تازہ ترینکالم

دہشتگردی اور دہشت زدگی

waqarبہت مغموم اور سلگتے الفاظ کے ساتھ ہم نے ملک میں ہونے والی دہشتگردی کی روداد اپنے تمام قارئین کو سنائی یقین جانیئے دل خون کے آنسو رو رہا تھا مذمت کا لفظ بہت چھوٹا معلوم ہوتا تھا اس لفظ کی ادائیگی دل کو مزید کرب وبلا میں جھونک دیتی تھی لیکن اللہ رب العزت صبر عطاء فرمادیتا ہے اور زندگی کو توازن حاصل ہو ہی جاتا ہے۔16دسمبر 2014 کو پیش آنے والے ہولناک سانحے کے دو روز بعد پاکستان بھر کے تعلیمی ادروں کو بند کرنے کی خبریں گردش کرتی رہیں اور آخر کار ملک بھر کے تمام تعلیمی و تدریسی ادارے بند کردیے گئے خوف کی کیفیت کو پھلنے پھولنے دیا گیا۔ یہ چھٹیاں موسمِ سرما کی تعطیلات نہیں تھیں بلکہ حکومتِ وقت کا ناقص منصوبہ تھا یہ پلان حکومت کو بوکھلاہٹ میں بنانا پڑا اس سیکورٹی پلان کو ترتیب کیا گیا کہ کوئی ناخوشگوار سانحہ پیش نہ آسکے۔ہمیں چاہیے تھا کے جوش و جذبے سے اپنے ادارے کھولتے کیونکہ ہم ایک نڈر قوم ہیں ہمیں آب وتٗٓاب سے اپنا نظامِ زندگی بحال رکھنا چاہیے تھا دہشتگردی سے تو نمٹ ہی رہے تھے لیکن ہمارے سر پر دہشت زدگی بھی ڈال دی گئی ہمارے مستقبل کے معماروں کو کٹہن مناظر دکھا دکھا کر ہمارا میڈیا کنفیوژن کا شکار کرتا رہا تو کبھی حکومتی ارکان بجائے بچوں کا مورال ہائی کرتے ، تھپکی دیتے انہیں مزید تذبذب میں مبتلا کرتے رہے ۔ 2009 میں حکومت نے درس گاہوں کو تنبیہ کی تھی کے آٹھ انچ اونچی دیواروں کو یقینی بنائیں اوران پر خار دار تاریں لگائیں داخلہ گیٹ پر سیکورٹی کیمرے نصب کریں اور تسلی بخش واک تھرو گیٹ بنائیں کچھ اداروں نے اس پر عمل کیا جبکہ بہت سے ان تمام ضروری اقدامات پر عمل پیرا ہونے سے غافل رہے اور ان سے اس متعلق کسی حکومتی عہدیدار نے استفسار بھی نہیں کیا۔جب کوئی سانحہ آفت آجاتی ہے تب ہی کیوں ہمارے حکمران نیند کی آغوش سے عارضی طور پر بیدار ہوتے ہیں،تنقید کی جائے تو معززین کو ایسا لگتا ہے کے کسی نے تھپڑ رسید دیا ہے ارے بھائی تم اور تمہارے حواری سیاست کی خاطر حد سے زیادہ غلط بیانی کریں گے تو الفاظ کا طمانچہ ہی تمہارے مقدرمیں ہوگا ۔دہشتگردی کا کوئی واقع رونما جب ہو جاتا ہے تب ہی کیوں ریڈ الرٹ کا ڈرامہ رچا یا جاتا ہے ؟ ر یڈ الرٹ میڈیا کی خبر تک ہی ہوتا ہے ہسپتالوں کی حالتِ زار میں نے خود دیکھی ہے حفاظتی اقدامات رتی برابر نظر نہیں آتے ۔تمام اہم آرگنائزیشنز کو وزرائے اعلیٰ کی جانب سے بھجوائے گئے خط بے مقصود کیوں ہیں اتنے ابتر سیکورٹی انتظامات کہ دشمن کو ناسازواقع کرنے کا کھلم کھلا موقع ملے۔ کیافول پروف سیکورٹی جمہورِ عامہ کا حق نہیں ہے؟ ۔وزیرِ داخلہ چودھری نثار نے پاکستان میں موجود 90 فیصد مدرسوں کی دہشتگردی سے لاتعلقی کا اعلان کیا جبکہ جناب ان مدرسہ جات کو بھول گئے جو سرے سے رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں دہشتگردوں کے کمانڈو جہاں کے باسی ہیں؟ جہاں ٹیکنالجی سے لیز بندوقوں، ہتھیاروں کی موجودگی عام ہے؟ فوج پر تنقید کرنے والے قبائل یہ کیوں نہیں سمجھ پاتے ہیں کے ہماری فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے اس کے ذمے ہم نے بہت سے کام سونپ دیے ہیں بلاشبہ ہماری فوج حب الوطنی سے شناساں ہے اور انتہا کی محب وطن ہے لیکن ہیں تو انسان ہی اور بشر خام ہوتا ہے ملک کو بربریت اور افراتفری سے نکالنے کے لیے کوشاں ہے ۔میری یونیورسٹی کا طالبعلم طیب وزیر جو کہ ایک شفیق انسان ہے اس کا تعلق فاٹا سے ہے مگر کسی نے اس کے دل میں ہماری محافظ ،ہماری شان پاک فوج کے لیے زہر بھر رکھا ہے بہت لمبے مکالمے کے بعد اسے کچھ سمجھا سکا مگر اس کا زخم اب بھی ہرا ہے۔پاکستان کی فوج غیور پسندی شجاعت پسندی کا بہترین امتزج ہے ۔ہماری فوج قطعی طور پر عورتوں بچوں اور بے قصورلوگوں پر گولا باری نہیں کررہی انٹیلی جنس کی اطلاعات سے بس ان مکرو طالبان پر گولہ باری کر رہی ہے جو اب تک ا ندو ہناک واقعات کا انبار لگا چکے ہیں سینکڑوں خاندان اجاڑ چکے ہیں قتل و غارت کو اپنا شعا ر بنائے ہوئے ہیں یہ دہشتگرد مُٹھی بھر ہی تھے بڑے پیمانے پر بروقت آپریشن ہوجاتا تو امن کا قیام اب تک پاک وطن میں ہوگیا ہوتا ۔دشمن قوتیں ان نجس طالبان کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتی رہیں اور یہ مضبوط ہوتے چلے گئے ۔آئین میں 21 و یں ترمیم کثرتِ رائے سے منظور ہوگئی اب فوجی عدالتوں میں شفاف ،ستھرے عدل کے تقاضوں کو پورا کیا جائے گا اب کی بار فوجی عدالتیں متنازعہ نہیں ہونگی کیونکہ ہماری پاک آرمی کو عوام کی سپورٹ حاصل ہے ۔چند لوگوں کے لبوں پر یہ دلیل ہے کہ پسماندگی اور محرومی شرفاء کو ان گھناوُنے کاموں کی طرف مائل کرتی ہے کہ ایک فرداپنے خاندان کو اچھی زندگی فراہم کرنے کے لیے ان دہشتگردوں کا کہنا مانتا ہے مگر ایسا بھی نہیں ہے ہماری قوم اپنے وطن سے محبت کرنے والی ہے تاہم منتخب عوامی نمائندوں کو چاہیے کے وہ محروم اشخاص کی تمام ممکن ضرورتوں کو پورا کرے اور ان سے گراں سلوک سے پرہیز برتے انہیں نارواں رویے کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ محض چند عناصر ہیں جو ان بیرونی قوتوں کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں جو ہمارے ملک میں امن قائم رہنے نہیں دینا چاہتیں۔ حتیٰ کے اب غیر ملکی بھی ہماری سرزمین پر داخل ہوکر مسلمان ہونے کا لبادہ اوڑھ رہے ہیں فساد برپا کرکے یہ لوگ کسی نئی کالعدم تنظیم کا نا م داغ دیتے ہیں ان کا مقصد نہ صرف قوم کو حوف وحراس میں مبتلا کرنا بلکہ ہمارے عظیم الشان وطن پر اقتصادی پابندیاں عائد کروانا اور ہمارے گلستاں کو دیوالیے سے دوچار کرنا ہے اس مملکت کا ہر بہادر سپوت ان بزدل ،گوار دہشتگردوں کی تمام کوششوں کو خاک میں ملانے کے لیے تیار ہے۔انسدادِ دہشتگردی کمیٹی بھی قائم کی جا چکی ہے اور اگر آپ سب کو یاد ہو تو اس کمیٹی کو اس سے قبل بہت سے ناموں سے متعارف کروایا گیا مگر اس کا مکمل اجراء نہ ہو سکا نہ ہی اس نے اپنی کاروائی کا آغاز کیا ۔کچھ لوگ اب بھی سیاست کرنے سے باز نہیں آرہے انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ملک کس پُرخطر نہج پر ڈگمگا رہا ہے وہ بارہا کوشش کرتے ہیں کہ قوم کی الفت سمیٹ لیں لیکن ان کی سوچ بٹی ہوئی ہی رہتی ہے اور وہ یکجا نہیں ہو پاتے اپنی بساط پھر سے گرا لیتے ہیں۔ دوبارہ احتجاجی ریلیوں کی کالیں دے رہے ہیں اس بات سے بری الذمہ ہو کر کہ قوموں کے فیصلے ان کے مصلحت پسندرہنماوُں کے مرہونِ منت ہوتے ہیں ۔ہمیں کاش ایسا ہوجاتا ،کاش یوں کر لیتے سے باہر نکل کر اب اس چیز کا عیادہ کرنا ہے کہ اب ہم نے دشمنوں کی اینٹ سے اینٹ بجانی ہے پاکستان کو اس کے معنی کے تحت ایک ریاست بنانا ہے

یہ بھی پڑھیں  افغان حکومت نے اسلام آباد سے اپنے سفیر اور سفارتی عملے کو واپس بلالیا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker