تازہ ترینکالممہروحید الزمان

DHQہسپتال قصور میں انسانیت کے لبادے میں درندے۔۔۔۔!!!

یہ حقیقت ہے کہ جس نے ایک جان بچائی اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔یہ وہ اعلیٰ و ارفعائ فرمان ہے جو ہر طبی مرکز میں دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔بنیادی انسانی حقوق میں انسانی زندگی کے تحفظ کو ترجیج حاصل ہے اسی لئے تمام ممالک میں طبی سہولیات کو اولیت دی جاتی ہے۔ وطن عزیز کے بجٹ میں خطیر رقم صحت عامہ کے لئے مختص کی جاتی ہے تاکہ ہر شہری کو طبی سہولیات میسر ہوں۔ہر یونین کونسل میں ڈسپنسری،تجارتی مراکز میں بنیادی طبی مراکز،ہر تحصیل میں تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال ،ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال اور بڑے شہروں میں جنرل ہاسپیٹلز قائم کئے گئے ہیں تاکہ ہر شہری تک فوری طبی امداد،علاج و معالجہ،مفت مقررہ ادویات اور داخلے کی سہولیات کی فراہمی ہو۔حکومت عوام کی بھلائی کے لئے اکثر و بیشتر کئی ہیلتھ پیکج بھی دیتی ہے جس سے ناصرف عوام بلکہ طبی شعبہ سے وابستہ ڈاکٹر سے لیکر جھاڑو کش تک مستفید ہوتے ہیں۔
ہماری بد نصیبی ہے کہ وطن عزیز میں ہر ادارہ مالی لحاظ سے کرپٹ،انتظامی لحاظ سے بد نظم اور اخلاقی اعتبار سے زوال کا شکار ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے منافع بخش ادارے ’’قابلِ فروخت‘‘ کی حد کو چھو رہے ہیں۔ان ہی قومی اداروں میں ’’صحت عامہ ‘‘کے سرکاری ادارے روز بروز اپنی ساکھ گنواتے جا رہے ہیں۔گزشتہ عرصہ میں ینگ ڈاکٹرز نے عوام کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے طویل ہڑتال کی جس کے دوران کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور اس ہڑتال کے نتیجہ میں ڈاکٹر مسیحا کے بجائے موت کے سوداگر بن گے۔آج کسی بھی طبی مرکز سے لیکر بڑے سے بڑے ہسپتال کا جائزہ لگائیں تو ہر سو انسانیت دوست کی شکل میں درندے دکھائی دیں گے۔
ان انسانیت کے روپ میں درندوں کی مثال پیش نظر کر رہا ہوں تاکہ یہ واضح ہو پائے کہ ہماری قلم باریک بینی سے حالات کی درست منظر کشی کر رہی ہے۔ وطن عزیز کا تاریخی ضلع ’’قصور‘‘جو صوبہ پنجاب میں واقع ہے ۔لاکھوں کی آبادی پر مشتمل واحد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال قصوراہم طبی مرکز ہے جہاںغریب شہری اپنا علاج معالجہ کے لئے آتے ہیں۔ڈسٹرکٹ ہسپتال کے وافر فنڈز ہوتے ہیں جن کو عوام کی بہتری کے لئے صرف کیا جانا ہوتا ہے ۔خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کئی بار اپنے دوروں کے دوران عوام کی بہتری کے لئے طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے مگر ان کی تمام تر کاوشوں اور عوام کے ساتھ دلی لگائو کا مذاق اگر کہیں اڑتا دکھائی دیتا ہے تو ہر شہری کی نظر میں ڈسٹرکٹ ہسپتال قصورکی ناگفتہ بہ صورت حال سے عیاں ہے۔
مریض اللہ کے آسرے پہ ڈاکٹر کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے جس قدر متاثر ہو کر زندگی کی حرکت محسوس کرنے کا خواں ہوتا ہے یہ اسے ہسپتال پہنچ کر سمجھ آتی ہے کہ اس کی زندگی کن درندوں کے چنگل میں پھنس چکی ہے۔سب سے پہلے چٹ لینے کے لئے طویل اور صبر آزمائ قطار سے گذرنا پڑتاہے۔وہاں سے ڈاکٹر تک رسائی حاصل ہونا مقدر کی بات ہے ،کیونکہ ڈاکٹر صاحبان کا اپنی کلینک کا ٹائم ہونے کے باعث ایسی بے غرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کی ان کودیکھ کر انسانیت بھی شرما جاتی ہو گی۔ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور میں کھلے عام تجارتی منڈی لگی ہوئی ہے،مریضوں کے درجات ان کی بیماری کے تناسب سے نہیں بلکہ ان کی جیب دیکھ کر ان کا درجہ مقرر کیا جا تا ہے ۔میڈیکل ٹیسٹ سے لیکر مریض کے ہسپتال میں داخلے تک روپے پیسے کی چمک ہر ایک دیکھ کر ’’جیسا دیس ویسا بھیس‘‘کی ماند خاموش تماشائی بناہوا ہے۔۔ڈاکٹروں کے پرائیوٹ کلینک میں کام کرنے والے لڑکے ایمرجنسی میں غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں
جبکہ سیکرٹری ہیلتھ اور خادم اعلیٰ پنجاب کے حکم کے باوجود ہسپتال میں ڈیلی ویجزپر لڑکے تمام وارڈوں میں کا م کر تے ہیں اور
سینئر ڈاکٹر ان کے ذریعے گاہکوں سے ڈیلینگ کرتے ہیں،ڈاکٹر ز مریضوں کو اپنے کلینک پر آنے کا زور دیتے ہیں ،بعض اوقات ڈاکٹروں کے غیر قانونی طور پر رکھے ہوئے لڑکے weldressہو کر ڈاکٹرز کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔اب خود اندازہ کریں کی اسی صورت حال میں ڈسٹرکٹ ہسپتال کو کیا کہا جائے گا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ سارے غیر قانونی کام ہسپتال کے MSکے علم میں ہیں مگر وہ کسی قسم کی کاروائی عمل میں نہیں لارہے ہیں،بلکہ خود منتھلیاں وصول کرنے میں مگن ہیںان غیر قانونی ،غیر اخلاقی اور فرائض سے غفلت کے مرتکب ہسپتال کی عملے کو کھلی چھوٹ دینے والے انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے ملک بھر سمیت ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور کے اصلاح احوال کے لئے تیز تر اور ٹھوس اقدامات اٹھائے جاہیںتاکہ عوام میں پائی جانے والی مایوسی کا ازالہ ہو سکے۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال کے فنڈز میں گھپلوں کی بازگشت سنی جا رہی ہے اس ضمن میں اعلیٰ سطحی تحقئقاتی کمشن بنایا جائے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ انتظامی غفلت کے نتیجے میں درجنوں موٹر سائیکل ہسپتال کی حدود سے چوری ہونا معمول بن چکے ہیں ،جن کے بارے عام خبر ہے کہ ہسپتال کے عملے کی ملی بھگت ہے ۔
یہ بات خادم اعلیٰ جناب شہباز شریف کے علم میں لانا ازبس ضروری ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا ’’قصور کو سونے کی چڑیا بنائوں گا‘‘ کیا ان کے فیصلوں سے انحراف کرنے والے ان کی پالیسی کے برعکس نہیں جا رہے ہیں۔عوام شدت سے حکومت پر واضح کر رہے ہیں کہ ان کی مشکلات کا ازالہ اور مسائل کے حل کے لئے وزیر اعلیٰ اپنی تمام تر مصروفیات روک کر ایک دن قصور کے عوام سے ان کی زبانی ان انسانیت کے لبادے میں درندوںکی داستان سن کر موقع پر ایکشن لیں تاکہ نشان عبرت بننے والوں کو دیکھ کر ملک کے دیگر ادارے اپنی سمت درست کر سیکیں۔خادم اعلیٰ پنجاب کے نوٹس میں لانا ضروری ہے کہ ہسپتال کے حوالے سے رپورٹنگ کے دوران اکثر صحافیوں سے بد سلوکی کی جاتی ہے حالانکہ صحافت ملک کا پہلا بڑا ستون ہے یہ بھی علم میں آیا ہے کہ صحافیوں کے خلاف مقدمات جو کرپشن چھپانے کے لئے درج کروائے جاتے ہیں تاکہ ان کا بھیانک چہرہ بے نقاب نہ ہو سکے۔حکومت کو چاہئے کہ صحافیوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے اور جھوٹے مقدمات خارج کرنے کی ہدایات دیں۔تاکہ صحافی اپنی پیشہ وارانہ خدمات آذادانہ طور پر ادا کرنے میں کسی دبائو یا خوف کا شکار نہ ہو سکیں۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان میں عیدوں کی ”ہیٹ ٹرک“ ہو گئی، سرکاری چاند نظر نہ آیا

یہ بھی پڑھیے :

4 Comments

  1. Dear Waheed-uz-Zaman you are best thinker& writer,Allah give u long life and promote u in journlism in best way.ameen

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker