تازہ ترینعلاقائی

دوڑ:نادرا بینظیراسمارٹ کارڈ سینٹرمیں50لاکھ روپے سے زائد فراڈ کا انکشاف

دوڑ(نامہ نگار) نادرا بینظیر اسمارٹ کارڈ سینٹر دوڑ میں50لاکھ روپے سے زائد کے فراڈ کا انکشاف۔ دو ہزار سے زائد مستحق خواتین کے اے ٹی ایم کارڈ جعل سازی سے بنا کر کیش کرالئے گئے۔سابقہ سینٹر انچارج اور دیگر عملہ ملوث۔مستحق خواتین چکر کاٹنے پر مجبور۔کاروائی کا مطالبہ۔تفصیلات کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خواتین کو دی جانے والی امدادی رقوم میں محکمہ ڈاک کے اہلکاروں اور ایجنٹوں کی ملی بھگت سے خرد برد کی شکایات پر حکومت نے بینظیر اسمارٹ اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے مستحق خواتین کو رقوم جاری کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔تاکہ مستحق خواتین اپنے اے ٹی ایم کارڈ خود کیش کراسکیں۔ذرائع کے مطابق ہزاروں خواتین معلومات کی عدم فراہمی کے سبب اپنا اے ٹی ایم کارڈ نہیں بنواسکی ہیں۔اور قسط کے حصول کے لئے پوسٹ آفس کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں۔جہاں پر انہیں قسطیں بند ہونے اور بی آئی ایس پی پروگرام بند ہونے کے بہانے بناکر ٹال دیا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق محکمہ ڈاک دوڑ کے بعض پوسٹ مینوں جن میں سے چند سرکاری اسکول ٹیچر بھی ہیں۔اور بینظیر گھر گھر سروے پروگرام کے ایک اہلکار کی ملی بھگت سے بڑے پیمانے پر خرد برد کی گئی ہے۔ جبکہ نادرا بینظیر اسمارٹ اے ٹی ایم کارڈ سینٹر دوڑ میں دو ہزار سے زائد مستحق خواتین کے ساٹھ لاکھ روپے سے زائد کی امدادی رقوم جعل سازی کے ذریعے اے ٹی ایم کارڈ بنا کر ہڑپ کرنے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔جس میں دوڑ سینٹر کے سابقہ انچارج اور دیگر عملہ ملوث ہے۔ذرائع کے مطابق سابقہ سینٹر انچارج محبوب کورائی نے دیگر عملہ سے ملی بھگت کرکے مستحق خواتین کے شناختی کارڈ نمبرز کی فہرست حاصل کی۔اور ان خواتین کی غیر موجودگی میں نادرا اور بینک عملہ کی ملی بھگت سے انکے ناموں پر اے ٹی ایم کارڈ جاری کرلئے۔متعدد خواتین نے بتایا کہ جب وہ نادرا سینٹر اپنا اے ٹی ایم کارڈ بنوانے کے لئے گئیں تو وہاں پہلے ہی انکا کارڈ بننے کا انکشاف ہوا۔اور عملہ نے شکایت کرنے پر سابقہ انچارج محبوب کورائی سے رابطہ کرنے کے لئے کہا۔اور جب ان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے مختلف بہانے بناکر ٹال دیا۔۔سلطان حیدر دستی نامی شخص نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسکے اہل خانہ اور دیگر رشتہ داروں کے تیرہ اے ٹی ایم کارڈ جعل سازی سے جاری کئے گئے۔جن میں سینٹر انچارج محبوب کورائی ملوث ہے۔معلوم ہوا ہے کہ بی آئی ایس پی حکام کے پاس 23000مستحق خواتین رجسٹرڈ ہیں۔جنکے اے ٹی ایم کارڈ جاری کرنے کے احکامات دیئے گئے۔ان میں سے اب تک14538 مستحق خواتین کو اے ٹی ایم کارڈ جاری ہوچکے ہیں۔رابطہ کرنے پر موجودہ سینٹر انچارج حنیف مری نے بتایا کہ انہوں نے دو ماہ قبل مئی میں چارج لیا ہے۔اور انکے متعلق کسی کی شکایت نہیں ہے۔ان سے قبل محبوب کورائی انچارج تھے۔اور غلط طریقے سے جاری ہونے والے 1800 اے ٹی ایم کارڈ بلاک ہوچکے ہیں۔حبیب بینک اور بی آئی ایس پی کے انچارج ارباب علی نے بتایا کہ ان سے قبل نیاز علی۔عبدالقادر سومرو اور رفیق میمن انچارج تھے۔دوسری جانب معلوم ہوا ہے کہ نادرا اور بی آئی ایس پی حکام کی جانب سے دوڑ سینٹر میں ہونے والی کرپشن کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  جہانگیر ترین اور علی ترین کی دو مقدمات میں عبوری ضمانت 22 اپریل تک منظور

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker