تازہ ترینصفدر علی حیدریکالم

دہشت گردی نہ دہشت پسندی

safdar aliاگر کوئی مجھ سے یہ سوال کرے کہ دنیا کا سب سے طاقتور اور خالص جذبہ کیا ہے ؟تو میرا واحد جواب ہوگا اولاد کی محبت۔صاحب اولاد لوگ یقیناًمیری اس بات کی ضرور تائید کریں گے کہ انسان کو سب سے زیادہ اپنی اولاد سے محبت ہوتی ہے ۔اتنی شدید ،اتنی خالص اور اتنی زور دار کہ اسے کسی اور چیز سے نہ تو تشبیہ دی جاسکتی ہے اورنہ ہم پلہ قرار دیا جاسکتاہے ۔یہ وہ مقدس جذبہ ہے جو انسان کو اس کی ” میں "سے بلند تر کر دیتا ہے ۔انا کے تنگ دائرے سے ایثار و قربانی کے وسیع تر دائرے میں پہنچا دیا کرتا ہے ۔یہ دائرہ اتنا وسیع ہے کہ پوری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا کرتا ہے ۔اب انسان بخوشی اپنا سب کچھ اپنی اولاد پر وار دینے کو تیار ہوتا ہے ۔اس محبت کا فیض یہ ہے کہ اولاد والے دوسروں کے بچوں سے بھی نفرت نہیں کر پاتے کہ محبت ان کی عادت بن جاتی ہے ۔
کہتے ہیں کہ ہلاکو خان سے کسی نے پوچھا ’’کیا تمہیں بھی کبھی کسی پر ترس آیا‘‘۔ بولا’’ ہاں ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک ماں اپنے بچے کے لیے رو رہی تھی کیونکہ اس کا بچہ ڈوب رہا تھا مجھے اس دکھیاری ماں پر بڑا ترس آیا میں نے بچے کے سینے میں نیزے کی انی پرو کر اسے اس کی ما ں کے حوالے کر دیا‘‘ ۔جب پہلی با ر میں نے یہ واقعہ سنا تو میرے دل میں اس سنگدل بھیڑیے کے لیے نفرت کی ایک تیز لہر دوڑ گئی تھی ۔پرآج لگتا ہے کہ ہلاکو خان اور اسی قبیل کے تما م ظالموں کی روحیں شرمندہ بھی ہونگیں اور شکوہ کناں بھی کہ وہ تو مفت میں بدنام ٹھہرے ۔تاریخ میں ان کے نام دھندلا سے گئے ہیں ۔دور جدید کی دہشتگردی او ر انتہا پسندی نے ماضی کے ہر ظالم کا سر شرم سے جھکا دیا ہے ۔مجھے دور جدید کا ایک واقعہ جب جب یاد آتا ہے تو مجھے ہلاکو خان کی” شفقت ” بھول سی جاتی ہے ۔مومن پورہ لاہورمیں چند سال پیشتر ایک بم دھماکے کے بعد ایک ریسکیوکارکن کو لاشوں کے ڈھیر سے ایک معصوم بچے کا سر ملا جس کے منہ میں اس وقت بھی چوسنی دبی ہوئی تھی ۔اف میرے خدا لگتا ہے عرش الہٰی کانپ اُٹھا ہوگا اور انسانیت نے شرم سے منہ چھپا لیا ہوگا۔
موت اور زندگی کے درمیان فاصلہ کتنا کم رہ گیا ہے ۔۔۔۔اتنا کم کہ کبھی کبھی تو اپنے زندہ ہونے پر بھی شک سا ہونے لگتا ہے ۔جس کے سینے میں بھی گوشت پوست کا دل دھڑکتا ہے اس کی آنکھیں آج کل پر نم سی رہتی ہیں ۔ہر وہ انسان جو تعصب سے بالا تر ہوکر دوسرے انسان کا درد محسوس کر تاہے اور جس کے دل میں ہر ایک شئے سے زیادہ انسانیت کی عظمت رچی بسی ہے ،بے بسی سے اپنے بے لوث آنسوؤں کا نذرانہ پیش کر کے غم زدوں کے غم میں برابر کا شریک ہے ۔
جب جب کی سانحے کی خبرآتی ہے تودل کرتا ہے ذرائع ابلاغ سے متعلقہ تمام چیزیں اٹھا کر سمندر برد کر دی جائیں تا کہ ان روح کو تڑپا اور دل دھلا دینے والے مناظر سے تو محفوظ رہ پائیں(اگرایسے سانحات روک نہیں سکتے تو یہ تو کر سکتے ہیں کی ان اشیاء کو ہی اٹھا کر چاردیواری سے باہر پھینک دیا جائے) ۔قومی سلامتی کے اداروں اور ذمہ داران کا منہ نوچ لینے کا دل کرتا ہے ۔جواز گھڑنے اور فیس سیونگ کرنے والوں کے منہ ،جن کی گھناؤنی صورتیں دل میں لگی بے بسی کی آگ پر پٹرول کا ساکام کرتی ہیں ۔جن کے کھوکھلے رٹے رٹائے الفاظ زخموں پر نمک کا سا اثر کرتے ہیں۔ آخر کب تک ہم یہ ورد سنیں گے کہ اس واقعہ میں ملوث خفیہ ہاتھ جلد بے نقاب ہوجائیں گے اس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہیں جسے دشمن ہمسایہ ملک کی’’ آشیرباد‘‘حاصل ہے ۔قوم پوچھتی ہے کہ” سر تو ملتا ہے سراغ کیوں نہیں ملتا ” ۔دہشتگردوں کے شہر میں داخلے کی اطلاع تو ملتی ہے مگر دھماکے سے پہلے ان کے پکڑے جانے کی خبریں آخر کیوں نہیں ملتیں۔ آخر کب تک ہم یہ روایتی اعلان سنیں گے کہ دہشتگردوں کو امن تہ و بالا کرنے کی ” اجازت” ہر گز نہیں دی جائے گی۔ کیا تمام دہشتگرد حکومت کے تابع فرمان ہیں کہ ہر کام ان سے پوچھ کر کریں ۔کیا قیامت ہے کہ
گزرو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں ڈھونڈو گے تو اس ملک میں قاتل نہ ملے گا۔
کیسا فکری جمود ہے اور کیسا فکری دیوالیہ پن ہے کہ آج تک ہم اپنے مشترکہ دشمن ہی کونہیں پہچان پائے ۔کیسی ستم ظریفی ہے کہ آج تک ہم یہ فیصلہ ہی نہیں کر پائے کہ ہم کس کی جنگ لڑ رہے ہیں ارے ہم جنگ لڑکب رہے ہیں ہم تو مر رہے ہیں ۔چن چن کر ڈھونڈ ڈھونڈ کر بموں سے اڑائے جارہے ہیں۔ روز لاشے اُٹھائے پھرتے ہیں ۔تعزیتوں پر تعزیتیں وصول کیے جار ہے ہیں ۔اس مشترکہ قومی درد کا ادراک کرتے ہوئے ہماری دل جوئی کر سکے،کوئیایسا دور دور تک دکھائی نہیں دیتا۔ لگتا ہے لاشیں اٹھاتے اٹھاتے ایک دن ہم خود بھی ان لاشوں کے ڈھیرمیں دب کر رہ جائیں گے ۔
ایک صدا ہے بستی بستی ایک ادا ہے ماتم ماتم
جانے یہ ماتم کب ختم ہوگا ۔صبر کی بھی آخر کوئی حد ہوتی ہے اگر یہ حد سے بڑھ جائے تو بغاوت کا روپ دھار لیتاہے۔عوام کا صبر اب ہمیں ڈرانے لگا ہے کہیں ایسا نہ ہوانکا یہ صبر عزاب الہٰی بن کر پوری قوم کو برباد نہ کر ڈالے ۔کہیں وقت سے پہلے اس ملک پر کوئی حقیقی قیامت نہ ٹوٹ پڑے ۔آخر کب تک ہم اپنی دو عملی اور دہری حکمت عملی کا خود شکار ہو تے رہیں گے ۔کب ہم کھل کر اس نظریہ کی مخالفت کریں گے جس کے مطابق قاتل و مقتول دونوں شہید ہیں ۔کیوں ایک مسلمان کا قاتل دوسرے مسلک کے مسلمان کا ہیرو بن جاتا ہے ۔آخر مختلف لوگوں کے لیے ہمارے رد عمل مختلف کیوں ہوتے ہیں ؟آئیں چودہ صدیاں پرانی خطائے اجتہادی نسیان کے کوڑے دان میں پھینک کر برملا اعتراف کریں کہ ہم قاتل اور مقتول میں واضح فرق روا رکھیں گے ۔ہر طرح کے تعصب ،گرو ہ بندی، عقید ے اور مسلکی وابستگی سے بالا تر ہوکر ہر پیمانے اور ہر سطح پر ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم کہیں گے ۔شہادت کے رتبے اور کفر کے فتوے باٹنے والوں سے اجتناب برتیں گے ۔میں علماء کرام سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا یہ بیان دے کر بات کو ٹالیں نہیں اور نہ حقائق کو جھٹلائیں اور نہ آدھا سچ بولیں کہ یہ کسی مسلمان کا کام نہیں ہو سکتا۔ ہاں میں بھی یہی کہتا ہوں کہ یہ مسلمان کا کام ہو ہی نہیں سکتا نہ کسی پاکستانی کا اور نہ ہی کسی انسان کا۔ یہ درندے تو بس نام کی حد تک مسلمان اور پہچان کی حد تک بظاہر انسان ہیں۔ یہ وہ بھیڑیے ہیں جنہیں بچے یتیم کر کے سکون ملتا ہے اور انہیں خون کے آنسو رلا کر تسکین ملتی ۔جانے یہ مخلوق کے کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں شاید انہیں انسانوں کے لیے شاعر نے کہا تھا ۔
گھر چھوڑ کے جنگل کی طرف بھاگ رہا ہوں شاید کوئی انسان درندوں میں چھپا ہو۔
اور پیارے پڑھنے والے یہ دہشتگردی آج کے دور کا ابلیس ہے۔ وہی ابلیس جو ہم سب کا کھلا اور مشترکہ دشمن ہے۔اب جس کے خلاف مشترکہ جہاد درکار ہے ۔یہ دہشتگردی تبھی تھمے گی جب ہمارے باطن کا تعصب عناد ،عدم برداشت اور سب سے بڑھ کر دہشت پسندی ختم ہوگی ۔یہ’’ ایڈونچر ازم‘‘ ہمارا سب کچھ بہا کر لے گیا ہے ۔آئیں اپنے بچوں کو ایسی فضافراہم کریں کہ وہ کسی نا دہانی موت کا شکار ہوئے بنا اپنی طبعی عمر جی سکیں ۔دہشتگردوں کے خلاف اس گریلا وار میں ہر پاکستانی کو اپنی اپنی سطح پر رہتے ہوئے اپنا بھرپور کردار ادا کر نا ہوگا ۔ورنہ یاد رکھو
ہماری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ۔note

یہ بھی پڑھیں  ،،سو بیڈ ،فیسوں میں اضافہ ،اور آلودگی،،

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker