تازہ ترینکالممحمد مظہر رشید

عطائی ڈاکٹراور جعلی لیبارٹریاں

پچھلے چند ہفتوں سے عطائی ڈاکٹروں اور بغیر لائسنس کے پریکٹس کرنے والے ڈسپنسروں،زچہ بچہ کے کلینکوں سے مریضوں کے مرض میں اضافہ ہونے کی خبریں تسلسل سے آرہی ہیں وطن عزیز کے دور دراز کے دیہاتوں میں موت کے یہ سوداگر کھلے عام موت بانٹتے ہیں جبکہ ہیلتھ انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر کے ان کے جرم میں برابر کی شریک ہو رہی ہے یہ عطائی ڈاکٹر اور جعلی لیبارٹریاں لوگوں میں موت بانٹ رہی ہیں،گلی محلوں خاص طور پر دور دراز دیہاتوں میں عطائی ڈاکٹر نزلہ زکام اورسردردسے لے کر دل کے امراض تک کا علاج کرتے پا ئے جاتے ہیں، اکثر عطائی ڈاکٹر میٹرک سے بھی کم تعلیم رکھتے ہیںیہ معصوم بچوں اور سیدھے سادھے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل کر کروڑوں روپے لوٹ رہے ہیںیوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ موت کے سوداگر بن چکے ہیں ۔معصوم لوگ جن کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں ان درندہ صفت لٹیروں کے سامنے بے بس ہیں،بعض عطائی ڈاکٹروں نے اپنی جعلی لیبارٹریاں بنائی ہوئی ہیں جہاں پر مختلف ٹیسٹ کئے جاتے ہیں اور ان کی فرضی رپورٹ بنا کر دی جاتی ہے جس کی وجہ سے مرض کی صحیح تشخیص نہیں ہوپاتی اور مرض کم ہونے کی بجائے اور زیادہ بڑھ جاتا ہے اکثر لیبارٹریوں کے پاس لائسنس بھی نہیں ہوتے لیکن کسی مشہور ڈاکٹر کا نام باہر بورڈ اوررپورٹ پر لکھ کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اور اَن ٹرینڈ عملہ ٹیسٹوں کی رپورٹیں بنا کر مریض کے لواحقین کو لوٹتا ہے غیر تربیت یافتہ عملہ کی بنائی ہوئی رپورٹیں مریضوں کی بروقت حقیقی تشخیص میں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں پچھلے چند سالوں میں یہ رواج بھی عام ہو چکا ہے کہ ہر ڈاکٹر اپنی یا اپنے جاننے والے کی لیبارٹری کی ٹیسٹ رپورٹوں کو ہی اہمیت دیتے ہیں اگر مریض کسی اور لیبارٹری کی رپورٹ لے آئے تو اسے دوبارہ ٹیسٹ کروانے کا کہا جاتا ہے جس سے معاشی طور پرمریض پر اخراجات کا اور بوجھ بڑھ جاتا ہے سب سے پہلے محکمہ ہیلتھ کی انتظامیہ کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ ہر لیبارٹری کا لائسنس چیک کریں اور وہا ں کام کرنے والے عملے کا ریکا رڈ رکھیں نیز عطائی ڈاکٹروں کے خلاف بھر پور ایکشن لیں صرف کاغذی کاروائی کر کے شاباش حاصل کرنے کی بجائے ان موت کے سوداگروں کو سزا دلوائیں تاکہ کوئی جعل ساز معصوم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی جراء ت نہ کرے،ڈسٹرکٹ ہسپتالوں اور بنیادی ہیلتھ سنٹروں میں ڈاکٹروں کی حاضری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ دیہاتوں میں لیبارٹریاں قائم کی جائیں تاکہ دوردراز کے رہنے والے لوگ غیر تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور لیباٹریوں کے چنگل میں نہ آئیں۔چیک اینڈ بیلنس کے زریعے ہیلتھ انتظامیہ اور حکومت جعلی لیبارٹریوں اور عطائی ڈاکٹروں کا خاتمہ کر سکتے ہیں*

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. آپ نے صحیح موضوع پر بات کی ہے آج کل اخبارات میں آئے روز ایسی خبریں آرہی ہیں جن میں معصوم لوگ عطائی ڈاکٹروں کے ہتھے چڑھ کر اپنی زندگی گنوا بیٹھتے ہیں کاش محکمہ ہیلتھ بھی اپنی ذمہ داری کااحساس کرتے ہوئے اہم اقدامات کرے

Back to top button