور قتل و غارت گری دشمنان پاکستان کے منصوبے کا حصہ ہے۔لیکن ہمارے سیاسی قائدین سیاسی مفادات کے حصول کے لیے بعض اوقات ان دشمنان پاکستان و اسلام کوتحفظ دینے پر رضامند ہو جاتے ہیں۔اور ان سے گلہ بھی کرتے ہیں کہ بھائی جان ہم تو آپ کے عقیدہ والے ہیں ہمیں تو معاف کر دیں ۔ اور ملک کے بعض حصوں میں امن قائم ہو جاتا ہے۔اور دہشت گردی کے واقعات نہ ہونے کے برابر کی سطح پر آ جاتے ہیں۔۔۔عسکری قیادت کے سپہ سالار اعظم جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بڑی وضاخت سے سیاسی قیادت کو باور کرادیا ہے کہ اندورنی بحرانوں اور بے شکل دشمن کی چھیڑی ہوئی دہشت گردی کی جنگ سے متحد ہو کر ہی نمٹا جا سکتا ہے۔اکیلے اکیلے اسکا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔لیویز کے اکیس نوجوانوں کواغوا کے بعد قتل کر دینے اور اسکی زمہ داری قبول کرنے والوں سے کیا اب بھی ہمدردی کی جا سکتی ہے؟ کیا اب بھی یہ لوگ کسی ہمدردی کے مستحق ہیں؟دینی مدارس ہونے چاہئیں یہ ہماری ضرورت ہیں آج ہمارے معاشرے میں دین اسلام کی باتیں اور روایات زندہ ہیں تو انہیں مدارس کے باعث ہیں ورنہ انگلش مڈیم سکول اور ممی ڈیڈی معاشرہ کب کا ہمیں لے ڈوبا ہوتا۔۔۔ہمیں ان مدارس کی سرپرستی اور راہنمائی ضرور کرنی چاہئے لیکن ان مدارس کے منتظمین کو بھی اس بات کا دھیان رکھنا چاہئے کہ دین اسلام کی ترویج کے لیے قائم مدارس میں جہاد کے نام پر کسی ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں۔ اور جو مدارس جہاد کے نام پر وطن عزیز کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تلے ہوئے ہیں انہیں مدارس سے نہ صرف نکالیں بلکہ ان کا حقہ پانی بھی بند کرنے کے انتظامات بھی کیے جائیں۔دینی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ ایسی سیاسی پارٹیوں کی زمہ داری بنتی ہے ۔کہ وہ پاکستان میں مدامنی پھیلانے والے اور دہشت گردی کی وارداتوں کی زمہ داریاں قبول کرنے والوں سے مکمل علیحدگی اور لا تعلقی کا اعلان کریں بے شک اس عمل سے انہیں کچھ سیاسی نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔میری تمام دینی اور سیاسی جماعتوں کے سربرہان سے درخواست ہے کہ وہ آرمی چیف یا سپہ سالار ا

یہ بھی پڑھیں  پاک نیوزلائیو نیٹ ورک کا دوسرا سال کامیابی سے مکمل، تقریب کا اہتمام

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker