ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

دہشت گردی لمحہ فکریہ!

نیا سال شروع ہوتے ہی ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردی نے بھی زور پکڑ لیا ہے صرف چند ہفتوں میں ہی پاکستان میں سیکڑوں افراد دہشت پسندوں کا شکار بن گئے۔ کراچی میں مختلف مقامات پرٹارگٹ کلنگ میں کئی افراد کی ہلاکت نے ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آخر یہ دہشت گردی کہاں جاکر تھمے گی اور اس کا کوئی انت ہے بھی یا نہیں۔ تشد داور دہشت گردی گر چہ یکساں زمرے میں آتے ہیں لیکن اول الذکرکو عدم تشدد کے فارمولے سے روکا جا سکتا ہے لیکن دہشت گردی کی روک تھام کے لئے لفظ عدم کا استعمال کہیں نہ سننے میں آتا ہے نہ استعمال کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہی دہشت پھیلانا ہے۔ لیکن اگر یہ کسی کی جان لئے بغیر محض دہشت پھیلانے کی حد تک ہی محدود رہتا تو آج دنیا کے بیشتر ممالک خاص طور پر افغانستان، پاکستان اور عراق اس کا شکار ہو کر کمزور نہ پڑتے۔وہاں کی حکومتیں آئے روز ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہوتیں اور دشمن عناصر اس لفظ دہشت گردی کا استعمال کر کے اپنا الو سیدھا نہ کرتے۔ دہشت گردی کا نہ تو کوئی مذہب ہے نہ ہی اس کی کوئی قومیت اور نہ ہی اس کی کوئی نسلی ، لسانی،علاقائی ،مذہبی یا مسلکی شناخت ہے۔البتہ اس کی کئی قسمیں ضرور ہیں جو آئے روز نت نئے انداز میں سامنے آتی ہیں اور دہشت گردی کے ایک سے ایک نیا روپ پاکستان میں سب سے پہلے دیکھنے کو ملتا ہے اگربارودی سرنگ کی تکنیک صدیوں پہلے چین نے ایجاد کی اور اسے ایل ٹی ٹی ای نے استعمال کیا تو پاکستان نے ٹارگٹ کلنگ کی شکل میں نئے انداز کی دہشت گردی سے دنیا کو متعارف کرایا ہے جسے آج وہاں سرگرم انتہا پسند کراچی میں خوب استعمال کر رہے ہیں۔حالیہ دہشت گردی سے پہلے کہیں یہ آئرش دہشت گردی سے جانی جاتی تھی تو کہیں تامل ٹائیگروں اور خالصتان حامیوں کی دہشت گردی سے جانی جاتی تھی لیکن یہ تمام دہشت گردیاں افہام وتفہیم اورمذاکرات کے بعد ختم ہو گئیں مگر آج دہشت گردی بین الاقوامی سطح پر اسلامی دہشت گردی سے جانی جارہی ہے جسے پاکستانی انتہا پسند تنظیمیں اور القاعدہ و طالبان اور کئی مختلف اسلامی ناموں سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کی وجہ سے اسلامی دہشت گردی کا عنوان دے دیا گیا ہے کیونکہ اس وقت پوری دنیا القاعدہ، طالبان، لشکر طیبہ،حزب اللہ اور حزب المجاہدین سمیت نہ جانے کتنے اسلامی ناموں سے چلائی جانے والی تنظیموں کے دہشت گردوں سے پریشان ہے جس نے نہ صرف مغربی ملکوں کی حکومتوں کو تشویش میں اور عوام کو دہشت میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ جن ملکوں میں یہ سرگرم ہیں ان ملکوں کی سرزمین کو اسی کے باشندوں کے خون سے رنگ رکھا ہے۔کہیں دہشت گردی شہری حقوق کے حصول کے لئے تھی تو کہیں علیحدہ ریاست کے قیام کے مطالبہ پر زور ڈالنے اور کہیں کسی غاصب اور ظالم و جابر حکمراں سے نجات حاصل کرنے کے لئے مسلح تحریک کی شکل میں تھی جس نے ایسا زور پکڑا اور یہ ایسا منفعت بخش کاروباربناکہ بے روزگاروں یا پست کردہ طبقات کے نوجوانوں کو اس میں کسی ڈگری یا قابلیت و صلاحیت کے بغیر ہی اچھے معاوضے پر کام ملنا شروع ہو گیا اور دہشت گردی کے پس پشت کارفرما ذہن یا لابی کو اور کیا چاہئے تھا اس نے ان نوجوانوں کے جوش اور ان کی مالی کمزوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھا کر ان کا ایسا استعمال شروع کیا کہ وہ انسانیت کو ہی بھول بیٹھے اور اپنے آقاؤں کے اشاروں پر بم پھینکنے، اندھادھند فائرنگ کرنے ، ٹرینوں یا بسوں میں بم دھماکے کرنے، بارودی سرنگیں بچھانے اور یہاں تک کہ سر فروشی کے جذبہ سے سرشار ہو کر جسم پر بم باندھ کر کسی بھی جگہ گھس کر خود کو دھماکے سے اڑانے کو ایسا کار خیر سمجھنے لگے جو انہیں ایسا کرتے ہی دروغہ جنت کو ان کے لئے فوراًجنت کے دروازے کھول دینے پر مجبور کر دے گی۔آخر اس دہشت گردی کا مقصد کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردی ان کے خون میں رچ بس گئی ہے اور ان کی رگ و پے میں ایسی سرایت کر گئی ہے کہ ان کا خمیر صلہ رحمی اور عفو و درگذر سے عاری ہو چکا ہے اور پر امن بقائے باہم کے تصور کی رمق بھی ان کے ذہنوں میں نہیں ہے۔ آخر بے قصوروں کا خون بہانے سے ان کو کیا حاصل ہو رہا ہے۔ یہی دہشت گرد ان ماؤں سے پوچھیں جن کی گودیں انہوں نے اجاڑ دیں اس باپ سے پوچھیں جسے ان دہشت گردوں کی انسانیت سوز حرکت سے اپنے بوڑھے کندھوں پر جوان اولاد کا جنازہ اٹھانا پڑا اور ان کمزور عورتوں کے دلوں کا حال پوچھیں جن کے سہاگ انہوں نے بیدردی سے لوٹ لئے۔شائد کہ مذہبی تعلیم سے نہ سہی ان لوگوں کے رنج و غم اور آہ و بکا دیکھ کر ہی یہ دہشت گردی سے توبہ کر لیں۔ جس طرح ہر سوال کا کوئی جواب اورہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے اسی طرح دہشت گردی بھی کسی عمل کا رد عمل یا جواب ہو سکتی ہے لیکن رد عمل اور جواب ،جو وقتی اور فوری ہوتا ہے، کے برعکس یہ ایک ایسا مسلسل عمل بن گئی ہے جو ایک روز خود ان افراد، تنظیموں، اداروں اور ملکوں کے لئے ایسی آفت مسلسل بن جائے گی کہ وہ خود اس کا شکار ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : نئے تعینات ہونے والے ڈی سی او سقراط امان رانا نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker