اختر سردار چودھریتازہ ترینکالم

دہشت گردی کی تعریف!

akhtarدہشت گردی کا مفہوم کیا ہے ؟اس لفظ نے بھی بہت کنفیوز کیا ہوا ہے ۔سب کی اپنی اپنی تعریفیں ہیں، گزشتہ دنوں محترم جان کیری امریکہ کے وزیر خارجہ نے ایک نئی تعریف متعارف کرائی ہے ، ویسے بھی آج کل یہ لفظ ہر سیاست دان ،مذہبی رہنما،اینکر ،صحافی کی زبان پر ہے ،یہ ان الفاظ میں سے ایک ہے، جس پر آج کل سب سے زیادہ گفتگو ہو رہی ہے ۔قارئین پہلے یہ دو خبریں پڑھ لیں اس کے بعد دہشت گردی کی تعریف کی طرف آتے ہیں ۔
اسرائیلی فورسز اور فلسطینیوں میں جھڑپیں بھی ہوئیں ،جس دوران کئی مظاہرین زخمی ہوگئے ، جبکہ ایک اسرائیلی فوجی پر چاقو سے حملہ کرنے والے 2 فلسطینیوں کو گولیاں مار کر شہیدکردیا گیا۔چاقو گھونپنے اور فائرنگ کا یہ واقعہ مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے باب الدمشق کے باہر پیش آیا ہے اور اسرائیلی پولیس نے اس کو دہشت گردی کا مشتبہ حملہ قرار دیا ہے ۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینی نوجوان کو 11 گولیاں ماریں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو کر سڑک پرگرگیا۔ اسرائیلی فوجیوں نے امدادی کارکنوں اور ایمبولینس کو زخمی کے قریب جانے کی اجازت نہیں دی جس کے نتیجے میں وہ تڑپ تڑپ کر جام شہادت نوش کرگیا۔( عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ فلسطینی شہری کے پاس کوئی چاقو نہیں تھا، صہیونی فوجیوں نے اس کے پاس ایک چاقوپھینک دیا تھا) یہ تو تھی پہلی خبر ایک دوسری خبر دیکھیں۔
امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے منگل کو اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا ایک روزہ دورہ شروع کیا اور فلسطینیوں کی طرف سے چاقو کے حملوں اور گاڑیاں چڑھانے کے واقعات کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان مذمت ضروری ہے ۔کیری نے مزید کہا کہ آج میں اپنی طرف سے ہر ایسے عمل کی شدید مذمت کرتا ہوں، جس سے معصوم جان ضائع ہوتی ہے یا جو قوم کی روز مرہ زندگی میں خلل ڈالتا ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے کہ ڈرون حملے سے سینکڑوں معصوم بچے جو شہید کر دیئے گئے، کیا وہ دہشت گرد تھے ان کو معصوم جان صرف یہودی ہی نظر آتے ہیں ۔ ایک فلسطینی نے چاقو سے حملہ کر دیا ،یہ دہشت گردی ہے ان کو یہ نظر نہیں آیا کہ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینی نوجوان کو 11 گولیاں ماریں یہ دہشت گردی نہیں ہے ۔
اس سال اکتوبر سے لے کر اب تک ایک امریکی شہری اور 19 اسرائیلی ان حملوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ اسرائیل کی فوج اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور ان پر حملے کرنے کے واقعات کے دوران 86 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں خواتین کے علاوہ بیشتر نو عمر لڑکے تھے ۔یہ نوعمر لڑکے معصوم نہیں ہیں ۔اور ان کو شہید کرنے والے معصوم ہیں ۔اب آپ غور سے لفظ دہشت گردی کی تعریفیں دیکھیں ۔اسلحہ کے ذریعے قتل ،خوف و وحشت پیدا کرنا ۔اسلحہ کے زور پر ،سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے بربریت کرنا ۔اب سیاسی مقاصد کون حاصل کر رہا ہے دنیا بھر میں نظر دوڑائیں ۔
دہشت گردی ایک نظریہ ہے، جوا گروہ اپنے عقائد،نظریات ،رسم و رواج ،یا اپنی کوئی بات منوانے کے لیے ،مسلط کرنے کے لیے دوسروں پر زبردستی کریں ،اسلحہ استعمال کریں ،اس کے لیے بربریت سے بھی گریز نا کریں ۔اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے عام افراد کا قتل ۔یہ ہے دہشت گردی کی تعریف لیکن طاقت ور ممالک کو دہشت گردی کی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ۔و ہ اپنے مخالف ممالک و افراد کے علاوہ جماعت یا تنظیم کو جسے وہ خود پسند نہیں کرتے ۔بلکہ جو ان کی غلامی کو قبول نہیں کرتے ۔یا جن کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ یہ مستقبل میں ان کے لیے درد سر بن سکتے ہیں ۔یا جو ان کے نظریات کو تسلیم نہ کریں ان کو دہشت گرد قرار دے کر اس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے اسے پہلے دہشت گرد کہتے پھر اس کے خلاف دہشت گردی کرتے ہیں۔اس طرح دہشت گردی کی ایک نئی تعریف وجود میں آتی ہے ۔کہ جو طاقت ور ممالک کے خلاف اٹھے وہ دہشت گرد ہے ۔
دہشت گردی (Terrorisme)دو الفاظوں کا مرکب ہے ’’ دہشت ‘‘سے مراد خوف وحراس ، افراتفری اور لفظ’’ گردی ‘‘گردش سے نکلا ہے ،مطلب کہ کسی خطے و معاشرے میں دہشت ‘‘ اور افراتفری پھیلانا ہے ۔اسلام میں دہشت گردی کے لیے فساد فی الارض کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے یا اس کا مفہوم ادا کرتا ہے بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ لفظ دہشت گردی ،فساد فی الارض کا ایک جز ہے ۔ اسلام خود دہشت گردی کے خلاف ہے ،بلکہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ نقصان بھی مسلمانوں کو ہوا ہے ،اب تک ،کیونکہ دہشت گرد بھی مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کرتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جو نام نہاد جنگ لڑی جارہی ہے وہ بھی مسلمانوں کے خلاف ہے۔
(مغرب )میں اس کا معنی ہی بدل دیا گیا ہے ، اس کے معنی بدلنے کے لیے میڈیا کا بہت حصہ ہے، بڑے ممالک کی منافقت کا ہاتھ ہے، ان کی دوغلی پالیسی کی مرہون منت ہے ۔کہ دہشت گردی کا نام لیں توانگلی سیدھی اسلام کی طرف اٹھ جاتی ہے ۔بے شک ایک مسلمان کے پاس اپنے دفاع کے لیے چاقو ہو، وہ دہشت گرد ہے اور یہودی گولیوں سے بھون کے رکھ دے یہ دہشت گردی نہیں ہے۔ میڈیا پر مغرب کا قبضہ ہے ،کافی حد تک میڈیا پر قبضہ جن کا ہے ،ان کا کہا حرف آخر سمجھا جاتا ہے ۔اور انہوں نے اسلام کے خلاف یہ لفظ استعمال کیا ہے۔ میڈیا پر اس بارے میں ایسے کام کیا گیا ہے کہ مسلمان دہشت گردوں کے نام سے جانے جائیں ۔اور چونکہ انہوں نے اس پر محنت کی ہے، اس لیے کافی حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہیں ۔ اس پر ٹی وی پروگرام،کتابیں ،اور لاکھوں آرٹیکل لکھے گئے ہیں ۔مغرب کی اس یلغار کے سامنے مسلمانوں کی طرف سے کوئی توانا آواز نہیں ہے ۔اس لیے لفظ دہشت گردی اب مسلمانوں کے لیے ہی بولا جاتا ہے ۔ہندو ،عیسائی ،یہودی بے شک دہشت گر د کاروائیاں کریں ،لاکھوں افراد کو بے قصور قتل کر دیں ،اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دیا جاتا ہے۔ دہشت گردوں نے دہشت گردی کی تعریف بھی اپنی پسند کی بنائی ہوئی ہے ۔ اب تک دہشت گردی کی کوئی واضح اور ایک جامع تعریف پر اتفاق نہیں کیا گیا ہے ۔جان کیری کے بیان کے بعد بس ایک ہی خیال ذہین میں آیا کہ ۔
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

یہ بھی پڑھیں  قصور:ڈسڑکٹ ہسپتال،مریضوں کا آکسیجن سلنڈر ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر غلام شبیریزدانی کے پرائیویٹ ہسپتال سے برآمد

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker