تازہ ترینکالممیرافسر امان

دہشت گردی کے خلاف کراچی میں پُرامن ہڑتال کال!

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن نے جماعت اسلامی کراچی کے رہنما ، نڈر، بہادر ،ٹار گٹ کلرز کے سامنے نہ جھکنے والے،بار بار دھمکیوں کے باوجود ملک ؍ اپنا شہر کراچی نہ چھوڑنے والے ، ہٹ لسٹ پر رہنے والے اور بلا آخر دہشت گردوں کے ہاتھوں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ شہید کر دینے والے ڈاکڑ پرویز محمود شہیدسابق ناظم لیاقت آباد ٹاؤن اورسابق صدر شبابِ ملی کراچی کے نماز جنازہ کے موقعہ پر کراچی کی دہشت گرد تنظیم کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ، امریکا میں توہین آمیز فلم کے اجرا، کراچی؍لاہور کی دہشت گردی اور تین سوانسانی جانوں کے ضیاع کے خلاف آج(بدھ) کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیاجبکہ کراچی جماعت اسلامی نے کراچی کے عوام سے ،تاجروں،ٹراسپوٹرروں، تعلیمی ادروں وغیرہ سے پرامن ہڑتال کی درخواست کی تھی ۔اس ہڑتال کی ن لیگ، جے یو آئی، جے یو پی ، سنی تحریک، پاسبان اور دیگر نے بھی حمایت کا اعلان کیا۔ رات ہی کودہشت گرد حکومتی ٹولے کی حمایت یافتہ پولیس نے جماعت اسلامی کے کارکنوں میں اشتعال پھیلانے کے لیے ان کے گھروں پرچھاپے مارے اورسو کے قریب کارکنوں کو گرفتار کر لیا مگر اس کے باوجود جماعت اسلامی کے امیر کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کار کنوں نے صبر سے اس دہشتگردی کو برداشت کیا اور کوئی غیرکانونی حرکت نہیں کی۔ آج کی پرامن ہڑتال میں خوشگوار ردِ عمل دیکھنے میں آیا۔عوام اپنے گھروں پر رہے، شہر کے پٹرول پمپ بند ہیں، پبلک ٹراسپورٹ بلکل بند ہے،کراچی کے تمام بازار تمام اور مارکیٹیں بند ہیں۔ تعلیمی اداروں نے اپنے اپنے سیٹ اپ بند رکھے ہوئے ہیں۔ کراچی کی سڑکوں پرمعمول کی ٹریفک میں نمایاں کمی اور گورنمنٹ اداروں میں معمول سے کم حاضری نوٹ کی گئی۔اس ہڑتال کی کال کے موقعے پر نہ کوئی ٹائر جلایا گیا۔نہ کسی ٹرنسپورٹر کو گاڑی جلانے کی دھمکی دی گئی، نہ کسی دکان والے کو دکان جلانے کی دھمکی دی گئی نہ رات کوخوف وہراس پھیلانے کے لیے فائرنگ کی گئی اور نہ کسی بے گناہ کا قتل ہوا کراچی کے ہر طبقے نے اس ہڑتال میں شریک ہو کر اپنے مہذب شہری ہو نے کا ثبوت دے دیا۔ملک کی تمام دینی اور سیاسی پارٹیوں کو اس پُرامن ہڑتالی عمل کو مثال بناتے ہوئے اپنے اپنے کارکنوں اسی طرح کی تربیت کرنی چاہیے کہ اختلاف رائے اور شدید احتجاج کے باوجود حکومت کی پراپرٹی جو حقیقتاً عوام ہی کی ہوتی ہے کو جلانے، خودعوام کی پراپرٹی کو جلانے، ناحق لوگوں کو قتل کرنے کے بغیر بھی احتجاج ریکارڈ کرایا جا سکتا ہے۔
جماعت اسلامی کراچی کے رہنما ڈاکڑ پرویز محمود شہید کی نماز جناز کے بعد اس کے جست خاکی کے ساتھ پر امن احتجاج کے لیے جلوس جنازہ کو وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کا کہا گیا۔ راستے میں بازروں میں دونوں طرف اوراپنی اپنی دکانوں کے باہر کھڑے لوگوں نے ہاتھ ہلا ہلا کر مظلوم شہید کے ساتھ اظہار یکجیتی کا مظاہرہ کیا۔وزیر اعلیٰ ہاؤس پہنچنے کے بعد وہاں پر منظم دھرنا دیا گیا محترم محمد حسین محنتی امیر جماعت اسلامی کراچی اور محترم اسد اللہ بھٹو امیر جماعت اسلامی صوبہ سندھ نے خطاب کیا اس کے ساتھ ساتھ محترم نسیم احمد سکریرٹری بار بار اناوسمنٹ کرتے رہے کہ ہم پرامن لوگ ہیں کارکن بلکل پرامن رہ کر اپنے جذبات کا اظہار کریں کسی غیر قانونی اور بد اخلاقی کا مظاہرہ نہ کریں تقاریر میں گورنر سندھ کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا۔ پیپلز پارٹی سے احتجاج کیا گیا کہ اس کی مفاہمت کی پالیسی کی وجہ سے دہشگرد کراچی میں دھندناتے پھر رہے ہیں ہر روز بے گناہوں کی ٹارگٹ کلنگ کر رہے ہیں ان دہشت گردوں کو اپنے اتحاد سے علیحدہ کیا جائے ۔ کراچی کو ان کی دہشت سے نجات دلائی جائی دہشت گردوں کو گرفتار کر کے ان کو سزا دی جائے اس کے بعد دعا پر یہ پرامن دھرنا ختم کیا گیا جسد خاکی کو سخی حسن کے قبرستان میں دفنانے کے لیے جلوس جاتے ہوئے گورنر ہاؤس کے دفتر کے سامنے سے گرنے لگا تو جماعت اسلامی کے ایک دوسرے کارکن عبد الواحد کو پولیس نے دہشت گرودں سے اظہار یکجہتی کرتے فائرنگ کر کے ہوئے شہید کر دیا گیا اس شہید کی نماز جنازہ آج دفترجماعت اسلامی کراچی کے سامنے ادا کی گئی ۔ دعاء کے بعد اس شہید کے جسدِخاکی کو ملیر کے قبرستان میں دفنانے کے لیے جلوس کی شکل میں روانہ کیا گیااورکارکنان جماعت اسلامی پرامن طریقے سے منتشر ہو گئے۔ اس کے بعد آج ہی پانچ بجے جماعت اسلامی کراچی کے دفتر ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کا اعلان کیا گیا جس میں امیر جماعت اسلامی کراچی آئندہ کے لا ئح عمل کا اعلان کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں  گوادر:بلوچستان میں ایف سی کو بد نام کیا جارہا ہے میروشدل رند

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker