احمد رضا میاںتازہ ترینکالم

جب ڈالر لیئے تو احتجاج کیسا؟؟؟

جب پیار کیا تو ڈرنا کیا۔۔۔؟؟؟ جب ڈالر لیئے تو لڑنا کیا۔۔۔؟؟؟پاکستان کا ڈرون حملوں پر شدید احتجاج ۔۔۔!!!امریکی سینئر سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی۔۔۔!!! حیرت میں ڈبو دینے والی خبر ہے۔ سب سے پہلے جس خبر پر نظر پڑی وہ یہی تھی۔ دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ    ” ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری کے خلاف ہیںکسی بھی صورت قابل قبول نہیںامریکا عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں بند کرے” وغیرہ وغیرہ۔۔۔جس طرح اس حکومت کے ہوتے ہوئے ملک میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ممکن نہیں اسی طرح ڈالر خور حکمرانوں کی موجودگی میں ڈرون حملوں کا خاتمہ بھی ممکن نہیں۔ اُس کی مثال آپ کے سامنے ہے کل وزارت خارجہ نے احتجاج کرنے کے لیئے امریکی سفارتکار کو اپنے دفتر میں طلب کیا ہے اور آج پھر ایک اور ڈرون حملے میں 16 جانیں ضائع ہو گئیں۔ یہی ہے ہماری خود مختاری۔ جس کام کے لیئے امریکہ پانی کی طرح ڈالر بہا رہا ہو وہ کام ایک معمولی سے بیان سے بھلا کیسے رک سکتا ہے۔ کبھی کبھار عوام کو خوش کرنے کے لیئے اور اپنا ریٹ بڑھانے کے لیئے ایسے چھوٹے چھوٹے بیان دیتے رہنا چاہیئے تا کہ عوام کو پتا چلے کہ ہمارے سر کے سائیں ابھی زندہ ہیں۔ الیکشن کی تیاری بھی تو کرنی ہے ناں۔۔۔اس لیئے ملک کی خود مختاری کے اوپر پڑی ہوئی گرد و غبار کو جھاڑنا بہت ضروری ہے۔ورنہ یہ خود مختاری تو پچھلے چار سال سے بھی زیادہ عرصہ سے لا وارث پڑی اپنی زندگی کی سانسیں گن رہی تھی۔ رہی بات احتجاج کی وہ ہم کرتے رہیں گے اور امریکی ڈرون برستے رہیں گے۔آخر ہماری ہی سر زمین سے اُڑتے ہیں نا یہ ڈرون تو پھریہ ہمارے ہی ہوئے نا۔۔۔ یعنی ہم خود ہی قاتل ہیں اپنے بھائیوں کے اور خود ہی ماتم کر رہے ہیں ان کی لاشوں پر۔۔۔دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ ہم اپنے آپ سے ہی احتجاج کر رہے ہیں۔ ظالم بھی ہم ہیں اور مظلوم بھی ہم۔جابر بھی ہم ہیں اور مجبور بھی ہم۔۔۔ ظلم اور بے بسی کا ایسا انوکھا امتزاج دنیا میں کہیں نہیں ملتا۔ جب جی چاہا خوشی خوشی نیٹو سپلائی کو بحال کر دیا اور جب جی چاہا تھوڑا سا احتجاج۔۔۔ بھلا اُن کو ہمارے احتجاج کی کیا پروا جن کا دیا ہم کھاتے ہیں ۔ احتجاج کا حق اُسی دن سے ہی ختم ہو جاتا جس دن کشکول میں پہلا سکا گرتا ہے۔ بھکاری بھیک مانگنے کے لیئے تو اپنا منہ کھول سکتا ہے مگر احتجاج کرنے کے لیئے نہیں۔۔۔مقروض کبھی بھی قرض دینے والے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کر سکتا۔ اور جو احتجاج نظریں جھکا کر کیا جائے وہ احتجاج نہیں التجا ہوتی ہے ۔ احتجاج کرنا ہے تو پھر ہمیں نظروں سے نظریں ملا کر بات کرنا ہو گی۔اُس کے لیئے ضروری ہے کہ کشکول کو توڑ دیا جائے ۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر کشکول ٹوٹ گیا تو پھر ڈالروں کا سلسلہ بھی تو ٹوٹ جائے گا۔اگر ڈالروں کا سلسلہ ٹوٹ گیا تو۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟

یہ بھی پڑھیں  مبین چودھری اوراسلم خان کے دکھ میں شریک ہیں۔ ورلڈکالمسٹ کلب

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker