پاکستان

تیل کی قیمتوں کو عام آدمی کی قوت خرید سے ہم آہنگ رکھنے کیلئے متوازن پیٹرولیم پالیسی کی ضرورت ہے، آئی پی ایس سیمینار سے مقررین کا خطاب

اسلام آباد ﴿بیورو رپورٹ﴾ انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے ماہرین حکومت کی مجوزہ پیٹرولیم پالیسی 2012ئ پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران عام صارف اور مقامی صنعت کا تحفظ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ پاکستان میں بھارت کے مقابلے میں تیل کے صارفین سے کہیں زیادہ قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں۔ قیمتوں میں توازن کیلئے غیرمتوازن پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں۔ انسٹیٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز انرجی پروگرام سٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین اور وزارت پانی و بجلی کے سابق سیکرٹری مرزا حامد حسن کی زیرصدارت موجودہ توانائی بحران اور مجوزہ پیٹرولیم پالیسی 2012ئ پر منعقدہ سیمینار سے محمد عارف صدر انرجی لائرز ایسوسی ایشن آف پاکستان خالد رحمان ڈائریکٹر جنرل آئی پی ایس اور آئی پی ایس انرجی پروگرام کی سربراہ امینہ سہیل نے خطاب کیا جبکہ سابق ایف بی آر آفیسر مسعود ڈاہر، سابق چیف اکانومسٹ پلاننگ کمیشن فصیح الدین سمیت دیگر ماہرین شریک ہوئے۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران 7 پیٹرولیم پالیسیاں وضع کی گئی ہیں۔ مقررین نے زور دیا کہ حکومت کو چاہئے کہ متوازن پیٹرولیم پالیسی وضع کرتے ہوئے تیل کی قیمتیں ایسی سطح پر متعین کی جائیں جو عام آدمی کی پہنچ میں ہوں تاکہ ترقی اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں  پنجاب کے میدانی علاقوں میں 2تا3دن دُھندرہنے کا امکان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker