بلال حیدر اعوانتازہ ترینکالم

دو قومی نظریہ اور مہا بھارت

bilal haiderکرۂ ارض کی تاریخ جتنی پرانی ہے اتنی پرانی تاریخ مذاہب کی ہے۔ مذہب زندگی گزارنے، روزمرہ کے معاملات میں اعتدال اور فلاح کے طریقے انسانیت کو سکھاتا ہے۔ دنیا میں وقتاً فوقتاً مختلف مذاہب رہے اور انسانیت کو فلاح کے طریقے سکھاتے رہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مذاہب اور الہامی کتابوں میں لوگوں نے اپنی ضروریات کے تحت تصریحات کیں اور مذاہب کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے رہے۔ اسلام آخری الہامی مذہب بن کے ابھرا اور دیگر تمام مذاہب کو موقوف کر دیا گیا۔ اسلام نے اخلاقی، سماجی ، معاشی اور معاشرتی اصول پیش کئے اور انسانیت کی ہر پہلو سے رہنمائی کی۔ آخری نبی حضرت محمدﷺ نے رنگ، نسل اور تمام تفریق کے معیار ختم کئے اور انسانوں میں بہتر اسے قرار دیا جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ آپﷺ کی وفات کے بعد خلافت قائم کی گئی۔ خلیفہ وقت نے خود کو عوامی خدمت کے لئے پیش کیا۔ پھر اسلام مختلف ادوار سے گزرتا ہوا مسلمان تاجروں کے ذریعے برصغیر میں پھیلا۔ بعد ازاں محمد بن قاسمؒ نے مسلمان عورتوں کو ہندو راجہ داہر سے آزاد کرانے کے لئے سندھ پر حملہ کیا اور مسلمانوں کا اخلاق اور رواداری دیکھتے ہوئے مقامی باشندے مسلمان ہونا شروع ہو گئے۔
جب مسلمان برصغیر میں داخل ہوئے تو اس وقت یہاں مختلف مذاہب تھے لیکن اکثریتی مذہب ہندو مت تھا۔ ہندوازم کوئی الہامی مذہب نہیں تھا۔ اس مذہب نے سماجی حادثات اور تجربات کی بناء پر اپنے اندر بہت ساری تبدیلیاں کیں اور اسی بنیاد پر ہندو مت کا احیا ہوا۔ جس کی وجہ سے ہندومت میں ایک نہیں بہت سارے بھگوان(خداؤں) کا وجود ہے۔ ہندومت میں تجربات سے کیسے تبدیلیاں آئیں اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ آج سے دس سال پہلے کا ہندو مذہب آج کے ہندو مذہب سے قدرے مختلف ہے۔ ہندو مت میں ذات پات کا نظام تھا۔اچھوت ہندو ایک طرح سے دیگر ہندؤں کے غلام تھے۔ ان کے پاس بیٹھنا، ان سے بات کرنا اور ان سے شادی کرنا ناجائز تھا۔ جیسے جیسے ہندؤں کو مسلمانوں کے اخلاق اور ملنساری کا اندازہ ہوا ہندو خاص طور پر اچھوت ہندو مسلمان ہونا شروع ہوگئے۔ ہندؤں کے مسلمان ہونے کا سلسلہ جاری رہا حتیٰ کہ ہندو مذہب ترک کر کے مسلمان ہونے والوں کی تعداد ان لوگوں سے زیادہ ہو گئی جو عراق یا دیگر علاقوں سے یہاں آئے تھے۔ مختلف ادوار میں مختلف مسلمان خاندانوں نے برصغیر میں حکومت کی اور بلآخر حکومت مغلوں کے ہاتھ آئی۔ آخری مغل حکمران بہادر شاہ ظفرؔ سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے اقتدار حاصل کر لیا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے برصغیر میں وارد ہوتے ہی ہندو مسلم تنازعات شروع ہوئے اور رفتہ رفتہ شدت اختیار کر گئے۔ مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر فرقوں میں تقسیم کیا گیا ۔ پھر محمد علی جناحؒ کی قیادت میں دو قومی نظریہ پیش کیا گیا۔ جس کا مطلب تھا کہ مسلمان اور ہندو اکٹھے نہیں رہ سکتے اور ان کے لئے الگ الگ ممالک قائم کئے جائیں۔ یہ بات بہت سارے علماء کو ناگوار گزری لیکن وقت نے بتایا کہ محمد علی جناحؒ کی فکر درست تھی اور مسلمان تو ہندؤں کیلئے عرب حملہ آور کی طرح تھے جو ان پر آ کر قابض ہو گئے۔ہندؤں نے مسلمانوں کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ ہندو چالاک اور عیار قوم ہیں۔ وہ اپنے فائدے کے لئے مسلمانوں کے بھائی بن جاتے ہیں اور جہاں مسلمانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہو وہ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ مثلاً انڈیا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے نام سے خود کو منوانے کی کوشش کرتا ہے لیکن تاریخ انسانیت کو بڑا غمزدہ کرتی ہے جب پتہ چلتا ہے کہ تاریخی بابری مسجد کو ہندؤں نے مسلمانوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے گرایا۔ جب گجرات کے مسلم کش فسادات میں گجرات کا بدمعاش وزیراعلیٰ اور موجودہ وزیراعظم ہندوستان نریندرمودی ہندؤں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یقیناًانڈیا میں انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہو گا۔
اب کی بار نریندر مودی نے مسلمانوں کو ختم کرنے کا انوکھا منصوبہ بنایا ہے۔ وہ بھارتی جو ہندومت کو چھوڑ کر مسلمان ہوئے تھے ان کو لالچ دے کر ہندو بنایا جا رہا ہے۔ جس کا نظارہ گزشتہ دنوں آگرہ میں ایک تقریب کے دوران دیکھا گیا۔ آگرہ کے مسلمانوں کو مکانات دئیے گئے جس کے عوض ان سے ان کے مذہب کا سودا کیا گیا اور تقریباً 200 کے قریب مسلمان اس بہکاوے میں آ کر اسلام چھوڑ کر ہندومت قبول کر بیٹھے۔ لیکن! اس سب کا ذمہ دار کیا صرف نریندر مودی ہے۔ بالکل نہیں اس میں بھارتی مسلم علماء اور بھارتی مسلم سیاستدانوں کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے۔ بھارتی علماء بجائے تبلیغ کرنے کے آپس کی کشمکش میں لگے ہوئے ہیں۔ وہاں پر بھی بریلوی و دیوبندی اختلاف اور حنفی و غیر مقلد اختلاف کی وبا ہے۔ وہاں کا مسلمان سیاستدان بھی دولت اور مفادات کا پجاری ہے۔ نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی میں کتنے مسلمان ہیں جو دولت اور مفادات کی خاطر اسلامی اخوت کا قتل کرکے بیٹھے ہیں۔ دنیا کو ہندؤں کے متعلق بہت کچھ جاننے کی ضرورت ہے۔ ہندو مسلمانوں کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں یہ جاننا ناصرف عام پاکستانی اور انڈین مسلمانوں کیلئے بھی ضروری ہے بلکہ ان دانشوروں اور امن کی آشا کے پاسبانوں کو بھی ہے جو جانتے نہ جانتے ہوئے دو قومی نظریے کا قتل کر رہے ہیں۔ ایک انڈین سے پوچھا جائے کہ آپ کا مذہب کیا ہے تو چاہے وہ مسلمان ہے یا ہندو، آج کل ایک نیا جواب مل رہا ہے کہ میرا مذہب تو انڈین ازم ہے۔ تو انڈین ازم کیا ہے؟ جواب ملتا ہے مہا بھارت۔ مہا بھارت کیا ہے؟ ہندو کو تو پتا ہے لیکن اس سوال کا اصل جواب مسلمانوں کو نہیں پتا۔ مہا بھارت یا انڈین ازم وہ نفرت ہے جو مسلمانوں کے خلاف ہندوں کے دلوں میں ایک آتش فشاں کی طرح پھٹنے کو ہے جس کے راستے کی دیوار پاکستان ہے۔ ہندو مسلمانوں کو عرب حملہ آور کہتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ ان کا برصغیر پاک و ہند پر کوئی حق نہیں۔ ہندؤں کو اپنی تاریخ کنگالنی ہو گی تو انہیں یہ پتا چلے گا کہ وہ بھی وسط ایشیا سے آنیوالے حملہ آور تھے جنہوں نے برصغیر میں موجود دراوڑ قوم کا وجود ہی دنیا سے ختم کر دیا۔ اسلام اور ہندومت میں فرق یہ ہے کہ ہندومت برصغیر میں انسانیت کو ختم کرنے کے لئے داخل ہوا جبکہ اسلام برصغیر میں انسانیت کی بقاء کی خاطر آیا۔ لالچ میں آ کر مذہب تبدیل کرنے والے مسلمانوں کو تاریخ سمجھنی چاہئے کہ جب وہ اچھوت وغیرہ تھے تو یہی برہمن اور کھشتری ان کا کیا حال کیا کرتے تھے اور ہندؤں کو اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلام کو افراد کی نہیں افراد کو اسلام کی ضرورت ہے کیونکہ انسانیت کی دنیوی اور اخروی فلاح اسلام کے میں واضع نظر آتی ہے۔ اب ان پاکستانیوں اور ان علماء کو جن کو قائداعظم ؒ کی بصیرت پر شکوک و شبہات تھے اندازہ کر لیں کہ دو قومی نظریہ کس قدرضروری تھا۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button