تازہ ترینکالممحمد ناصر اقبال خان

دھڑے اوردھڑلے

بھارتی پنجاب کے سنگھوں میں بیٹوں یابیٹیوں کارشتہ طے پاجا نے کی رسم کو” روکا "کہاجاتا ہے۔ رشتہ دیکھنے کیلئے آئے ماں باپ اوربزرگ بیٹے یابیٹی کے ہاتھوں پرشگن کے طورپرچندروپے رکھیں توا سے” روکا” تصور کیاجاتا ہے یعنی رشتہ کیلئے آنیوالے خاندان کی طرف سے باضابطہ طورپر بیٹے یابیٹی کو”روک” لیا گیا ہے اوراب کوئی دوسری فیملی وہاں "روکا”یعنی اپنے بچوں کا رشتہ طے نہیں کرسکتی۔ہمارے معاشرے میں جب کسی بیٹے یابیٹی کی” نسبت "طے پاجائے تواس گھرمیں ” ضرورت رشتہ” کی تلاش میں مزیدافرادکی آمدورفت کاسلسلہ بندہوجاتا ہے تاہم اگربوجوہ منگنی ٹوٹ جائے تودونوں طرف سے "انگوٹھی” سمیت قیمتی سامان کی واپسی کے بعددونوں خاندان پھر سے اپنے اپنے بچوں کیلئے موزوں رشتہ کی تلاش شروع کردیتے ہیں اس طرح اگر اسلامی معاشرے میں محض نکاح مسنون یارخصتی بھی ہوجائے تو اس بندھن میں بندھ جانے کے بعددونوں طرف سے” وفا” ناگزیر تصور کی جاتی ہے لیکن جواپنے شریک حیات کے ساتھ بیوفائی کرے ہمارے ہاں لوگ اسے” بدچلن” اور”بدکردار” کے منفی القابات سے پکارتے ہیں،تاہم خلع یاطلاق کے بعد نیا جیون ساتھی منتخب کرنے کاحق بحال ہوجاتا ہے۔مسلمان مرد ایک ساتھ چار نکاح کرسکتا ہے لیکن دین فطرت اسلام کی روسے عورت کوایک نکاح ہوتے ہوئے دوسرانکاح کرنے کاحق حاصل نہیں۔ لیکن افسوس ہمارے سیاستدان حکومت یااپوزیشن کے کیمپ میں بیٹھے بیٹھے دوسرے” دھڑے” میں شامل سیاسی پارٹیوں کے ساتھ” دھڑلے "سے "اکھ مٹکا”کرتے ہیں،ایسا "Affair” ہرگز” Fair” نہیں ہوسکتا۔ایک جماعت سے اتحاد ختم کئے بغیر دوسری پارٹی کے ساتھ” ڈیل” کیلئے "ڈائیلاگ” کااہتمام کم ظرفی اور فاؤل پلے ہے، شریک حیات اورشریک اقتدار سے بیوفائی کرنیوالے قابل گرفت ہیں۔مخصوص سیاستدانوں کے اندر اقتدار کی شدید ہوس،جبکہ ان کے منفی اورمنافقانہ رویوں سے ملک میں سیاسی بحران پیداہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کے اتحادیوں کاتین چار سال اقتدار انجوائے کرنے کے بعد اس نازک مرحلے میں کپتان کوبلیک میل کرنا جبکہ اپوزیشن کے ساتھ میل جول رکھنا کسی سیاسی نصاب کی رو سے جائز نہیں۔اپوزیشن ناجائز ہتھکنڈوں سے کوئی جائز کام نہیں کرسکتی، ایک منتخب وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے ملک میں سیاسی ومعاشی عدم استحکام پیداجبکہ چھانگا مانگا کی "سیاہ -ست "کو پھر سے دہراناشرانگیز اور شرمناک ہے۔جوکردارمیثاق جمہوریت کے محرک تھے انہوں نے اسے مذاق جمہوریت بنادیا،جولوگ ماضی میں فلور کراسنگ کاقانون بنانے میں پیش پیش تھے اب وہ ضمیرفروش ارکان پارلیمنٹ کوقومی ہیروقراردے رہے ہیں۔جوزندگی بھر” ہارس رائیڈنگ” اور”ہارس ٹریڈنگ "کرتا رہا ہووہ پاکستان اورپاکستانیوں کانجات دہندہ نہیں ہوسکتا۔ پی ٹی آئی کارکنان کاسندھ ہاؤس پردھاوابولنا ہرگز مناسب نہیں،پھر کیا ہوااگروہاں شراب کادور چلتا ہو،پھر کیا ہوااگرمسلم لیگ (ن) کے کیپٹن (ر)صفدر کی قیادت میں کارکنان نے ماضی میں طارق عزیز مرحوم سمیت مسلم لیگ (ن) کے منحرف ارکان پارلیمنٹ کی دہلیزپر تماشا کیاہواوروہاں لوٹوں کے ہار لٹکائے ہوں۔سندھ ہاؤس پردھینگا مشتی کے بعداپوزیشن کاماتم” اوروں کونصیحت خودمیاں فضیحت "کے مصداق ہے۔
احتساب کے داعی اوراسلام کے فدائی کپتان سے نجات کیلئے نیب زدگان کا ہلکان ہونا فطری امر ہے۔امریکا کو جرأتمندانہ انکار اوریورپ کیلئے آبرومندانہ للکار نے کپتان کوپاکستان کامقبول اورمعقول وزیراعظم بنادیا، اسے اپنے مدمقابل سیاسی بونوں سے کوئی خطرہ نہیں،میں نے 13فروری کوکہاتھا،پھر کہتا ہوں وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے مقابلے میں متحدہ اپوزیشن کی ناکامی نوشتہ دیوار ہے۔اگر اس وقت کپتان صبروتحمل،فہم وفراست،رواداری اوربردباری کامظاہرہ کرے تواس کاسیاسی مستقبل روشن ہے،وہ آئندہ انتخابات میں مزید بااثر اورطاقتور حیثیت میں برسراقتدار آئے گا۔ پاکستان کے مختلف مافیاز کاکپتان کیخلاف متحد اورمتحرک ہونا پاکستانیوں کوبیدارکرنے کیلئے کافی ہے۔لگتا ہے کپتان نے امریکا اوریورپ کیخلاف علم بغاوت بلند نہیں کیا بلکہ پاکستان میں ان کے وظیفہ خوروں اورنمک خواروں کی دم پراپنے دونوں پاؤں رکھ دیے ہیں جس کے نتیجہ میں قومی چوروں نے چیخوں سے آسمان سرپراٹھالیا ہے۔ امریکا اوریورپ کیخلاف وزیراعظم عمران خان کا حقیقت پسندانہ اوراصولی موقف منظرعام پرآنے کے بعد متحدہ اپوزیشن کی سیاسی پوزیشن نے اسے بری طرح ایکسپوزاورسیاسی طورپرکمزور کردیا۔اپوزیشن کے اہم افراد کی امریکا اوریورپ کیلئے ہمدردیاں ایک بڑاسوالیہ نشان ہیں۔یقینا بیرونی قوتوں کو کپتان کے کامیا ب دورہ روس کے بعدپاکستان کے اندر آئینی تبدیلی میں گہری دلچسپی ہے اور عمران خان کو اپنی راہ سے ہٹانے کیلئے ہرقیمت اداکرنے کیلئے تیار ہیں۔ عمران خان سمیت متعدد وفاقی وزراء اورچندسینئر صحافی بھی اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کوکامیاب بنانے کیلئے پیسہ پانی کی طرح بہانے کادعویٰ کررہے ہیں، سوال یہ پیداہوتا ہے اپوزیشن کے پاس یہ سرمایہ کہاں سے آیا۔ آصف زرداری کے فرزند کایہ کہنا، ” او آئی سی ” نہیں ہونے دیں گے "خبث باطن کے سوا کچھ نہیں، یقینایہ ہرزہ سرائی بھی بیرونی قوتوں کی ڈکٹیشن، ڈائریکشن اورفنڈنگ کاشاخسانہ ہے۔
آسٹریلیا میں زہریلے سانپوں کی بہتات ہے اورجب مخصوص موسم میں ہزاروں سانپ ایک ساتھ آپس میں ملن کرتے ہیں تویہ معلوم کرنادشوار ہوجاتا ہے،ان میں سے” سر” کس سانپ کااور” دُم” کس کی ہے۔کون کس کے ساتھ ہے،اپوزیشن کی آنیاں جانیاں دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں۔ہمارے ہاں بیشتر سیاستدان "مفاہمت "کے نام پر”منافقت "کی انتہاکردیتے ہیں،ان کامنافقانہ کردار دیکھتے ہوئے اذہان میں ” دوموئی”سانپ کاتصور ابھرتا ہے۔حالیہ جوڑتوڑ کی سیاست کے دوران مخصوص سیاستدانوں نے اپنے منافقانہ رویوں سے اپنابھرم "توڑ”اوراعتماد”گنوا "دیا۔جومٹھی بھر لوگ خود سنجیدہ پاکستانیوں کے اعتماد سے محروم ہوں ان کی وزیراعظم کیخلاف تحریک عدم اعتماد کوئی اخلاقی حیثیت اور وقعت نہیں رکھتی۔چشم تصور سے دیکھیں ملعون شمرکاایک ہاتھ پلید یذیدکے ہاتھوں میں ہوجبکہ اس نے اپنا دوسرا ہاتھ شہزادہ کونین حضرت امام حسین ؑ کی طرف بڑھایا ہو، تویادرکھیں ا س قسم کے لوگ دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں، مجھے حالیہ بحران میں دبنگ شیخ رشید کاکرداربہت اچھا لگا کیونکہ ان کی کپتان کے ساتھ دوستی پرکوئی انگلی نہیں اٹھاسکتا۔منافق اورفاسق دوست سے وہ دشمن ہزاردرجے بہتر ہے جس کی دشمنی واضح ہو۔ میں سمجھتاہوں ہرعہد کے انسان کو حسینیت ؑ اوریذیدیت میں سے کسی ایک کاانتخاب کرناہوگا،لہٰذاء خودداری اورجانبداری ازبس ضروری ہے۔آج ہم جس کے حامی یاپھر جان بوجھ کر قومی چوروں کیخلاف آوازنہیں اٹھاتے تو روزمحشر ہمیں اس کابھی حساب دیناہوگا۔ایک طرف قومی چوروں کے حامی ہیں یقینا انہیں ان کے گناہوں کابوجھ اٹھاناہوگا جبکہ دوسری طرف وہ لوگ جو بانیان پاکستان اورافواج پاکستان سمیت مادروطن کیلئے جام شہادت نوش کرنیوالے شہیدوں کے ساتھ محبت کادم بھرتے ہیں،انہیں روزقیامت ان شہیدوں کے ساتھ اٹھایاجائے گا۔ہم بیک وقت دو کشتیوں میں سوارنہیں ہوسکتے، حسینیت ؑ اوریذیدیت کے درمیان والے مقام کانام منافقت ہے اورمنافق جہنم کے بدترین درجے میں ہوں گے۔مفاہمت کی آڑ میں منافقت کے علمبردار ہمارے نام نہاد سیاستدان دوسرے سیاستدان کے ساتھ شراکت اقتدار یا اتحاد کی صورت میں عہد وپیمان کرنے کے باوجود تیسرے سیاستدان کے ساتھ رابطے اورمعاہدے کرتے ہوئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ،گھبراہٹ یا ندامت تک محسوس نہیں کرتے۔افسوس ان کے بظاہراُجلے لباس کس قدر داغدار اوربدبودار ہوتے ہیں،یہ لوگ زندگی بھر اپنے اورقومی ضمیر کے ساتھ دغا کرتے کرتے سرسے پاؤں تک داغدار ہوگئے۔یادرکھیں حکومت،سیاست اورجماعت سبھی مونث ہیں کوئی جماعت اپنی اتحادی جماعت سے باضابطہ علیحدگی تک دوسری جماعت کے ساتھ” سیاسی رشتہ ازدواج "میں منسلک نہیں ہوسکتی۔سیاسی طلاق تک نیاسیاسی تعلق بنانامنافقت کے زمرے میں آتا ہے۔
تعجب ہے پرویزالٰہی نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کیلئے شریف خاندان کاسیاسی بدعہدی سے عبارت ماضی فراموش کردیا جبکہ پرویز ی آمریت کی باقیات کوکسی قیمت پرقبول نہ کرنے کا دعویدار شریف خاندان بھی محض کپتان کے ساتھ عناد اورعداوت کی بنیاد پر قصر ظہورالٰہی کی دہلیز پرسربسجود ہوگیا۔ پرویزالٰہی نے آئندہ ڈیڑھ برس کیلئے پی ٹی آئی کے ساتھ تین سال چھ ماہ کی رفاقت اورشراکت کوفراموش کردیا۔اگرچوہدری برادرا ن میں اخلاقیات ہے تووہ اپنی حالیہ سیاسی شعبدہ بازی اورقلابازی کے بعد اپنے سیاسی دھڑے کے ساتھ محمدعلی جناح ؒ کالقب” قائداعظمؒ” لکھنا چھوڑدیں کیونکہ قائداعظم ؒ اصولی اورنظریاتی سیاست کااستعارہ تھے جبکہ چوہدری برادران وصولی اورمالیاتی سیاست کی علامت بن کرابھرے ہیں،اس خاندان نے بھی عارضی اقتدار کیلئے نظریہ ضرورت کواپنانظریہ بنالیا۔انہوں نے ماضی میں محض اقتدار کیلئے پرویزمشرف اوربعدازاں آصف علی زرداری کے ساتھ بھی اتحاد کرلیا تھا لہٰذاء ان سے کچھ بعید نہیں۔آصف علی زرداری کوکامیاب سیاستدان کہنا سیاست کی توہین ہے کیونکہ موصوف کی منفی شہرت نے اسے عزت سے محروم کردیا،پاکستان کاکوئی سنجیدہ فرد آصف علی زرداری کوقدر کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ تحریک اعتماد کامیاب ہویاناکام لیکن حالیہ ہارس ٹریڈنگ کے بعد امریکا نواز اپوزیشن کی سیاسی پوزیشن مزید بدتر ہوگئی۔دس ہزارزرداری بھی تنہا عمران خان پربھاری نہیں ہوسکتے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button