تازہ ترینصبح صادقکالم

الحمرا اور ڈاکٹر انور سجاد کا خوبصورت رشتہ!

تھیٹر میں،اداکاری اورڈارمہ نگاری میں،افسانہ نویسی،مصوری،رقص اور ترقی پسند تحریک میں گویا فنون لطیفہ کی ہر صنف میں ڈاکٹر انور سجاد کی خدمات قابل ستائش ہیں،ڈاکٹر انور سجاد ہماری زبان و ادب کا بلاشبہ ایک درخشاں باب ہیں،اب وہ ہم میں نہیں رہے،ان کی خدمات کویاد کرنے کے لئے لاہورآرٹس کونسل الحمراء میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہورآرٹس کونسل الحمراء اطہرعلی خان نے کہاکہ ڈاکٹر انورسجاد کے بچھڑنے کا غم ابھی تازہ ہے جو صدیوں تازہ رہے گا، ڈاکٹر انور سجاد کی شخصیت کے کئی خوبصورت پہلو ہیں ان کے کام کا احاطہ کرناآسان بات نہیں انھوں نے فنون لطیفہ کی جس صنف کو بھی ہاتھ ڈالا،اس میں پوری محنت اور جستجو سے کامیاب ہوئے اور پھر اس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوئے۔
ڈاکٹر انور سجاد کا شمار ہمارے ان دانشوروں میں ہوتا ہے جو اقدار اور اس کی تاریخ سے آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ میں ہونے والے واقعات کو اسکے تاریخی پس منظر میں دیکھنے کی صلاحیت سے مالا مال تھے،اپنی اسی مہارت کا اظہارکرنے کے لئے انھوں نے فنون لطیفہ کی کئی اصناف کا سہار ا لیا اور ادب و ثقافت کا اثاثہ ٹھہرے۔لہذا عہد جدید کی محرومیوں کے ترجمان اس ادیب کی خدمات کو یاد کرنے کے لئے لاہور آرٹس کونسل الحمرا نے ایک تقریب کا اہتمام کیا،لاہور آرٹس کونسل الحمرا ء میں نامور افسانہ نویس،ڈرامہ نگار،اداکار اور مصور ڈاکٹر انور سجاد کی یاد میں تقریب منعقد کی گئی۔تقریب میں میاں اعجاز الحسن،منیزہ ہاشمی، توقیر ناصر، اصغر ندیم سید، خالد عباس ڈار اور پریا سجادنے ڈاکٹر انور سجاد کے فن اور شخصیت پر اظہا ر خیال کیا۔چیئرمین الحمرا توقیر ناصر نے تقریب میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر انور سجاد جیسے دانشور صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں،انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنے فنکاروں کو وہ مقام دینا ہوگا جس کے وہ مستحق ہیں۔خالد عباس ڈار نے ڈاکٹر انور سجاد کے ساتھ بیتے دن کی یادیں تازہ کیں اور کہا کہ ڈاکٹر انور سجاد نے سچی لگن اور جذبے سے کام کیا۔ منیزہ ہاشمی نے ڈاکٹر انور سجاد کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر انور سجاد ایک عمدہ لکھاری،متاثر کن ادیب اور رجحان ساز ڈرامہ نگار تھے، انھوں نے کئی شعبوں میں اپنی مہارت کا لوہا منوایا،نقاد بھی ان کے کام کے بے حد معترف تھے،انھوں نے افسانہ نگاری میں نئی تکنیک دریافت کیں۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل اطہر علی خان نے ڈاکٹر انور سجاد کو خوبصورت انداز میں یاد کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر انور سجاد ہماری زبان و ادب میں ایک درخشاں باب ہیں،انکی شخصیت کے کئی پہلو ہیں،انھوں نے فنون لطیفہ کی جس صنف میں خود کو آزمایا پوری محنت اور جستجو سے کامیاب ہوئے۔ میاں اعجاز الحسن نے تقریب سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر انور سجاد کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، وہ بے حد منفر د پینٹر تھے۔نامور ادیب اصغر ندیم سید نے اپنے تاثرات میں کہا کہ ڈاکٹر انور سجاد نے ادب کی جس جس صنف میں کام کیا اسی کوجدیت سے ہم کنار کیا، انکی فکر معاشرتی ترقی کے خواں تھی،انھوں نے اپنے قلم کے ذریعے مسلمہ اقدار کی ترجمانی کی۔ ڈاکٹر انور سجاد نے الحمرا آرٹس کونسل کی زندگی خوبصورت بنانے کے لئے اپنا حصہ ڈالا، اس کی تزئین و آرائش اور ترقی کے لئے اپنا بھر پور کردار ادا کیا،سنجیدہ تھیٹر کی آبیاری کی۔
لاہور آرٹس کونسل الحمرا کی اس تقریب میں نوجوانوں نے بھر پور شرکت کی اور ڈاکٹر انور سجاد کی ادب و ثقافت میں خدمات سے آگہی حاصل کی،بلاشبہ ایسے پروگرام کے انعقاد نوجوانوں کو عملی میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ ملتا ہے،وہ بھی اسی جوش اور ولولے سے کام کرتے ہیں جس کی ان کو ترغیب دی جاتی ہے۔گویا الحمرا اپنے نوجوانوں کی راہنمائی کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے۔تقریب میں شرکت کرنے والے نوجوانوں کو پتہ چلا کہ انور سجاد ایک ایسے زمانے میں پیدا ہوئے جب برصغیر کے طول وعرض میں آزادی کی تحریک چل رہی تھی بلکہ یہ کہنا بھی زیادہ مناسب ہوگا کہ انیسویں صدی کے آخراور بیسویں صدی کی چاردہائیوں میں یہ تحریک جس قدرہمہ جہت تھی،اس نے کیا ہندو اور کیا مسلمان،کیا سکھ سب ہی کو جوش سے بھردیاتھا،جلیا نوالہ باغ میں بے گناہوں کے قتل عام نے بھگت سنگھ اور ان کے سرفروشوں کو برصغیر کے لوگوں کی آنکھوں کا تارا بنادیا تھا۔اس طرح متعددتحریکیں تھیں جو بڑی اور چھوٹی سیاسی جماعتوں سے جڑی ہوئی تھیں۔ہر شخص کے سینے میں اس یقین کا علم لہراتا تھا کہ آزادی اب ملی کہ اب ملی۔اس وقت مذہب،مسلک،زبان اورعلاقے کے نام پر کوئی تفر یق نہ تھی اسی دور میں ڈاکٹر انور سجاد پیدا ہوئے،لاہورسیاسی،ادبی و علمی ابھار کا مرکز تھا، انہوں نے پرانے لاہور کی گلیوں میں اس حسین خواب کو طلوع ہوتے دیکھا جو ہر شخص کی پلکوں پر سجاد ہوا تھا۔ یہی دن تھے کہ جب دوسری جنگ عظم شروع ہوئی اور پنجاب کے طول وعرض سے غریب اور بھک مری کے شکار خاندانوں کے نوجوانوں نے قطاریں لگاکر برٹش راج کی گرتی ہوئی دیواروں کو سہارا دینے کیلئے اپنی جانیں پیش کردیں۔ان کے ذہین میں بس یہی خیال تھا کہ ان کے گھروالے کا نوالہ بننے کے بجائے پیٹ بھرنوالہ کھا سکیں گے۔ڈاکٹر انور سجاد نے بھی اپنے اردگردکے ماحول سے بہت اثر قبول کیا اور اپنے قلم کے سہارے سچائی کا ساتھ دیا جو انھیں ہمیشہ کے لئے تاریخ میں امر کر گیا۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑا:بھارت کشمیریوں کے بنیادی حق کو تسلیم کرے،ماڈا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker