ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

زندگی زندہ دلی کانام ہے مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں

زما نے میں یہی دستور نا فذ ہے کہ اگر آج آپ ایک چھو ٹے سیٹ اپ میں براجمان ہیں اور ایک محدود نیٹ ورک کا حصہ ہیں تو آنے والے کل میں بہتری اور تر قی کی جانب ایک ایک قدم گا مزن کرنا ہو گا وہی قو میں شاد و آباد رہتی ہیں جن کی زندگیو ں میں آنے والا ہر دن ، ہر صبح ، ہر رات ، ہر منٹ ، ہر سیکنڈ اور ہر لمحہ تر قی اور بہتری کی طرف گامزن ہو وہی ملک اور قوم ترقی کے زینے پر جا پہنچتی ہے جس کی نظر ما ضی سے سبق سیکھنے کے بعد اپنے آنے والے بہتر اور روشن مستقبل کی جانب گا مزن ہو تی ہے ۔ ہما رے ملک کے اندر سب سے بڑا یہی لمحہ فکریہ ہے کہ کسی بھی شعبے اور ادارے کے اندر لانگ ٹرم پالیسی نہیں اپنا ئی جا تی ہے شاید ہم اپنے نظام زندگی میں وقت گزاری سے کام لے رہے ہیں عملی سطح پر کوئی تبدیلی اور سنجیدگی دکھا ئی نہیں دیتی ہے ۔ گو جرا نوالہ شہر میں ڈویثرنل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال شاید قدرت کے کسی نایا ب تحفے سے کم نہیں یہا ں پر شب و روز سینکڑوں نہیں بلکہ ہزا رو ں کی تعدا د میں مریض مستفید ہو تے ہیں دور دراز علا قوں ، قصبو ں اور شہر کے گردونواح سے مجبور اور متوسط گھرانو ں سے تعلق رکھنے والے صحت کی خرابی اور وبا ء سے آرام کی خوا ہش لیے یہا ں خا صی تعدا د میں آتے رہتے ہیں غرضیکہ یہ علا ج گاہ ہر وقت پر رونق اور عوام النا س سے آبا د دکھائی دیتی ہے ۔ کسی بھی ملک کے اندر ڈویلپمنٹ کے اعتبار سے بنیا دی اور تر جیحی حثیت کے حامل دو ہی شعبے ہیں جن کا براہ راست عام آدمی سے لیکر خاص الخاص اشخاص سے بھی واسطہ رہتا ہے ہما رے ہا ں ادارے تعمیر تو کر دیے گئے ہیں لیکن ان میں بہتری اور انہیں ترقی کی راہوں اور مزید نکھار پیدا کرنے کیلیے کوئی اقدام نہیں اٹھا ئے گئے ہیں من و عن جس طرح سے ہما رے آبا ؤ اجداد نے ہمیں یہ ملک تحفے کی صورت پیدائشی طور پر ہمیں دے دیا ہے لیکن اس وقت سے لیکر اب تک ہم نے اسے پسماندگی اور تنزلی کے علا وہ کچھ نہیں دیا ہے اس کے وجود نے ہمیں تو ٹھنڈی چھا ؤں عطا کی ہے لیکن ہم نے اسے بگا ڑنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے ۔ اسی طرح سے سول ہسپتا ل بنا تو لیا گیا ہے اور جس طر ح سے حق بنتا تھا کہ سالہا سال اسے بہتری اور سہولیات کی طرف لیجا یا جا ئے اس پر کوئی خا طر خواہ تو جہ شاید نہیں دی جاسکی ہے ۔ جس طر ح سے اس ڈو یثرنل ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں لوگو ں کی برمار رہتی ہے اس کے مطابق اس میں بہتری نہیں لا ئی جا سکی ہے ۔ WHO نے جو قوا عد و ضوا بط اور اصول وضح کیے ہیں اور جن سنہری اصولوں پر حفظا ن صحت کی بنیا د رکھی گئی ہے اس کے قریب سے بھی یہ لوگ نہیں گزرتے ہیں یہا ں پر جہا ں ۳۰ سے ۴۰ زیادہ سے زیادہ مریضوں کی تعداد ہونی چا ہیے وہا ں ۶۰ ، ۶۰ اور ۷۰ ، ۷۰ مر یضو ں کو ٹھونسا جا تا ہے جیسے یہ کوئی انسانی علا ج گاہ نہیں بلکہ بھیڑ بکریوں کا فارم ہو ۔ ایک ایک بیڈ پر ۲ ، ۲ مریض بھی لٹا ئے جا تے ہیں جس قدر مریضو ں کی تعدا د میں اضا فہ ہوتا جا رہا ہے اسقدر ڈاکٹر ز تعنیا ت نہیں کیے گئے ہیں میڈیکل آفیسرز کی پو سٹیں بھی خالی ہیں لیکن عد م دلچسپی کی بد ولت محدود بجٹ اور تنخواہو ں کے دستیا ب نہ ہو نے کا رونا رو کر انہیں اب تک فل نہیں کیا جا سکا ہے ۔ کمر وں اور وارڈز میں روم بوا ئے اور نر سنگ سٹاف کی تعدا د بھی جتنی میسر ہونی چا ہیے اس میں بھی خاصی کمی پا ئی جا تی ہے ۔ اور جن لوگو ں کو اپوائنٹ کیا گیا ہے وہ بھی اکثر اوقات غا ئب ہوجا تے ہیں اور دوسرے کئی مخصوص شعبو ں کی طرح یہا ں بھی غیر ذمہ داری اور فرائض سے نا انصافی کا عنصر غالب دکھائی دیتا ہے ۔ چلڈر ن وارڈ میں آئی سی یو سر ے سے موجود نہیں ہے بڑوں کیلیے جو آئی سی یو سسٹم موجود ہے وہا ں مشینری کی کمی ہے اور اس کے علا وہ بھی سہولیات کی کمی پا ئی جا تی ہے حفظان صحت کے اصولو ں کے مطابق جس طرح سے صفا ئی ستھرائی کا سلسلہ ہو نا چا ہیے یہا ں نہ ہو نے کے برابر ہے بیڈ شیٹس کئی کئی دنو ں تک تبدیل ہی نہیں کی جا تی ہیں اور رومز کے قریب اتنی زیا دہ بدبو پھیلی ہو تی ہے کہ وہا ں سے گز رنا بھی محال ہے آکسیجن سیلنڈرز گھر وں سے بھی بد تر حالت میں یہا ں پر رکھے جا تے ہیں جنہیں گھسیٹ کر لیبر ایک روم سے دوسرے روم تک لے جا تے ہیں صا ف ستھرا ماحول نہ ہو نے کی وجہ سے جرا ثیم پھیلنے کا خدشہ یہا ں سو فیصد رہتا ہے اور لیبا رٹری سسٹم نہ ہو نے کے برابر ہے جو صرف دن کی روشنی میں کا رآمد رہتا ہے اور شام ہو تے ہی وہا ں سے ایکسرے مشینز ، خو ن کے ٹیسٹ یو ریا ٹیسٹ اور دوسرے بعض ٹیسٹو ں کیلیے کوئی خا طر خواہ سہولت میسر نہ ہے یہا ں بھی مبالغہ آرائی سے کام لیا جا تا ہے کہ24 گھنٹے سروس موجود رہتی ہے ۔ ایک الٹرا سا ؤنڈ مشین ہے جہا ں پر مریضوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے اور اس منظر کو بغور دیکھاجا ئے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کی جان لینے آئے ہیں بعض اوقات سہولت کی کمی کی وجہ سے اور نفسیا تی دباؤ اور مصائب و الم کے شکا ر مریضو ں کی ڈاکٹروں کے ساتھ اکثر اوقا ت تلخ کلامی بھی ہو تی ہے اور ان سب مسائل کی بدولت اموا ت اور ہلاکتو ں کی شرح میں اضا فہ ہورہا ہے جو سیٹ اپ عوام الناس کی فلاح و بہبود اور ریلیف کیلیے بنا یا گیا ہے وہی وبال جان بنتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور بہت سے ینگ ڈا کٹرز مریضو ں کو یہ رائے دیتے ہو ئے دکھائی دیتے ہیں کہ یہاں سہولیات موجود نہیں ہیں اور بہتری اسی میں ہے کہ کسی اچھے ہا سپٹل میں چلے جا ئیے سوچنے کی یہ بات ہے کہ پنجا ب حکومت کس مرض کی دواہے وزیراعلیٰ پنجاب تو بلند و بانک نعرے لگا تے ہو ئے دکھائی دیتے ہیں کہ صحت اور تعلیم پر خصوصی تو جہ دی جا رہی ہے جنا ب وزیر اعلیٰ کو یہ سوچنا چا ہیے کہ گو جرا نوالہ بھی حکومت پنجاب کے زیر سائیہ ہے اسے بھی لاہور جیسی تعمیرو ترقی کی ضرورت ہے محض ایک ایم این اے کے سپرد نہیں کیا جا نا چاہیے ایک ہینڈ سم بجٹ ملنے کے با وجود ڈو یثرنل ہیڈ کوارٹرز ہسپتا ل کی حالت زار بہتر کیو ں دکھائی نہیں دے رہی؟ کیو ں یہا ں کے ڈا کٹر ز اپنے شعبے سے مطمئن نہیں ہیں ؟کیو ں متوسط اور مجبور و مظلوم گھرانو ں کو ذلیل و خوار کیا جا تا ہے؟ کوئی بھی سیٹ اپ بڑا یا چھوٹا نہیں ہو تا لیکن وہا ں کام کرنے والے اپنی کارکردگی اور محنت و لگن سے اسے چار چاند لگا دیتے ہیں ۔اے کا ش ہما رے ہا ں ہوس کا پیمانہ لبریز ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم نواز شریف اوراُن کی حکومت مسئلہ کشمیر کو پانچ فروری کی چھٹی تک محدود نہ رکھیں، میاں محمد اسلم

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker