تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

دلفریب دعوے اور اُن کے جال میں معصوم عوام

ایک دفعہ مجھے ایک منتخب ممبر اسمبلی اورمحکمہ تعلیم کے حکام ساتھ ایک پرائمری سکول کی انسپکشن پر جانے کااتفاق ہوا۔وہاں ایک کلاس روم میں بیٹھے طلباء سے ممبراسمبلی نے انگریزی،اردو،سائنس اور ریاضی کے مضامین میں سوالات پوچھے تو وہ کہنے لگے سرابھی انہیں ان مضامین کی پڑھائی شروع نہیں ہوئی جب متعلقہ معلم سے اس کی وجوہات معلوم کی گئیں توبولے ہماراطریقہ کارمختلف ہے ہم ایک مضمون ختم کرتے ہیں تب اگلا شروع کرتے ہیں ۔معلم سے یہ دریا فت کرنے پر کہ اس وقت کس سبجیکٹ کی پڑھائی ہورہی ہے اس میں اب تک کتنی پڑھائی ہوچکی ہے اوریہ بھی کہ تعلیمی سال کوشروع ہوئے کتناعرصہ ہوچکاہے اس نے بتایاکہ اس وقت پشتو کی کتاب کی پڑھائی چل رہی ہے اور اب تک بمشکل تین سبق مکمل ہوچکے ہیں چوتھے سبق کاآغازکل سے کیاجائے گا جب کہ تعلیمی سال کایہ ساتواں مہینہ جاری ہے۔یہ سن کر ہمیں یہ اندازہ لگانے میں مشکل پیش نہیں آئی تھی کہ ہمارے نظام تعلیم کا معیارکیاہے اور پوراتعلیمی سال توبس ایک ہی مضمون پڑھتے پڑھاتے گزر جا ئے گا ۔مذکورہ ٹیچر کے خلاف کیاکارروائی عمل میں لائی گئی وہ توالگ کہانی ہے البتہ اس وقت حکومتوں کے دعوے ،نظرآتی کارکردگی اور مذکورہ سکول کی تعلیمی حالت میں کچھ زیادہ فرق نظرنہیں آتا۔لگ ایسارہاہے کہ اگرچہ ا نفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کے یہ دعوے کہ یہ ہوجائے گاوہ ہوجائے گا ،ایساہوگاتوویساہوگا،یہ کریں گے اور وہ کریں گے ٹھیک مگر سوال یہ اٹھتاہے کہ ہوکیارہا ہے اور کچھ ہوگابھی توکب ہوگاکیونکہ تحریک انصاف کی مخلوط صوبائی حکومت جب سے وجود میں آئی ہے وزیراعلیٰ پرویزخٹک،صوبائی وزراء اورمنتخب حکومتی ممبران اسمبلی کی جانب سے اب تک کسی بھی شعبے میں کام کرنے کے لئے انقلابی اقدامات اٹھانے کے دعوے توروزسننے میں آرہے ہیں لیکن اب تک بھی کسی شعبے میں کوئی قابل ذکرکارکردگی نظرنہیں آئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویزخٹک نے کہاہے کہ پشاورکی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر صوبائی حکومت نے نئے رہائشی منصوبوں کوقابل عمل بنانے کافیصلہ کیاہے۔ان کے مطابق نوشہرہ،ایبٹ آباداورچترال سمیت کئی دیگر علاقوں میں نئے شہر بسائیں گے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ہوں گے اور ان کو صرف محکمہ ہاؤسنگ نہیں بنائے گابلکہ محکمے کی مانیٹرنگ کے لئے ایک اور کمپنی بھی ہوگی ۔ جوچیک اینڈبیلنس کے فرائض انجام دے گی ۔نئے شہر بسانا بلاشبہ احسن اقدام ہوگااور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پشاورکی آبادی حد سے تجاوزکرگئی ہے اور اس میں آئے روز تیزی سے اضافہ ہوتاجارہاہے لیکن اس ضمن میں عوامی حلقوں کے لئے یہ امرباعث تشویش ہے کہ کام دکھائی کچھ نہیں دے رہابس انہیں دعوں اور وعدوں سے ٹرخایاجاتاہے کیونکہ نئے شہربسانے کا اعلان وزیراعلیٰ کی جانب سے چندماہ قبل بھی ہواتھا اوراسے دیکھتے ہوئے تویہی لگ رہاہے کہ یہ محض اعلانات کے اس سلسلے کی کڑی ہے جس کاتحریک انصاف نے عام انتخابات سے قبل آغاز کیاتھا اور تاحال چل رہاہے البتہ یہ اور بات ہے کہ عملی طورپرکوئی ٹھوس منصوبہ تاحال وجود پاتانظرنہیں آیانہیں ۔وزیراعلیٰ پرویز خٹک،وزیرصحت شوکت یوسفزئی ،وزیراطلاعات شاہ فرمان اورتحریک انصاف کے دیگر وزراء اور پارٹی رہنماء انقلابی اقدامات اٹھانے کے جودعوے اور وعدے کرتے دکھائی اور سنائی دے رہے ہیں عام لوگوں کاخیال ہے کہ اگر ان میں پچاس فیصدتک بھی قابل عمل ہوتو نہ صرف بدعنوانی، بے ضابطگی اور بے قاعدگیوں کاخاتمہ ہوسکے گابلکہ خیبر پختونخوا ملک کے کسی بھی دوسرے صوبے کے مقابلے میں زیادہ خوشحال اور ترقی یافتہ صوبے کی صورت میں ابھرکرسامنے آئے گالیکن المیہ یہ ہے کہ وعدے اور دعوے تاحال وعدے اور دعوے ہی ثابت ہورہے ہیں۔اُٹھتاایک سوال یہ بھی ہے کہ نوشہرہ،مردان،ایبٹ آباد،چترال اور دیگر علاقوں میں اگر نئے مجوزہ رہائشی منصوبوں کی تعمیر پشاور کی بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظرمقصود ہے توکیاان رہائشی بستیوں میں پشاور اوردیگرعلاقوں سے لوگوں کو لے جاکر بسایاجائے گایایہ وہاں کے مقامی لوگوں کے لئے بناء جارہے ہیں اور اگر ایسا ہے تو نوشہرہ،ایبٹ آباداور چترال سمیت دیگر علاقوں میں مقامی لوگ اب بھی مقیم ہیں اورتب بھی رہیں گے۔ وہ دیگر علاقوں میں بسنے بسانے کے عمل سے کبھی بھی گزرناگوارانہیں کریں گے۔اگر جائزہ لیاجائے تو تحریک انصاف کی پالیسیوں میں واضح مشابہت اور مطابقت نظرآتی ہے۔چندماہ قبل وزیراعلیٰ کے اعلان پر صوبہ بھرمیں بچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کی خصوصی مہم چلائی گئی جس کے تحت ہزاروں بچوں کوداخل توکرایاگیاہے مگر سکولوں میں ان بچوں کے لئے مزید کلاس رومزتعمیرکئے گئے نہ ان کے لئے اضافی تدریسی عملہ کابندوبست کیاگیااور نہ ہی ان سکولوں میں پائے جانے والے دیگر مسائل اور مشکلات کاکوئی حل نکالاگیایہی وجہ ہے کہ فائدہ ہوتاتوکچھ نہیں البتہ یہ اقدام باعث نقصان ضرور بن رہاہے۔اسی طرح وزیراعلیٰ اگلے تعلیمی سال سے صوبے بھرمیں یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کابھی اعلان کرچکے ہیں حالانکہ ایک آدھ ماہ بعد نیاتعلیمی سال سرپرکھڑاہے جب کہ یکساں نظام تعلیم رائج کرنے کے عمل کے تاحال کوئی آثاردکھائی نہیں دے رہے ہیں۔اس ضمن میں یہ بات اہم ہے کہ اگر یکساں نظام تعلیم کی بجائے داخلہ فیسوں کوختم کرکے حصول تعلیم تک لوگوں کی رسائی دلانے کی سعی کی جاتی تو اس کے زیادہ بہتر نتائج برآمد ہوتے ۔بہرحال ذکرہورہاتھا نئے شہربسانے کے حکومتی فیصلے ک
اتواس حوالے سے یہ امروضاحت طلب ہے کہ نئے شہربسانے کے منصوبے سے عام آدمی کوکیافوائد حاصل ہوں گے۔کیونکہ اگر ان منصوبوں کامقصد مخصوص سرمایہ دار کلاس کو فائدہ پہنچاناہوتواور بات ورنہ زمینی حقائق تو یہی بتاتے ہیں کہ عام آدمی کے مسائل اور مشکلات فقط گھرگھروندہ نہیں کچھ اور ہیں ان کے سواء۔کہنے ،لکھنے اور بتانے کامقصد یہ ہے کہ تحریک انصاف کو ان بنیادی مسائل کے حل پرترجیح دینی چاہیئے جن کی خاطر عوام نے ووٹ دے کر ایوانِ اقتدار پر پہنچایاتھا۔غیرضروری ایشوزپروقت اور پیسے کے ضیاع کی بجائے حکومت کو عوام دوست منصوبوں پرکام کرناچاہیئے اور نئے شہربسانے کااعلان ہویااعلان ہوکسی اور شعبے میں ترقیاتی منصوبے کا ۔محض اعلان نہ ہوبلکہ کوئی اعلان تو قابل عمل بھی ہو کیونکہ وقت بڑی تیزی سے گزررہاہے ایسانہ ہوکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری والامعاملہ ثابت ہو کہ پلٹاکھایامگرہاتھ کچھ بھی نہیں آیا ۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button