پروفیسرعبداللہ بھٹیتازہ ترینکالم

ڈکیتی

میں نے صبح جب موبائل فون آن کیا تھا میرے جاننے والے ڈاکٹر صاحب کا نام موبائل سکرین پر چمک رہا تھا میں نے کال رسیو کی اور خوشدلی سے ڈاکٹر صاحب کو مخاطب کیا ڈاکٹر صاحب بھی ہمیشہ پر جوش زندگی سے بھر پور آواز میں گفتگو کا آغاز کر تے لیکن آج مسئلہ الٹ نکلا ڈاکٹر صاحب نے جیسے ہی میری آواز سنی روتے بلکتے چیخیں مارتے ہوئے بولے پروفیسر صاحب میں مر گیا برباد ہو گیا لٹ گیا میری ساری زندگی کی کمائی ڈکیتوں نے لوٹ لی میری ساری دولت چوری ہو گئی میں کنگال ہو گیا میں مرنے والا ہوں خدا کے لیے میری مدد کریں بتائیں میرے چور کون ہیں جنہوں نے میری ساری زندگی کی کمائی لوٹ کر مجھے آسمان سے زمین پر دے مارا ہے ڈاکٹر صاحب خود پر ہونے والی ڈکیتی چوری کو اونچی آواز میں رورو کر سنا رہے تھے مدد مدد پکار رہے تھے مجھے فون کر نے کا مقصد یہ تھا کہ میں ابھی اُن کو چوروں کے نام بتاؤں اور یہ جا کر اپنی رقم واپس حاصل کر سکیں ہمارے معاشر ے کا یہ المیہ ہے کہ بہت سارے لوگوں نے گھروں میں جب چوری ہوتی ہے تو بابوں کا رخ کرتے ہیں کہ با بے اپنے جنات بھیج کر ابھی اُن کی چوری شدہ رقم واپس کر دیں اِس غلط فہمی کی بنا پر ڈاکٹر صاحب مُجھ سے چوروں کا نام پتہ پوچھ رہے تھے میں ڈاکٹر صاحب کو پچھلے بیس سالوں سے جانتا ہوں ڈاکٹر صاحب کا ایک خواب تھا کہ وہ ایک بہت بڑا پرائیویٹ ہسپتال بنائیں جس میں دنیا جہاں کی جدید مہنگی مشینیں ہوں پاکستان کی سب سے اچھی جدید لیبارٹری ہو دنیا جہاں کے سب سے قابل ڈاکٹر ہسپتال میں ہوں اپنے اِس خواب کی تکمیل کے لیے ڈاکٹر صاحب دن رات پیسے اکٹھے کرنے کے چکر میں لگے ہوئے تھے ہسپتال بنانے کے خواب کی تکمیل میں ڈاکٹر صاحب انسا ن کی بجائے پیسے کمانے والی مشین بن کر رہ گئے تھے ڈاکٹر صاحب اپنی بیگم کے ساتھ مُجھ فقیر کے پاس آتے تھے بیگم اکثر ڈاکٹر صاحب سے شکوہ کرتی کہ ڈاکٹر صاحب پیسے کمانے کی سڑک پر اس طرح دوڑ رہے ہیں کہ اِن کو پتہ ہی نہیں کہ اِن کی ایک عدد بیگم اور تین بچے بھی ہیں جن کو ڈاکٹر صاحب کی صحبت وقت درکار ہے جب ڈاکٹر صاحب کو کہا جاتا کہ جناب اپنے خاندان والوں کو بھی وقت دیا کریں اِن کا آپ پر سب سے پہلے حق ہے تو ڈاکٹر صاحب سنی ان سنی کر دیتے کہتے یہ ساری بھاگ دوڑ میں کن کے لیے کر رہا ہوں یہ ساری محنت اور بھاگ دوڑ خاندان کی شاندارپر آسائش زندگی کے لیے ہی تو کر رہا ہوں ڈاکٹر صاحب اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے پورے پاکستان میں چھوٹے چھوٹے شہروں تک جاتے درمیانے سرجن تھے اِس لیے چھوٹے شہرجہاں پر عطائی قسم کے لوگوں نے چھوٹے ہسپتال کھول رکھے تھے اِن میں جا کر اپریشن کرتے اور پیسہ اکھٹا کرتے پیسے کمانے کی دھن میں اِس قدر مگن تھے کہ اگر کسی دور دراز کے شہر سے ہو کر واپس آئے ہیں اور گھر آتے ہی ابھی کھانا شروع ہی کیا ہے تو کسی دوسری جگہ سے کال آگئی ہے تو کھانا چھوڑ کر اُس شہر کی طرف دوڑ لگا دی کہتے یہ میری پچاس ہزار کی دھیاڑی ہے یہ ایک لاکھ کا چکر ہے مجھے نہ روکو جانے دو ڈاکٹر صاحب اِس طرح کی بھاگ دوڑ میں مصروف تھے کئی سال کی محنت کے بعد چند کروڑ اکٹھے کر لیے لیکن جو اُن کا خواب تھا اُس کے لیے زیادہ رقم درکار تھی اب ڈاکٹر صاحب کو کسی نے مشورہ دیا کہ آپ کے پاس جو پیسے گھر میں بیکار پڑے ہیں اِن کے پرائز بانڈ لے لیں تاکہ بڑے انعام نکلنے کی صورت میں یہ چند کروڑ ڈبل ٹرپل ہوجائیں گے اب ڈاکٹر صاحب نے سات کروڑ روپے کے پرائز بانڈ لے کر گھر میں رکھ لیے بنک میں پیسے اِس لیے نہیں رکھے کہ لوگوں کو پتہ نہ چل جائے گھر میں ڈاکٹر صاحب نے ایسا بیڈ تیار کرایا جس کے نیچے بڑے بڑے دراز بنوائے اب اُن درازوں میں بانڈ رکھ کر بیڈ کے اوپر بستر لگا کر سوجاتے اِس راز کا صرف بیگم کو پتہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب کی کل کمائی ان کے بستر کے نیچے ہے مجھے ہر ماہ فون کر تے کہ میں کونسے نمبروں والے بانڈ خریدوں تاکہ انعام لگنے کے بعد میری دولت کا خزانہ دوگنا تگنا ہو جائے ڈاکٹر صاحب دنیا مافیا سے بے خبر دولت اکٹھی کر نے کی ہوس میں اندھے ہو چکے تھے کیونکہ ڈاکٹر صاحب کو بڑی رقم درکار تھی اِس لیے یہ قصائی کا روپ دھا رچکے تھے اگر کسی مریض کو عام پیٹ درد ہو تا تو یہ اُن کا بھی اپنڈکس کا اپریشن کر دیتے سینکڑوں صحت مند لوگوں کے پتے نکال چکے تھے کہ مریض بیچارہ ڈاکٹر صاحب کو مسیحا سمجھ کر آیا یہ جان بوجھ کر اُس پر موت کا خوف طاری کر دیتے کہ اگر فوری اپنڈکس یا پتے کا آپریشن نہ کیا تو زہر اند ر پھٹ جائے گا ذھر اِس قدر ہولناک ہے کہ چند منٹوں میں ہی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھوگے مریض بیچارے زیورات زمین بیچ کر فوری آپریشن کی رقم جمع کر اتے اِس لوٹ مار میں ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی نہ دیکھا کہ کوئی یتیم مسکین بیوہ غریب لاچار ہے انہوں نے اُسترا سب پر چلا دیا اپنی اس بے رحمی کو آرٹ قرار دیتے کہ لوگوں کی خدمت کر رہا ہوں اور جو پیسے اکٹھے کر رہا ہوں اِس سے بڑا ہسپتال بنا کر زیادہ لوگوں کی خدمت کروں گا دولت اکٹھی کر نے کی ہوس میں ڈاکٹر صاحب اندھے ہو چکے تھے اِس طرح کے مریض ہمارے معاشرے میں بکھرے ہوئے ہیں جو دولت کے حصول میں اندھے ہو کر لوٹ مار کرتے نظر آتے ہیں ڈاکٹر صاحب کی اِس لوٹ مار میں پتی نہیں کسی مجبور بے بس مظلوم کی آہ ڈاکٹر صاحب کو لگ گئی کہ ساری زندگی کی کمائی کسی نے لوٹ لی رات میں ڈاکو آئے انہوں نے جب بیٹے کی گردن پر پستول رکھا تو بیگم چیخ پڑی کہ پیسے بیڈ کے نیچے ہیں ڈاکٹر صاحب اُس وقت کسی مریض کا پیٹ پھاڑ کر پیسے بنا رہے تھے جبکہ اُسی اُن کے گھر میں ڈاکو اُن کے بیڈ کو پھاڑ کر ڈاکٹر صاحب کی زندگی بھر کی کمائی لوٹ رہے تھے قدرت نظام بہت پراسرار ہے کہ یہاں پر جو کرو گے جو بیج کا شت کرو گے وہی واپس آئے گا ڈاکٹر صاحب نے جس بے رحمی سے لوگوں کو لوٹا قدرت نے اُسی بے رحمی سے ایک ہی رات میں ڈاکٹر صاحب کو کروڑ پتی سے ککھ پتی بنا دیا ہم اِس مادیت پرستی کے طلسم میں غرق دنیا میں دولت کے حصول میں اندھے ہو کر لوگوں کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ کائنات کا مالک کھربوں درختوں کے گرنے والے پتوں سے بھی باخبر ہے تو تمہاری لوٹ مار کو کیسے بھول سکتا ہے اِس دنیا میں جو ڈکیتی کرے گا اُس کے ساتھ بھی ویسی ہی ڈکیتی ہو گی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!