تازہ ترینکالم

ایک دفعہ پھر دہشت گردوں نے خونی کھیل کھیلا

ایک دفعہ پھر دہشتfaisal shami گردوں نے خونی کھیل کھیلا ، معصوم و بے گناہ شہریون کو خون میں نہلا دئیے ، درجنوں بہنوں کے ویر چھین لئے ، درجنوں ماؤں کی گود جاڑ دی ، ہمارے پیارے ملک پاکستان کی گلیاں ایک دفعہ پھر سے خون میں رنگ گئیں ،صبح صبح اخبارات پڑھنے کیلئے باہر صحن سے اٹھائے ، اور جب اخبارات کی بڑی بڑی شہہ سرخیوں پر نظر ڈالی تو جو خبر نمایاں نظر آئی اس خبر نے ہمارے کیا سب کے ہی ہوش اڑا دئیے ،،خبر پڑھ کر ہمارا دل خون کے آنسو بھی رونے لگا تھا ،، جی ہاں خبر کیا تھی خبریں ہی خبریں تھیں ، اور ایک سے بڑھ کر ایک خوفناک اور یقیناًحیرت ہوئی کہ کہ یکے بعد دیگرے مختلف شہروں میں بے بہا دھماکے کچھ پاکستان کے اندر اور کچھ پاکستان سے باہر جی ہاں ،،
سب سے دل ہلا دینے والی خبر تو یہ تھی کہ اسلا م آباد میں مقامی ٹی وی کے نیوز چینل کے دفتر پر رات گئے حملہ ہوا اور کہا جا رہا ہے کہ مذکورہ مقامی ٹی وی چینل نے افغانستان میں پاکستان سفارت خانے پر حملے کا ذمہ دار را اور افغان نیشنل آرمی کو ٹھہرایا تھا ، تاہم بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ مقامی ٹی وی چینل کے دفتر پر حملہ آزادی صحافت پر حملہ ہے ، تاہم پاکستان کے وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر سیاستدانوں نے بھی مقامی ٹی وی چینل کے دفتر پر حملہ کی مذمت کی ، بہرحال خاصی تشویشناک بات ہے کہ نئے سال کے پہلے مہینے میں ہی صحافتی برادری پر حملہ کر کے گویا صحافیوں کو نئے سال کا تحفہ دیا گیا ، تاہم اس حملے پر تمام صحافتی براردری بھی تشویش میں مبتلا ہے اور حکومت وقت سے صحافی بھائیوں کے لئے تحفظ بھی مانگ رہے ہیں ،، تاہم سوچنے والی بات ہے کہ گزشتہ سال بھی صحافیوں پر بھاری گذرا بیشمار صحافیوں نے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے جام شہادت بھی نوش کیا اور اب ایک دفعہ پھر نیا سال شروع ہوتے ہی صحافیوں پر دہشت گردوں کے حملے شروع ہو گئے جو کہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک بات ہے ، تاہم اسی طرح کا ایک اور افسوسناک واقعہ کی خبر کچھ اس طرح سے تھی کہ کوئٹہ میں پولیو سنٹر کے سامنے خود کش دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایف سی اور پولیس کے اہلکار جام شہادت نوش فرما گئے ، بتایا گیا کہ زور دار دھماکے سے قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے تاہم مذکورہ خود کش دھماکے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صوبہ بھر میں پولیو مہم روک دی ، بلوچستان حکومت
کا شہیدوں کو دس لاکھ ، ذخمیوں کو پانچ لاکھ ااور معمولی ذخمیوں کو پچاس پچاس ہزار فی کس دینے کا ا علان کیا ، بہرحال دہشت گردی کے واقعات میں کمی ہوئی ہے لیکن دہشت گردوں کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنی بھر پور کاروائی کر تے ہیں ، اور ہمیں دکھ ہوا کہ مسلمل تیسری خبر بھی دہشت گردی کے واقعہ سے ہی جڑی تھی جی ہاں وہ کچھ اسطرح سے تھی کہ ہمسایہ ملک افغانستان میں بھی پاکستانی سفارتخانے کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا جس میں چھ افراد دنیا سے رخصت ہو گئے اور درجنوں ذخمی ہو گئے ، تاہم ہلاک ہونیوالوں میں چار افغان اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ ذخمیوں میں بچے اور عوارتیں بھی شامل ہیں ، افغانستان میں پاکستانی سفارت خانے کے قریب خودکش حملہ کی خبر نے بھی تمام پاکستانیوں کے دل غمگین کر دئیے،جی ہاں کتنے دکھ کی بات ہے کہ لاکھ حفاظتی تدابیر اور حفاظتی حصار کے باوجود بھی دہشت گرد اپنی کاروائیاں جاری رکھتے ہیں ، انھیں کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں جی ہاں یہ بات بھی غلط نہیں کہ سالانہ کروروں روپے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے صرف کئے جا رہے ہیں لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلتا جی ہاں ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دہشت گردوں کاخاتمہ بھرپور طریقے سے ہونا چاہیے اور اس طاقت سے ملک بھر میں دہشت گردوں کا سر کچلا جائے کہ وہ آئندہ پاکستان کے معصوم عوام کو نشانہ بنانے سے گریز کریں ،بہرحال دعاہے کہ ہمارے ملک سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کا جلد از جلد خاتمہ ہو سکے ،تو بہر حال دوستوں فی الوقت اجازت چاہتے ہیں آپ سے ٹوٹے پھوٹے دل و خون آلودہ قلم کے ساتھ تو ملتے ہیں جلد دوبارہ آپ سے ایک بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button