بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

دل کے سلگنے کا سبب ؟؟؟؟؟

کسی ملک کی ترقی و خوشحالی کے لئے امن ،انصاف اور اعلیٰ اقدار کا ہونا بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔یہ ہماری بد نصیبی رہی کہ ۶۵ برسوں سے ہماری عوام تجربہ گاہ سے گذر رہی ہے مگر اب تک احساس تک نہیں ہو رہا کہ ہم کدھر جا رہے ہیں ؟ عدالت عظمیٰ نے پہلی بار سی این جی کے نرخ حیران کن طور پر کم کئے جس سے عوام میں جینے کی امید پیدا ہونا خوش آئند اقدام کا ثمر قرار دیا گیا ہے مگر وہی لوٹ مار مافیا پھر حرکت میں ہے اب سننے میں یہ آیا ہے کہ بیشتر سی این جی اسٹیشنز بند کئے گے ہیں تاکہ عوام کو مزید مشکلات سے دوچار کر دیا جائے اور عدلیہ کو بھی دبے لفظوں میں چیلنج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔عدالت نے یقیناًعوام دوست فیصلہ کر کے جمہوریت کے دعوے داروں کو جگایا تو ہے لیکن یہ خبر بھی آئی ہے کہ بیرون ممالک سے کالز پر اس قدر ٹیکس عائد کر دیئے گے ہیں کہ اب تارکین وطن تیس ریال میں سات سو منٹ کے بجائے صرف ساٹھ منٹ بات کر سکیں گے جبکہ کال سننے والے کو بھی پندرہ سیکنڈ کی اضافی پھکی برداشت کرنا پڑے گی۔اسی طرح دیگر ممالک سے بھی کالز پر ٹیکس لگایا جانا انتہائی ذیادتی ہے۔اس وقت قریباً ساٹھ لاکھ ہم وطن محنت مزدوری اور تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے دیار غیر میں شب و روز گذار رہے ہیں ۔ان میں سے صرف چند سو ایسے ہونگے جو سودیشی بن چکے ہیں مگر اکثریت محنت کشوں کی ہے جو کالز کے سہارے اپنے گھر والوں کی خیریت دریافت کرنے کی سہولت چھن جانے پر اپنے حکمرانوں کے ظرف پر نوحہ و کناں ہیں کیونکہ اس وقت یہی ہمارے وطن پرست باقی رہ گے ہیں جن کے زرِ مبادلہ سے ہماری معیشت کی سطح برقرار ہے۔اس ہی صورت حال پر شاعر نے کہا تھا کہ
بھیگی ہوئی اک شام کی دہلیز پر بیٹھے
ہم دل کے سلگنے کا سبب سوچ رہے ہیں
دنیا بھر میں ریلوے ،ائیر لائنز اور دیگر پیداواری ادارے منافع بخش سطح پر ہیں مگر ہمارے منصوبہ ساز ان اداروں کو تباہی کا شکار کئے ہوئے ہیں ۔ہماری معیشت کی گرتی ہوئی صورت حال کے ذمہ دار اب عوام پر بے انتہا ٹیکس لگا کر ادھ موا کر رہے ہیں ۔چیف جسٹس آف پاکستان نے عدل و انصاف کا پرچم بلند رکھنے کا جو عزم کر رکھا ہے اس سے عوام کو ایک امید کی کرن نظر آرہی ہے ۔بلاشبہ ہزاروں مقدمات پر عدلیہ کے فیصلے تاریخ کا حصہ ہیں اور حالیہ سی این جی کے نرخوں میں حیرت انگیز کمی کا اعلان باعث خوشی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ گیس کی قیمتیں بڑھانے میں سوئی گیس کمپنیاں ،آئل گروپ ،بیوروکریٹس اور ایل پی جی گروپ مصنوعی بحران پیدا کر رہا ہے ۔گذشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان نے درست کہا کہ قابل بیوروکریسی کے بغیر معاشی و سماجی چیلنجز کا مقابلہ ممکن نہیں ۔اگر سچی بات کی جائے تو ذیادہ خرابی ہماری بیوروکریسی کی نا اہلیت نہ بھی کہا جائے ان کی لاپروائی ک اور ذاتی مفادات کی وجہ سے ہے ۔ سیانے کہتے ہیں کہ عام آدمی کی غلطی کے اتنے مضر اثرات نہیں ہوتے جتنے بڑے آدمی کی معمولی غلطی سے پوری قوم بھگتی ہے۔ہمارے 65سالہ تاریخ میں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ ہماری بیوروکریسی نے حکمرانوں کو سیدھا چلنے کا راستہ ہی نہیں دیا ۔یہ ہماری قسمت رہی کہ ایک پٹواری سے بیوروکریٹ بننے والے نے صدر مملکت کا عہدہ کیسے پا لیا ؟پھر مسلسل آمریت کے جھونکوں نے ہمارے نظام کو ترنگا کرنے میں یہی خدائی مخلوق سب سے آگے رہی ۔بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ چند ماہ قبل اندرون خانہ ایسی تجویز بھی آئی تھی کہ آئندہ انتخابات کے بجائے بیوروکریٹس پر مشتمل حکومت تشکیل کر دی جائے ۔ایسی تجاویز جو ہمارے پورے نظام کو تباہ کرئے کیا قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق درست کہی جا سکتی ہے ؟ اگر ایسی سازشیں کرنے والے ہماری صفوں میں رھیں گے تو ہم جن مسائل کا شکار ہیں ان سے خلاصی پانا مشکل ترہے۔ہمارے یہی منصوبہ ساز لائق سزا ہیں جن کی وجہ سے آج پوری قوم بے روز گاری ،مہنگائی ،بڑھتی ہوئی افراط زر ،توانائی کا بحران اور ان سے جنم لینے والے بے شمار مسائل سے دوچار ہے۔اگر منصوبہ بندی درست کی جاتی تو ہمیں آج دنیا کی کوئی طاقت چیلنج نہیں کر سکتی مگر ان سازشیوں نے ہمیں بھکاری بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔سیاست دانوں کا بھی قصور ہے کہ وہ جُز وقتی پروٹوکول کے چکر میں عوام کے قریب آنے کے بجائے معقول فاصلہ رکھے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنے اردگرد ایسے قصیدہ گو قطار اندر قطار کھڑے کر رکھے ہیں کہ عام آدمی کی سوچ تک پہنچنا ان کے لئے نا ممکن ہے۔بہرحال ہمارے نظام میں جو خرابیاں ہیں ان کی تفصیل تو بہت لمبی ہے ۔آج بھی ہمارے سیاستدان اخلاص کا مطاہرہ کریں تو وہ وقت دور نہیں کہ ہم ایک با وقار قوم اور خوشحال معاشرہ تشکیل کر سکتے ہیں ۔مایوسی گناہ عظیم ہے ۔امید اور اعتماد کے ساتھ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کے مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کہنہ مشق سیاست دان ،ماہر قانون اور تجربہ کار بیوروکریٹس باہم یکسوئی کا قدم بڑھاکر قوم کو دلدل سے باہر نکالنے میں کردار ادا کرئنگے۔

یہ بھی پڑھیں  تبدیلی کے دعوے اوروعدے مگرآئے گی کب

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker