تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

دیکھا !!! ایک روزہ کھا گئے!!

shairپاکستان میں عید کی آمد آمد ہے ۔رمضان المبارک کے الوداعی ایام ہیں۔رحمتوں اور برکتوں والا یہ ماہ کریم عاصیوں کیلیئے مغفرت کی نوید ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان اس مہینے کی آمد پر خوشیاں مناتے ہیں۔نہایت عقیدت اور دلجوئی کے ساتھ خالق حقیقی کی عبادت کرتے ہیں۔یہاں تک کہ ایسے لوگ بھی ذکرواذکار اور نوافل کا باقاعدہ اہتمام کرتے ہیں جو شاید پورا سال مسجد کے قریب سے بھی نہ گزرے۔ ہوں۔اس ماہ مبارک کا آغاز امید بخشش ومغفرت ہے۔اسکو الوداع کرتے ہوے اگرچہ زاہد وعابد اشکبار ہوتے ہیں لیکن اس کا اختتام مسلمانوں کو عید کا تحفہ دیتا ہے۔لیکن ہم اپنی کم علمی ،انا پرستی اور اپنے بنائے گئے اصولوں سے اس مہینے کی چاشنی اور خوشیوں کو گرہن لگا دیتے ہیں۔اللہ عزوجل کی رحمتوں سے مستفیظ ہونے کی بجائے فرسودہ بحث مباحثوں اور جھگڑوں میں الجھ جاتے ہیں۔رمضان کی آمد پر اس بات پر جھگڑا ہوتا ہے کہ چاند نظر آیا کہ نہیں۔ملک کے ایک حصہ میں لوگ روزہ رکھتے ہیں جب کہ دوسرے حصہ میں ابھی رمضان کا آغاز ہی نہیں ہوا ہوتا۔اسی طرح رمضان کے اختتام پر عید کے چاند پر جھگڑا ہوتا ہے۔اگر ہلال کمیٹی انتیس دنوں بعد عید الفطر کا اعلان کر دے توکہا جاتا ہے کہ مولوی ایک روزہ کھا گئے۔
یہاں سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اک دو نمازیں پڑھ لے تو وہ خودکو مفتی سمجھنے لگتاہے اور اپنے فتوی جاری کرنے شروع کر دیتا ہے۔چاند دیکھنا تو دور لوگوں نے پوراسال کبھی آسمان کی طرف منہ اٹھا کر نہیں دیکھا۔اور اگر ہلال کمیٹی اعلان کر دے کہ رمضان کا چاند نظر نہیں آیا تواگلے دن ہر چوراہے پر لوگوں کا ہجوم آسمان پرنظر لگائے ہوگا۔اور چاند دیکھتے ہی فتوی دیں گے 152کہ دیکھو دوسرے دن کا چاند ہے ایک روزہ کھا گئے ہیں ۔ا ۔ہم بحثیت قوم اور بحثیت مسلمان ایک ہی معاملے پر اتفاق رائے نہیں رکھتے۔ایک ہی ملک میں کچھ لوگ روزہ رکھتے ہیں اور چند کلومیٹر دور کچھ لوگ عید منا رہے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوا کہ ملک میں ایک جگہ عیہ تھی اور دوسری جگہ دو دن بعد عید تھی اور پچھلے سال تو ملک میں تین عید منائی گئی ۔یہ بات بھی انتہائی حیران کن ہے کہ ابر آلود موسم میں جہاں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے چاند نظر نہیں آتا وہاں کچھ مقامات پر دور کی نظرکا چشمہ پہنے لوگ اسی ابر آلود موسم میں چاند دیکھنے کی گواہی دیتے ہیں۔کچھ لوگ تو اس بات پر بضد ہیں ابتداء رمضان اور عید سعودی عرب کے ساتھ ہو۔اگر ایسا ہے توپھر نماز بھی اسی وقت پڑھیں جب سعودی پڑھتے ہیں۔مثلا جب سعودی عرب میں فجر کی نماز ہوتی ہے۔ (ان دنوں) اس وقت پاکستان میں ساڑھے چھ ہوتے ہیں۔
در حقیقت ایک سازش کے تحت مسلمانوں میں پھوٹ ڈالی گئی ہے۔پاک وہند کے مسلمانوں نے حسب روایت ان سازش سازوں کو مایوس نہیں کیا۔ہم اپنے اتنے بڑے مذہبی تہوار پر بھی یکجا نہیں ہوتے نہ ہی خود کو ایک قوم ثابت کر پا رہے ہیں۔کتنا بہتر ہے کہ حکومت،ہلال کمیٹی اور مولوی و مفتی پر اعتراضات کی بجائے چاند کی رویت کے متعلق اسلامی احکامات پرھیں اور ان احکامات کی پیروی کریں۔آسٹروفزکس کے اساتذہ و طلباء سے گزارش ہے کہ وہ اپنے گردو نواح میں لوگوں کو رویت ہلال کے متعلق آگاہی دیں اور حکومت کو بھی چاہیے کہ اس معاملے کو اہمیت دے اور ایسے اقدامات کرے کہ کم از کم پاکستانی عید کے دن تو یکجا ہو جائیں۔اور عید سہی معنوں میں عید لگے۔

یہ بھی پڑھیں  کوئٹہ کیرانی روڈ دھماکےکیخلا ف ملک بھر میں احتجاجی دھرنے، لواحقین کاتدفین سےانکار

میرے آنگن میں دبے پاؤں نئے روگ لیے
سال کے سال اک عید چلی آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  یو سی133 ،چئیر مین کا ٹکٹ فیصل شامی کودیا جائے ؛ لیگی کارکنوں کامطالبہ

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker