کالممحمد فرحان عباسی

دل اکتا سا گیا ہے

زبانوں کی گویائی گویا چھن ہی گئی ہے یا کسی نے زبانوں کو تالے لگا دئیے ہیں یا کچھ ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ زبانیں تو بول رہی ہیں مگر آواز حلق میں دب گئی ہے یا پھر کسی نے حلق کو ایسے پھندے میں جکڑ دیا ہے کہ جیسے موت کی سزا دی جا رہی ہو،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس کو سزائے موت دی جاتی ہے اس سے بھی اس کی آخری خواہش تو پوچھی ہی جاتی ہے مگر یہ کیسی موت کی سزا ہے کہ جس کے دئیے جانے سے پہلے یہ حق بھی نہیں دیا گیا کہ کوئی آواز نکال سکے ۔
ہر طرف افراتفری کا عالم ہے ہر کسی کو اپنی اپنی پڑی ہے ،کوئیی اپنی کارٹن کی شرٹ کا کالر سیدھا کرتا نظر آتا ہے تو کئی اپنی ناک زمانے میں اونچی رکھنے کی بازی میں لگا ہوا ہے کسی کو کار کوٹھی اور بنگلے سے پیار ہے تو حوس اور لالچ میں دن رات ایک کئے ہوے ہے ،ہر کوئی اپنی ہی آسائش کے چکر میں لگا ہوا ہے چاہے وہ حرام ذرائع سے ہی کوں نا حاصل ہو ،یہاں ہر کوئی اپنی مستی میں مست ہے ہر کسی کی آواز سنی جاتی ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
غریب کی آواز کی کوئی شنوائی نہیں یہاں قانون تو بنے مگر صرف اس شخص کے لئے جس کے پاس پیسہ نہیں ،جس کے لئے کسی ناظم ،کونسلر ،ایم این اے ،ایم پی اے ،کی سفارش نہیں ۔
یہاں قانون اسے کے خلاف حرکت میں آئے گا جس کے لئے وزیروں ،مشیروں کے دروازے بند ہیں،جس کو وزیر کا کتا بھی کھانے کو دوڑتا ہے اور وزیر کے نوکر اس کو کسی جانور سے کم نہیں سمجھتے اسی لئے شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ ò
عجب رسم چلی ہے چارہ گروں کی محفل میں ،
لگا کر زخم نمک میں مساج کرتے ہیں
غریب شہر ترستا ہے اک نوالے کو
امیر شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں
سننے میں آیا ہے کہ پاکستان کا قانون اندھا ہو چکا ہے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہمارے ملک کا قانون اندھا ہو چکا ہے تو یہ چلتا کیسے ہے ،اس کو اندھا کس نے کیا ؟اور کیا یہ ظلم جس نے کیا اس کا ہاتھ روکنے والا کوئی نا تھا ؟کہ اس کے ہا تھ روک سکتا کیا کسی میں بھی اتنی سکت نا تھی ؟
میری باتیں کسی کی سمجھ سے بالاتر اور کسی کے دل کی باتوں کی عکاس ہوں گی ۔
بڑا افسوس ہے کہ اس ملک کے قانون کو انداھا کہا جاتا ہے ،ہمارے ملک کا قا نون اندھا نہیں ہے بلکہ اس کالے چشمے پہنا دئیے گئے ہیں اس کو اپاہج کر دیاگیا ہے کہ ہر آنے والے بادشاہ اسے جس طرف چاہتا ہے پکڑ کر لے جاتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ اب تو یہ ہمارے ملک کے بادشاہوں کی وراثت بن چکا ہے تو یہ بے جا نا ہو گا ،کیوں کہ یہاں بادشاہ اس کی کابینہ جو مرضی کرے پھریں ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اس کی مثال جس کی لاٹھی اس کی بھہینس والی ہے ۔
جی ہاں اسی لئے دل اکتا سا گیا ہے کہ اور ڈر بھی لگتا ہے کہ کہیں ہم بھی لاپتہ نا ہو جائیں اور ہمارے گھر والوں کو بھی کسی نامعلوم نمبر سے فون کال آئے کہ اپنے بیٹے کی لاش کا تحفہ قبول فرمائیں ۔
جی ہاں واقعی ان لوگوں کا دل بھی اکتا سا گیا ہے ۔اور اس ماں پر ہر آنے والا دن کسی طوفان سے کم نہیں ہے جس کے تین بیٹوں میں سے دو کی لاشیں اس کو تحفے کے طور پر دے دی گئی ہیں اور تیسرے کو بطور تحفہ تیار کیا جا رہا ہے ۔جی ہاں اس ماں کا بھی دل تو اکتا ہی گیا ہو گا نا ،جس کے سامنے اس کے دو جوان بچوں کی ،لاشیں ڈھیر بنا کر رکھ دی گئی ہوں بتائیں کیا یہ ماں خودکش حملے کے لئے تیار ہو گی کہ نہین اس بات کا جواب ایک ماں ہی دے سکے گی یا ایک باپ۔
جی ہاں یہ لوگ چیخ چیخ کر کہتے رہے کہ ہمارے پیاروں کو عدالتوں نے رہا کیا اور ایجنسیوں نے پھر اغوائ کر لیا مگر ان کی بات پر کسی نے کان نہیں دھرے،یہ آہ وزاری کرتے رہے مگر ان کی دادرسی کے لئے کوئی آگے نا بڑھا کسی حکومتی جماعت نے ان کے آنسوں پونچھنے کی تکلیف نا کی کوئی اپوزیشن ،لیڈر سامنے نا آیااور آتے بھی کیسے یہ لوگ تو مصروف ہیں ان کی سیاست کے جھنڈے نیچے ہو جاتے یہ لوگ بات ہی ایسے ایشو پر کرتے ہیں کہ جس سے ان کی سیاسی ساکھ مشہور ہو ان کے پاس مظلوموں کے لئے ٹائم ہی کہاں ہے کہ ان کے کسی مسئلے کو سنین یا انکی مدد کریں ،ان کی فلائٹس کا ٹائم ہو جاتا ہے کبھی کسی نے لندن ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کرانا ہوتا ہے اور عوام ہسپتالوں میں مر رہی ہوتی ہے ڈاکٹر ز کی ہڑتالوں کی وجہ سے ،اور کبھی کسی نے ذاتی بزنس کی میٹنگ کے لئے دوبئی جانا ہوتا ہے اور عوام کا یہ حال ہے کہ دس دس گھنٹے سی این جی کی لائینوں میں لگے رہتے ہیں ۔جی ہاں اسی لئے دل اکتا سا گیا ہے اور اب دل چاہتا ہے کہ کسی اور دنیا مین چلے جائیں جہاں جانور ہوں کیوں کہ جنگل کے جانوروں کے بھی کوئی قانون ہوتا ہے

یہ بھی پڑھیں  دھرنوں کے مطلوبہ مقاصد اور بند گلی کی سیاست

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker