تازہ ترینکالممحمداعظم عظیم اعظم

مکیاں،دہشت گردیاں اور انتخابات، انتظامات اور خدشات

Azam Azim Azamآج اپنی مفادات کی جنگ میں انسان کو مارنااتناآسان ہوگیاہے، جتناپہلے کبھی نہیں تھا،اَب اِسی کو ہی دیکھ لیں کہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کی شام ایک سے دو گھنٹے کے دوران ہونے والے چار سے پانچ بم دھماکوں اور اِن دھماکوں کے نتیجے میں آٹھ معصوم افراد کی ہلاکت سمیت 48افراد کے زخمی ہونے کے سانحات نے قوم کو پہلے ہی سہمادیاتھا کہ اِسی روزکراچی کے علاقے بفرزون میں پیپلزچورنگی پر ایم کیو ایم کے الیکشن کیمپ کے نزدیک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں چارافرادجان بحق اور بیس سے زائدزخمی بھی ہو گئے جس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ کے قائداور رابطہ کمیٹی کے اراکین نے لندن اورکراچی سے جاری اپنے ایک احتجاجی بیان میں اِس المناک سانحہ کی پرزورمذمت کرتے ہوئے کہاکہ متحدہ ، اے این پی اور پیپلزپارٹی کو انتخابی عمل سے دوررکھنے کے لئے دہشت گردعناصر دھمکیاں دے رہے ہیں اِن حالات میں کون ذی شعور ووٹ دینے نکل سکتاہے اور اِس موقع پر اِنہوں نے اپنے کارکنوں اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اُمیدواروں کو احتجاجاَ ایم کیو ایم کے انتخابی دفاتربند کرنے کی ہدایت کی ، جبکہ بدھ کو سندھ بھر میں سوگ ، کاروباراور ٹرانسپورٹ بندرکھنے کی بھی اپیل کی،اور یوں بدھ کو کراچی سمیت سندھ بھر میں ایم کیو ایم کی اپیل پر یوم سوگ منایاگیا،کراچی میں تمام کاروباری مراکزاور چھوٹی بڑی مارکیٹیں جہاں بندرہیں تو وہیں سارامعاملات زندگی بھی بُری طرح سے مفلوج ہوکررہ گیا،اگرچہ شام چار بجے بندمارکیٹیں اور ٹرانسپورٹ سمیت پیٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز تو کھل گئے مگرافسوس تو اِس بات کا رہاکہ روزانہ دہاڑی پر جانے والے لاکھوں افرادکے گھروں کے چولھے ضرورٹھنڈے پڑے رہے تھے،اول توبحیثیت مسلمان دہشت گردی کے واقعات ہوناہی نہیں چاہئے ،مگرہمارے معاشرے میں انسانوں کے روپ میں موجودکچھ بھٹکے ہوئے دہشت گردعناصر پر شیطانیت غالب ہوہی جاتی ہے تو …کسی کا نہیں تو کم ازکم دہشت گرد عناصرکو کسی کو اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنانے سے پہلے اتناضرورسوچناچاہئے کہ اِن کی اِس درندگی سے جہاں کوئی معصوم اِنسان دائرے زندگی سے نکل کر قبرکی آغوش میں جاسکتاہے تو وہیں اِس کے چاہنے والوں کے درعمل کے طور پر کئے جانے والے احتجاجوں سے میرے ملک اور شہرکانظام زندگی بھی متاثرہوجاتاہے اور روزانہ اُجرت پر کام کرنے والے لاکھوں افراد کے گھروں کے چولھے ٹھنڈے پرجاتے ہیں ،اور اِن کے بچے بھوکے ، پیاسے سوجاتے ہیں۔
اَب ایسے میں اِن المناک سانحات کے بعدیہ حقیقت یقیناًسامنے آچکی ہے کہ دہشت گرد عناصر یہ نہیں چاہتے کہ انتخابات کا انعقادپُرامن طورپر ممکن ہوسکے،یہ منصوبہ بندی کے تحت انتخابی عمل کو سبوتاژ کرناچاہتے ہیں مگر دوسری طرف یہ امربھی انتہائی حوصلہ افزاء ہے کہ جیسے جیسے اِنتخابات کی تاریخ گیارہ مئی قریب سے قریب تر آتی جارہی ہے،توویسے ویسے دوسری جانب انتخابی سرگرمیاں بھی تیزسے تیزترہوتی جارہی ہیں اور اِسی کے ساتھ جمہوریت کو اپنی سیاست کی بنیاداور کُل کائنات سمجھنے والے نئے پرانے سیاسی پنچھیوں کی پروازیں بھی جہاں بلندہوتی جارہی ہیں توکسی کی جانب سے اپنے مدمقابل کومناظرے اور ٹاکرے کی کھلم کھلادعوتیں بھی دی جارہی ہیں جہاں یہ سب کچھ کیا جارہاہے تووہیں کچھ سیاسی مینڈکوں کی پھدکنے کی صلاحیتوں میں بھی نمایاں اضافہ محسوس کیاجانے لگاہے۔ جبکہ دوسری طرف مُلک کی دو، تین بڑی سیاسی جماعتوں ( یعنی ماضی کی حکمران جماعت پاکستا ن پیپلز پارٹی سمیت ) متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے عہدیداروں ، کارکنوں اور اُمیدواروں کو ٹارگٹ کرکے قتل کرنے اور اِن کے اِنتخابی دفاتر کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں بھی تیزی آتی جارہی ہے، یوں اِن مندرجہ بالا دونوں کیفیات سے مُلک میں انتخابی فہم جاری ہے جس سے متعلق خیال یہ کیا جارہاہے کہ یہ انتخابی فہم نو مئی کی شب بارہ بجتے ہی بخیروعافیت سے اختتام پزیر ہوجائے گی ، ایسے میں راقم الحرف کی دعا یہ ہے کہ اللہ کرے…! کہ میرے مُلک میں گیارہ مئی 2013کو ہونے والے انتخابی عمل سے بغیر کسی خون خرابے اور پُرتشدت واقعات کے وہ تبدیلی ضرورآجائے ،آج جس کی اُمیدلئے میرے ملک کا ہر فرد اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کا اِرادہ رکھتاہے۔
اِن حالات میں مُلک بھر میں جمہوریت کے پجاری اپنے اپنے لحاظ سے اِس کی پوجاپاٹ میں مصروف ہیں تو وہیں دہشت گرد عناصر بھی اپنے عزائم کا شیطانی عمل جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ انتخابات کے انعقاد کو صرف 15/14دن ہی رہ گئے ہیں، ایسے میں پی پی پی ، ایم کیوایم اور اے این پی سے وابستہ اشخاص پر ٹارگٹڈ حملوں کا مقصدیقیناًیہ ظاہرکرتاہے کہ دہشت گرد عناصر کسی غیر کے اشارے پر ایساکچھ کررہے ہیں، تاکہ یہ جماعتیں انتخابی عمل سے دوررہیں،اور یہ بندکمرے میں قیدہوکردیوار سے لگ کر رہ جائیں، اور اِس طرح اِنہیں شکست کا سامنہ کرناپڑے جائے، یوں اِن دہشت گردوں کے نزدیک آئندہ اُن جماعتوں کی حکومت تشکیل پاجائے، جوکئی حوالوں سے اِن کی حامی اور جانبدار ہیں، اورایسالگتاہے کہ جیسے اِنہوں نے اِس حوالے سے کوئی خفیہ معاہدہ کررکھاہے ، اوراِس معاہدے اور عہد وپیماں کی پاداش میں یہ جماعتیں اِن دہشت گرد عناصر کے ہر فعلِ شنیع کو نظرانداز کرتی رہی ہیں اور آئندہ بھی شایدیہ اِسی طرح اور اِسی بنیاد پر یہ ایساہی کرتی رہیں گیں۔
اگرچہ آج یہ بات کسی سے بھی شاید ڈھکی چھپی نہ ہوکہ آج جو جماعتیں مُلک بھر میں اپنی آزادانہ انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ، اور پورے مُلک میں روزانہ کی بنیادپر بلاخوف وخطر تین سے چار اپنے بڑے بڑے اِنتخابی جلسے، جلوس اور کارنرمیٹینگز کے انعقاد سمیت ریلیوں کا اہتمام بھی کررہی ہیں اوراپنی اِن سرگرمیوں پراپنے ہم خیال ووٹرزسے دادِ تحسین بھی حاصل کررہی ہیں اِس پر ایک عام تاثریہ بھی پایاجاتا ہے کہ اِن کی اِن انتخابی سرگرمیوں کے پسِ پردہ کہیں نہ کہیں سے اُن عناصر کی پشت پناہی ضرور حاصل ہوگی جو پی پی پی ، ایم کیو ایم اور اے این پی جیسی بڑی سیاسی جماعتوں کو اِن کی انتخابی مہم پر حملے کرنے اور دیگر خطرناک نتائج کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ ایسے میں قومی اداروں پر قوی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دہشت گردی سے متاثر ہ تینوں بڑی جماعتوں کے تحفظات کو فوری طور پر دورکریں تاکہ اقدامات کے مطابق انتخابات منعقدہوسکیں اور مُلک کی ہر جماعت بغیرکسی ڈروخوف کے پُرامن طریقے سے اِن انتخابات میں حصہ لے سکے،اِس کے لئے لازمی ہے کہ الیکشن کمیشن اور سیکورٹی فراہم کرنے والے ادارے متحرک ہوجائیں۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button