تازہ ترینفرخ شہباز وڑائچکالم

دل میرا بھی تو دھڑکتا ہے!

آج میں جس شخصیت سے آپ کو ملوانے جا رہا ہوں ان حضرت کو ’’اندر ہی اندر‘‘اپنے شاعر ہونے کا وہم لاحق ہے جس کا اظہار اکثر نجی محفلوں میں کرتے پائے گئے ہیں۔دن میں درجنوں مرتبہ ان کو شاعر ہونے کا’’دورہ‘‘ پڑتا ہے اب تو یہ ’’دورہ‘‘ان کے ساتھ اتنی ’’زیادتی‘‘ کر رہا ہے کہ اب کی بار موصوف اپنا شعری مجموعے لانے پر مصر ہیں۔شعری مجموعے کو پہلے ادھر ہی روکتے ہیں پہلے موصوف کی شخصیت کی ’’چنداں چنداں ‘‘خصوصیات پر نظر ڈالتے ہیںآپ عمر کے لحاظ سے کتنے سال کے ہیں اس حوالے سے مختلف شواہد ملتے ہیں آپ کی عمر کے شاعر اب ناپید ہوچکے ہیں۔۔۔ابھی تک جس ’’اعتماد‘‘ سے غالب اور فیض کے واقعات سناتے ہیں مجھے تو اسی دور کی کوئی آخری نشانی معلوم ہوتے ہیں۔قدو قامت۔۔بھرپور جسامت کے کی وجہ سے چند سال تک مجھ سمیت ان کے محلے والے ان کو تھانہ گوالمنڈی کا تھانیدار سمجھ کر موصوف کی عزت کرتے رہے یہ راز تو تب فاش ہوا جب حضرت مسلسل تین مرتبہ بورنگ مشاعرے سے ’’داد‘‘ لیتے پکڑے گئے(نوٹ :’’داد‘‘ سے پہلے الف اور م کے الفاظ لگانا مت بھولیں)۔۔۔اس وقت مجھے احساس ہوا اس طرح کی ’’شاعرانہ حرکتیں‘‘ کرنے والی شخصہت کہاں کسی اچھے عہدے پر فائز ہو سکتی ہے؟؟خاص طور پر اس دور میں جب علاقے کا تھانیدار ہی علاقے کے’’ سیاہ وسفید ‘‘ کا مالک ہوتا ہے۔اب جب اچھا خاصا تعارف ہو چکا پہچان تو آپ بھی گئے ہوں گے جی۔۔بالکل آج آپ کی ملاقات ’’وکھری ٹائپ‘‘ کے شاعر وسیم عباس سے ہو رہی ہے۔وسیم عباس کی جسامت جس کا پہلے بھی ذکر آچکا ہے پر ایک نظر ڈال کر آگے چلیں گے۔وسیم عباس کے صرف ’’منہ ‘‘ کا سائز لگ بھگ کوئی 30سے40کلو گرام ہے۔۔۔۔وسیم عباس جب چلتا ہے تو اس کے بازو اور ہاتھ مل کر’’تھاپے‘‘ کی یاد دلاتے ہیں۔۔ماڈرن قارئین کی آسانی کے لیے بتاتا چلوں جب واشنگ مشین کا رواج نہیں تھا اور کپڑے ہاتھ سے دھوئے جاتے تھے تو کپڑوں سے میل نکالنے کے لیے ایک’’صاف لکڑی‘‘ استعما ل کی جاتی تھی اسی کو تھاپہ کہتے ہیںیہ تھاپہ بووقت ضرورت ’’بلے‘‘(bat)کا بھی کام دیتا تھا۔۔۔چلتے چلتے جب کبھی کبھار وسیم عباس اپنی مٹھیاں بھینچتا ہے تو یہی تھاپے ’’ہتھوڑوں ‘‘کی مانند دکھائی دیتے ہیں دور سے دیکھنے والا یہی سمجھ کر ڈر جاتا ہے کہ وسیم عباس بازوؤں کی بجائے ’’ہتھوروں‘‘ کے ساتھ آرہا ہے۔۔۔جب کبھی دوست لوگ کینٹین پر چائے پینے کے لئے جاتے ہیں تو وسیم عباس کو دیکھ کر کینٹین ملازم بھاگم بھاگ ایک قدرے صحت مند کرسی لاتا ہے ۔۔وسیم عباس کو ’’ماڑی‘‘ کرسی پر بیٹھتے دیکھ کر کینٹین کا مالک چلا کر کہتا ہے۔۔۔پاجی اک منٹ تہاڈی کرسی منڈا لیا ریا اے۔۔(بھائی ایک منٹ آپ کی کرسی لڑکا لارہا ہے) وسیم عباس کی ایک کتاب بھی آرہی ہے۔۔۔کتاب کا نام ہے ۔۔۔دل ابھی بھی دھڑکتا ہے۔۔
جس کے نام سے پتا چلتا ہے کہ عمر کے ’’اس حصے‘‘ میں بھی وسیم عباس صاحب کا دل ’’ابھی بھی دھڑکتا ہے‘‘وسیم عباس نے جتنی ’’مشہوری‘‘ اپنی کتاب کی ۔۔کی ہے میرے خیال میں اگر کسی ’’منجن‘‘ کی کرتا تو وہ منجن آج ہاتھوں ہاتھ بک رہا ہوتا۔۔۔وسیم عباس شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ڈیزائنربھی ہے ۔۔۔وسیم عباس جب اپنی شاعری کو خوبصورت کور کے ساتھ فیس بک پر لگاتا ہے ۔۔تو دھڑا دھڑا ۔۔کمنٹ آنے شروع ہو جاتے ہیں جس میں اچھی خاصی تعداد خوبصورت لڑکیوں کی ہے اس وقت میرے دل پہ کیا بیتتی ہے۔۔۔۔مجھے لگتا ہے وسیم عباس یہ حربہ مجھے جیلس کرنے کے لئے کرتا ہے۔۔میں وسیم عباس کی اور بھی خصوصیات بیان کر سکتا ہوں لیکن مجھے اکثر اوقات وسیم عباس سے کام پڑتا ہے ۔۔۔۔ورنہ جب لڑکیاں وسیم عباس کی شاعری پر niceاور awesomeجیسے کمنٹ کرتی ہیں اللہ جانتا ’’تپ‘‘ تو مجھے بڑی چڑتی ہے ۔۔۔آخر میں بھی دل رکھتا ہوں ۔۔دل میرا بھی تو دھڑکتا ہے۔۔۔۔

یہ بھی پڑھیں  وزیر اعظم کی پاکستانی ٹیم کیلئے نیک تمنائیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker