پاکستان

اسلام آباد:پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کا بائیسواں دو سالہ عالمی کنونشن

اسلام آباد﴿بیورو رپورٹ﴾پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے تحت بائیسواں دو سالہ عالمی کنونشن کراچی میں شروع ہو گیا ہے جس میں اندرون و بیرون ملک سے 174سے زائد طبی ماہرین شریک ہیں۔3روز تک جاری رہنے والے اس کنونشن میں پاکستان بھر سے 5ہزار سے زائد ڈاکٹرز شرکت کر رہے ہیں۔ ابتدائی روز عوامی آگہی سیمینار منعقد ہوا جس میں امراض قلب، ذیابیطس، یرقان، امراض اطفال، نفسیاتی امراض اور تمباکونوشی کی علامات، روک تھام اور علاج پر پاکستان کارڈیک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر خان شاہ زمان، پاکستان کے سینئر ڈاکٹر ایس ایم رب،پروفیسر اعجاز وہرہ،ماہر امراض تنفس ڈاکٹر جاوید احمد خان،ماہر نفسیات پروفیسر اقبال خان آفریدی،پاکستان میڈیکل ریسرچ کونسل کی ڈائریکٹر و ماہر جگرڈاکٹر ہما قریشی اورشوکت علی جاویدنے لیکچرز دیئے۔ اس موقع پر ذیابیطس،تھلیسیمیا،بلڈ پریشر،ہڈیوں کی طاقت،خون میں نکوٹین کی مقدار،موٹاپے کا تعین،کالے یرقان کی شناخت ،جسم میں چربی کی مقداراور دیگر امراض کے مفت طبی ٹیسٹ بھی کیے گئے۔مقررین نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہلاک ہو رہے ہیں،ملک میں دہشت گردی سے اتنی اموات نہیں ہو رہی جتنی سگریٹ نوشی سے ہو رہی ہیں۔کراچی میں تمباکو پر پابندی عاید کردی جائے تو 40فیصد کینسر اور25فیصد ہارٹ اٹیک پر قابو پایا جاسکتا ہے۔دنیا میں ایک کروڑ بچوں کی اموات ہوتی ہیں جن میں سے 50لاکھ بچوں کی اموات پاکستان میں ہوتی ہیں، پاکستان میں 18فیصد آبادی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہے، صحت جسمانی،نفسیاتی اور سماجی آسودگی کا نام ہے۔ڈاکٹر خان شاہ زمان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ پیما کنونشن صحت سے متعلق شعور بیدار کرنے کا ذریعہ بنے گا۔عام طور پر صرف ڈاکٹروں کی تربیت کے لیے پروگرامات کیے جاتے ہیں مگر اس کنونشن کے ذریعے عام شہری کو بھی صحت سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی۔انہوں نے کنونشن میں مہمانوں اورشرکا کا شکریہ ادا کیا۔ڈاکٹر غفار بلونے کہا کہ پاکستان زیادہ آبادی والے ملکوں میں چھٹے اور ایٹمی قوت کے حامل ملکوں میں ساتویں نمبر پر ہے لیکن بچوں کی اموات میں پاکستان کا دنیا بھر میں پہلا نمبر ہے،دنیا بھر میں پولیو 190ملکوں سے ختم ہو چکا ہے مگر پاکستان ،افغانستان اور نائیجیریا سے پولیو کا خاتمہ ابھی تک نہیں ہو سکا ہے۔دنیا میں ایک کروڑ بچوں کی اموات ہوتی ہیں جن میں سے 50لاکھ بچوں کی اموات پاکستان میں ہوتی ہیں ہلاک ہونے والے ان 50لاکھ بچوں میںنمونیہ اور ڈائریا کے سبب نوزائیدہ بچوں کی اموات سب سے زیادہ ہے،ان بیماریوں سے بچائو کے لیے ضروری ہے کہ ہر ماں بچے کو اپنا دودھ اور ابلا ہو اپانی پلائیں ،بچوں کی جان لیوا بیماریوں سے بچائو کے لیے ضروری ہے کہ ماں اپنی صحت کی حفاظت کرے۔مائوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان بیماریوں کی روک تھام کو ممکن بنایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے 60فیصد اور پاکستان کے 50بچے غذائی کمی کا شکار ہیں،اور40سے50 فیصد مائیں غذائی کمی میں مبتلا ہیں۔پاکستان میں 20فیصد بچے ایسے بھی ہیں جو موٹاپے کا شکار ہیں۔60سے70فیصد بچوں کے دانت خراب ہیں،ایک سروے کے مطابق پاکستان اور بھارت کے6سے16سال کی عمر کے 50فیصد بچوں کے دانت خراب ہیں۔ڈاکٹر ایس ایم رب نے کہا کہ پاکستان میں 12فیصد آبادی ذیابیطس میں مبتلا ہے،یہ مریض براہ راست بہت کم رپورٹ ہو تے ہیں وہ کسی اور مرض میں مبتلا ہو کرجب ڈاکٹر کے پاس آتے ہیں تب ٹیسٹوں سے پتا چلتا ہے کہ وہ شوگر کا مریض ہے۔شوگر کی وجہ سے کبھی نویں مہینے کے بجائے دسویں مہینے زچگی ہوتی ہے۔پروفیسر اعجاز وہرہ نے کہا کہ پاکستان میں 18فیصد آبادی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا ہے،جس میں سے تین فیصد اپنے بلڈ پریشر کو قابو میں رکھتے ہیں۔دل کی بیماری سے بچنے کے لیے ہفتے میں پانچ سے چھ دن تیز رفتار سے تیس منٹ چلنا ،کھانے میں نمک کا کم استعمال،وزن بڑھنے سے روکنااورکولڈ ڈرنگ سے پرہیز کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دالیں ،سبزیاں، اور پھل کولسٹرول کم کرنے والی غذائیں ہیں۔ تمباکو نوشی سے پرہیز،ورزش،ویکسینیشن کے ذریعے صحت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دل کے دورے کے بعد مریض کو جلد سے جلد ہسپتال پہنچانا چاہیے ،مریض جتنی جلد ہسپتال پہنچے گا اتنی جلد صحت مند ہوگا۔پرہیز اور دوائوں کے ساتھ ساتھ اللہ کا ذکر دل کی اصل صحت کا ضامن ہے۔ڈاکٹر جاوید احمد خان نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہلاک ہو رہے ہیں ،اور دنیا میں 54 لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہلاک ہو رہے ہیں اگر اس پر قابو نہ پایا گیا تو 2030تک یہ تعداد ایک کروڑ سالانہ ہو جائے گی۔ہمیں صحت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جس یہ نعمت ہم سے چھن جاتی ہے۔انسان سیگریٹ نہیں پیتا ،سیگریٹ انسان کو پیتی ہے۔پاکستان میں دہشت گردی سے اتنی اموات نہیں ہو رہی جتنی سگریٹ نوشی سے ہو رہی ہے۔ہم امریکا اور یورپ سے پہلے تمباکو خریدتے ہیں پھر کینسر ہو جاتا ہے اور پھر ان ممالک سے کینسر کے علاج کی مہنگی مہنگی دوائیں خریدتے ہیں۔سیگریٹ کا مہنگا کیا جائے ۔اگر گھنٹہ شیشہ استعمال کرنا ایسا ہے،جیسے 100 سیگریٹ پی جائے۔پاکستان میں 120کروڑ روپے روزانہ سیگریٹ نوشی پر خرچ کیے جاتے ہیں۔پروفیسر اقبال خان آفریدی نے کہا کہ صحت جسمانی،نفسیاتی اور سماجی آسودگی کا نام ہے۔ذہنی صحت اپنی صلاحیتوں سے واقف

یہ بھی پڑھیں  جماعت اسلامی کا 28 نومبر کو کراچی میں مارچ کا اعلان

یت اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کا نام ہے۔دنیا میں45کروڑ افراد نفسیاتی امراض کا شکار ہیں جسم میں90فیصداس بیماری کا علاج ہی نہیں کرواتے۔نفسیاتی بیماری کا شعور پیدا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ نفسیاتی مریض نہ صرف خود تکلیف اٹھاتا ہے بلکہ پورے گھرانے کو تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے۔80فیصد بیماریوں میں نفسیاتی پہلو موجود ہوتا ہے۔ڈاکٹر ہماقریشی نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کے پانچ مشہور قسمیں ہیں جن میںہیپاٹائٹس A-B-C-D-E-شامل ہیں۔ان میں سے ہیپاٹائٹس اے اور ای گندے پانی سے پھیلتا ہے۔جب کہ بی ،سی اور ڈی خون اور جسم کی رطوبتوں سے پھیلتا ہے،لیکن یہ پانی سے نہیں پھیلتا۔ہیپاٹائٹس کی مریضہ اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے،اس مرض سے بچائو کے لیے پانی ابال کر پینا چاہیے،جب بھی انجکشن لگوانا پڑے تو ہمیشہ نئی سرنج استعمال کریں۔۔شوکت علی جاوید نے کہا کہ عوام کو صحت سے متعلق آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔#

یہ بھی پڑھیں  11مئی کو ملک بھر میں پرامن دھرنے دیئے جائیں گے، طاہر القادری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker