تازہ ترینعلاقائی

ڈیرہ غازیخان:سوئی گیس کی بندش کے خلاف درجنوں مردوں کا خواتین سمیت مظاہرہ

Y5ڈیرہ غازیخان (جنید ملک سے ) سوئی گیس کی بندش کے خلاف درجنوں مردوں کا خواتین سمیت محکمہ سوئی گیس آفس کے سامنے مظاہرہ، مظاہرین نے گیس کی بندش پر شدید نعرے بازی کی ۔تفصیلات کے مطابق شدید سردی میں گیس کی بندش سے تنگ ڈیرہ غازیخان کے مختلف علاقوں اللہ آباد، ماڈل ٹاؤن ، خیابان سرور ، لغاری کالونی ، فرید آباد ، رکن آباد وغیرہ سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے صبرکا پیمانہ لبریز ہوا تو وہ کام کاج چھوڑ کر احتجاج کیلئے خواتین سمیت گھروں سمیت باہر نکل آئے اور محکمہ سوئی گیس کے آفس پہنچ کر گیس کی بندش کیخلاف احتجاج کیا اور شدید نعرے بازی کی، مظاہرین غلام سرور، صادق کھوسہ، عثمان جتوئی، یوسف کھوسہ، راشد قیصرانی، عزیز لغاری، اسد قیصرانی، احسن رشید، عارف ، اعجاز علیانی، بلال پٹھان، خرم نتکانی، کامران بھٹی ، عبدالرحمان، نجم الحسن، حسن رضا، جمیل بزدار، قاضی شکیل وغیرہ نے احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے سوئی گیس آفس میں گھسے تو محکمہ کے افسران نے کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے پولیس طلب کر لی، اس موقع پر تحریک عوامی انقلاب کے سربراہ زبیر احمد بھٹی بھی موجود تھے مظاہرین کا کہنا تھا کہ نہ ناشتہ بنانے کے لئے گیس ہوتی ہے اور نہ کھانا بنانے کے وقت جس کی وجہ سے گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے بلکہ ان کے بچے بغیر ناشتہ کئے سکول جاتے ہیں اور جب گیس کا بل آتا ہے وہ سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہوتا ہے جس سے پورے مہینہ کا بجٹ ڈسٹرب ہوتا ہے ان کے بچے سخت سردی میں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گھریلو صارفین نے بلا تعطل گیس کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں ۔اس موقع پر سابق ایم پی اے سید عبدالعلیم شاہ بھی محکمہ سوئی گیس حکام پر برس پڑے انتباہ کیا ہے کہ تین روز کے اندر گیس کے پریشر اور سپلائی کو بہتر نہ کیا گیا تو شدید احتجاج کیا جائیگا۔دوسری طرف سوئی گیس کے مقامی حکام کا کہنا ہے پیچھے سے 50 فیصد گیس کی سپلائی میں کمی کر دی گئی ہے کہ سوئی گیس کے پریشر کی ایک وجہ سردی کی شدت کی وجہ سے گیس کے طلب میں اضافہ ہوا ہے اور دوسری طرف ٹی ایم اے ، پبلک ہیلتھ اور پراونشل ہائی وے ڈیپارٹمنٹس نے جگہ جگہ گھدائی کر کے گیس پائپ لائنوں کو متاثر کیا ہے

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ: عید میلاد النبی ﷺ ضلع بھر میں انتہائی عقیدت و احترام سے منائی گئی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker