تازہ ترینحکیم کرامت علیکالم

دو امراض ،دو معالج

hakeem karamatاس دنیا میں امراض کی بھی بنیادی دو امراض ہیں جو انسانوں کو لاحق ہوتے ہیں ۔ایک روحانی روحانی سے مراد جو حدوداللہ سے آگے نکل جائے اسلام کے قوانین سے دور بھاگے ۔دوسرے عام جسمانی امراض ہیں ۔ان امراض کے علاج کے لیے بھی دو ہی معالج ہیں ایک روحانی دوسرا جسمانی ۔ان دونوں کے الگ الگ فرائض ہیں اور موجودہ دور میں ان دونوں معالجوں کی اشد ضرورت ہے ۔جو اپنے اپنے شعبہ میں ماہر ہوں
طبیب معالج حکیم ڈاکٹرایک ہی زمرے میں آتے ہیں سوچ الگ الگ ہو سکتی ہے ۔طریقہ علاج الگ الگ ہو سکتا ۔بنیادی فرض ایک ہی ہے مخلوقِ خدا کی صحت کے حوالے سے خدمت کرنا ۔صحت برقرار رکھنے کا شعور پیدا کرنا اگر کسی وجہ سے صحت میں کوئی خرابی پیدا ہو گی ہے تو اس کا علاج کرنا ۔ اس مقدس شعبے میں میں رنگ و نسل مذہب و مسالک نہیں دیکھے جاتے ۔کوئی عیسائی ہو یہودی ہو نصرانی ہو امیر ہو غریب ہو کالا ہو گورا ہو ۔ایک طبیب کی نظر میں سب برابر ہو تے ہیں ۔ہر ایک کا علاج پوری توجہ سے کرنا بلا امتیاز یہ ایک طبیب کا اہم فرض ہے ۔دوسری بات کہ ہر ایک کا رازق مالکِ کائنات خالقِ ارض و سما ہی ہے ۔مریض یا مطب و کلینک اس کے رازق نہیں ہیں ۔طب واحد وہ شعبہ ہے جس سے انسان کی وہ تین خوہشات پوری کرتا ہے ۔جن کاہر انسان متقاضی ہے ۔ عزت، دولت، شہرت،یہ تینوں چیزیں ہر طبیب کو طب کی بدولت ملتیں ہیں نا کہ کسی تنظیم یا تعصب کی بدولت۔جو مریضوں جی جیبوں پر نگاہ رکھے میں اسے طبیب نہیں مانتا ،جو رنگ نسل و قوم و مذہب و مسلک کو علاج معالجے کے بیچ لائے میں اسے طبیب نہیں مانتا ۔جس پہلے ہی خیر کثیر عطا کی گئی وہ سڑکوں پر نکل کر میاں شہباز شریف کے سامنے اپنے مطالبات منوا رہا ہے ۔جس یہ بھی معلوم نہیں کہ میں کون ہوں اللہ تعالیٰ نے مجھے کون سا مقام عطا فرمایا ہے ۔وہ طبیب کیسا ؟وہ خیر خواہِ مخلوق کیسا وہ تو صرف اپنے نفس کا خیر خواہ ہے ۔جو اپنے مطالبات پر دھیان دے اور اس کا دھیان اپنے خالق کی طرف نہ ہو جس نے اسے حکمت دے کر خیر کثیر سے نواز دیا اسے بھلا دیا اور سڑکوں پر نکل آئے ۔عوام کو بلکتا ہوا چھوڑ کر مالک ارض و سما کی طرف خیر کثیرکو نظر انداز کر کے دنیاوی مطالبات منانے پر تلے ہوئے ہیں ۔کیا یہ ایک مسیحا کی خصوصیات ہیں ؟
مگر قصور ان بھی نہیں اپنی اپنی تربیت کا فرق ہوتا ہے ۔جن کی تربیت اچھی ہوئی ہو اسلامی طریقے کے مطابق ہوئی ہو وہ اس بات سے واقف ہیں کہ ان کو اللہ پاک نے کون سا مقام عطا فرمایا ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ پیارے پیغمبرﷺ نے فرمایا کہ،، دانائی کی بنیاد خوفِ خدا ہے ،،لفظِ بنیاد یعنی ابتدا جس دل میں ابتدا سے ہی اللہ تعالیٰ کا خوف بیٹھ گیا وہ دانا ہے وہ ہی ایک حقیقی معالج ہے ۔اور معالج کی بھی اقسام ہیں
ایک وہ ہے جو جسمانی علاج معالجے میں مہارت رکھتا ہے ایک وہ ہے جو روحانی علاج کرتا ہے ۔ روحانی علاج سے میری مراد ۔جھار پھونک یا تعویز وغیرہ نہیں ۔بلکہ روحانی علاج سے میری مراد یہ ہے کہ جو معاشرے میں بسنے والوں کی اصلاح کرے لوگوں کے ذہنوں کی مثبت راہنمائی کرے۔جس طرح ایک طبیب کی تعلیم میں اناٹومی فزیالوجی اور ادویات کے علم کے متعلق کتب پڑھنا ضروری ہے پھر ان پر تحقیق کرنا ریسرچ کرنا اسی طرح ۔ایک روعالم کے لیے فاضل اور با عمل ہونا ضروری ہے تاکہ وہ معاشرے میں لوگوں کی منفی اندازِ فکر کا علاج کر کے ان کے اندازِ فکر کو مثبت بنا دے ۔ جس طرح علاج کرنا ایک معالج کی ذمہ داری ہے اور شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے اگر معالج کو اللہ کا قرب حاصل ہو گا تو اللہ اس معالج کے ذریعے شفا بھی عطا فرمائے گا ۔اسی طرح ایک عالم ایک روحانی معالج اگر خود مخلص ہو گا اور اللہ کے قریب ہو گا تو پھر لوگ بھی اس کی بات کو تہ دل سے مان لیں گے ۔ہدایت دینے والی ذات بابرکت بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ہے ۔اللہ پاک دونوں طرح کی شفا روحانی ہو یا جسمانی ان ہی کے ذریعے عطا فرمائے گا جو اللہ پاک کے زیادہ قریب ہو گا ۔اللہ پاک ہمیں اپنا قرب نصیب فرمائے آمینnote

یہ بھی پڑھیں  65سالہ شہریت مشکوک کیوں۔۔۔؟؟؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker