تازہ ترینصابرمغلکالم

ڈاکٹر محمد اسلم امر رہیں گے

پاکستان میں 22دسمبر سال کا سب سے چھوٹا دن ہوتا ہے کچھ اندازہ نہیں تھاامسال یہی چھوٹا دن ہماری زندگی کو چکنا چو رکر دے گاہمیں سروں سے وہ دست شفقت اٹھ جائے گاجو ہمیں کیا ہماری آئندہ نسلوں کو بھی شاید نصیب نہ ہوجن کی جدائی کا تذکرہ بھی اذیت ناک ہے، الراقم برادرم زکریا شہزادکے ہمراہ برادرم عابد مغل کے پاس تھا انہوں نے پاکستان پولٹر ی ایسویسی ایشن کے مرکزی چیرمین ڈاکٹر اسلم کے جہاں فانی سے کوچ کر جانے کی المناک اطلاع دی،ہمیشہ ہمیشہ دوری اختیار کرنے والے ڈ اکٹر محمد اسلم میرے پڑوسی تھے ان کی اچانک رحلت پر دل ٹوٹ اورہر سو گھور تاریکی میں گھر اورذہن تاریکیوں میں ڈوب گیا ایسے لگا جیسے ہر خوبصورتی ہی مر گئی ہے کوئی رنگ باقی نہیں رہا کوئی کرن زندہ نہیں رہی سب بنجر ہو چکا ہے مسکرانا بھی چاہیں توہونٹوں پر مسکراہٹ آہ کا روپ دھار لیتی ہے،زندگی بے حد بے معنی اور کم بخت نظر آنے لگی دل کے اہرام میں مقیددکھ اور تکلیف نے سب جذبوں کو زمین بوس کر دیاان کا تو اب تذکرہ بھی کرب اور اذیت ناک راہوں پر ہے بقول علی افراز چوہدری ASJسنٹرل جیل سائیوال،منافقت اور بناوٹ کی اس دنیا میں وہ صرف انسان نہیں بلکہ وہ ہر لحاظ سے ایک مکمل شخصیت تھے اور شخصیت بھی قسمت سے کئی دہائیوں بعد ہی پیدا ہوتی ہے،ڈاکٹر اسلم میرے پڑوسی،بڑے بھائی تھے ایسوں کے صدمے کسی بھی انسان کو ڈھا دیتے ہیں، دل بھی اس وقت ہی ٹوٹتا ہے جب سب سے محترم،سب سے منفرد،سب سے پیارا ہم سے بچھڑ جاتا ہے دنیا کے بھرے میلے میں ہمیں تنہا چھوڑ کر وہ دور افق چلے گئے ہر شخص وہ نہیں ہو سکتامخلص لوگوں کو کھو دینا ہی زندگی میں سب سے بڑی بد نصیبی اور بد قسمتی ہے بے رحم لمحات نے انہیں ہم سے چھین لیا اور قبل از وقت چھین لیاجو ہم ہیں اور ہم وہ نہیں ہو سکتے جو ہر شخص ہے جو ہر شخص میں انفرادیت ہے،بس سلیقہ یہ ہونا چاہئے کہ ہر طرح کے لوگوں کے ساتھ خوش اسلوبی اور زندگی کے معاملات کو روا رکھا جائے ڈاکٹر محمد اسلم ہر طرح کے قد کاٹھ میں ضلع اوکاڑہ کی سب سے بڑی شخصیت تھے ان کے والدمحترم،والدہ محترمہ کی وفات،بیٹی کی شادی پر محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان،بحریہ ٹاؤن کے ملک ریاض احمد،عدالت اعظمیٰ کے جسٹس،اعلیٰ ملٹری آفیسرز،وفاقی سیکرٹریز،منسٹرزسینٹرز،بین الاقوامی شہرت یافتہ صحافی،پاکستان بار کونسل کے عہدیداران اور نہ جانے کون کون سی عظیم شخصیت نے شرکت کی،انہیں کون نہیں جانتا تھا کون ان کا دوست نہیں تھاوہ تو ایک انٹرنیشنل Persolnalityتھے،وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف اسلام آباد میں ان کی بیٹی کی شادی اور صدر گوگیرہ میں ان کی والدہ کی وفات پر آئے،دوستی،عزت،تعلقات،کاروبار،انسانی خدمت کا مینارہ تو ہمیشہ سے ان کا منتظر رہاہم ان کے آبائی گاؤں والے انہیں اسلام آباد دیکھ کر سکتے میں آجاتے ہیں کہ یہ وہی ڈاکٹر محمد اسلم ہیں جو آبائی گھر آکر سب سے ملتے،ہم جیسوں کے کاندھوں پر بھی ہاتھ رکھے کھڑے رہتے،ہر کی بات سنتے،ہر کا مسئلہ حل کرتے،علاقہ میں تعلیمی پسماندگی پر ان کا بہت دل کڑھتاانہوں نے ذاتی طور پر کروڑوں روپے لگا کریہاں DPSسکول اینڈ کالج قائم کر دیاجہاں زیادہ تر مستحقیقن کے بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہوتے یہ ضلع اوکاڑہ کا واحد قصبہ جہاں ایسا تعلیمی ادارہ قائم ہے،سوئی گیس انہوں نے منطور کرائی،روڈز انہوں نے منظور کرائے،شہر بھر کا کوئی کونا ایسا نہیں جہاں ٹف ٹائل نہ لگی ہو،تمام فلاحی کام ان کی وجہ سے پایئہ تکمیل کو پہنچے قصہ مختصر جو کوئی بھی کسی کام سے ان کے پاس گیا خالی واپس نہ لوٹا،ہر سال ماہ مقدس رمضان میں ہر مستحق تک زکواۃ دینے خود باقاعدگی سے آتے، بلا تفریق ہر شہری کو افطاری کی دعوت ہوتی ڈاکٹر محمد اسلم نہ جانے کیا چیز تھے آج تک کوئی انہیں سمجھ نہیں پایاجن کے ساتھ مل کر یوں لگتا جیسے ہم نے ساری کائنات فتح کر لی ہو،فہم و فراست ہمدردی کا مظہر،رحمدل مہربان،فراخ دل،نایاب اور خوبصورت نہ جانے کس مٹی کا بنا ہوا تھا ان کی قلب کشادگی ہر قسم کے ذاتی تعصب سے کوسوں دور،جچی تلی رائے کا اظہار،چہرے پر مسکراہٹ اور چاشنی سجائے ہر قسم کے خط امتیاز سے پاک وہ ایک متاع گراں تھے ان کے اگرانسانی ہمدردی کے واقعات کولکھا جائے تویہ صفحات کم پڑ جائیں گے،الراقم نے ہمیشہ انہیں بھائی جان ہی کہا،وہ عظیم مہربان بھی فون پر مجھے صرف صابر کہتے اور کسی محفل میں سب کے سامنے مجھے مغل صاحب کے نام سے پکارتے،میری آخری تفصیلی دو ملاقاتوں میں ایک ان کے انتہائی قریبی دوست عبدالستار ہانس کے بیٹے کی شادی پر ہوئی پتا نہیں ان کی سوچ یا محبت کسی تھی مجھے بلایا اورباہر نکلتے لوگوں سے ملتے،باتیں کرتے گاڑی تک پہنچے مگر انہوں نے پیار سے لبریز اپنا ہاتھ میرے کاندھوں سے نہیں ہٹایادوسری ملاقات چند ماہ قبل ان کے آفس میں ہی ہوئی جو بہت خوش گوار موڈ میں ہوئی، میں ہمیشہ نچلے آفس حاجی محمد اسلم بھائی،شہزاد ڈار کے کمرے میں بیٹھ کرانہیں صرف میسج پر اطلاع کرتاوہ جیسے ہی فارغ ہوتے کال آ جاتی صابر کدھر ہو؟آ جائیں،اب یہ یادیں صرف الفاظ اور باتوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں،اب تو ایسے لگتا ہے جیسے ہمارا قصبہ نہیں پورا علاقہ چھت سے محروم ہو گیا ہے،ہماری گلیاں ان کی راہ تکتی رہیں گی ہماری فضائیں،ہوائیں بھی اداس ہو کر گذرتی ہوں گی ہرکوئی محو انتظار مگر وہ کہاں،وہ توزیرو پوائنٹ اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے درمیان اسلام آباد کے سب سے بڑے قبرستان میں آرام فرما ہیں اصل میں وہ نہیں مرے نہ انہیں موت آئے گی وہ جسمانی طور پر ہم سے الگ ضرور ہوئے ہیں،مرے تو ہم ہیں،سایہ تو ہمارے سروں سے اٹھا ہے،الراقم مجموعی طور پر 2011سے صحافتی ملازمت کی وجہ سے اسلام آباد رہاجہاں بھی بتایا ڈاکٹر محمد اسلم میرے پڑوسی ہیں وہاں بیٹھے افراد کا رویہ ہی بدل (بہتر) جاتا،انہوں نے اپنے کزن ملک محمد اقبال کو دو مرتبہ ناظم ایک مرتبہ چیرمین بنوایا،باقی فعال رشتہ داروں میں ملک صابر،ملک سرفراز احمد،زاہد حسین،کاشف علی،عبدالرؤف،نوید سلیمان،عبدالرشید،ملک وحید،قابل ذکر ہیں،شہر کے لوگ انہیں اپنا مسیحا سمجھتے اور قائد تعمیر شہر کے نام سے پکارتے،قیام پاکستان کے 6سال بعد اوکاڑہ کے تاریخی قصبہ صدر گوگیرہ میں یکم اگست1953کوہسپتال بازار کے کچے راستے پر موجودایک متوسط زمیندار گھرانے کے آنگن میں پھول جیسے بچے نے جنم لیاملک محمد یوسف نے اپنے بیٹے کا نام محمد اسلم رکھااور چمکتی آنکھوں والے اس بچے کومقامی سکول میں داخل کر دایا،کچے راستے پر جانے اور ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے والے ننھے منے بچے کی عادات روز اول سے ہی سب سے منفرد نظر آنے لگیں،جب سے الگ تھلگ اور تعلیم میں مگن رہنے والے محمد اسلم کو1967میں مڈل کے بعدسی ایم آر سکول اوکاڑہ داخل کرا دیا جہاں آج بھی بہتر پوزیشن لینے پر ان کی تصویر آویزاں ہے،اپنی دھن اور عادات میں مگن اس نوجوان کے ذہن میں نہ جانے کیسے یہ بات بیٹھ گئی کہ اسے ڈاکٹر بننا اور انسانیت کی خدمت ہی کرنا ہے، میٹرک کے بعدوالدنے بیٹے کو ایف سی کالج لاہور میں داخل کر ا دیا،ایف ایس سی کے بعدایم بی بی ایس میں داخلہ نہ ملامگر آؤٹ فال روڈ پر المعروف گھوڑاکالج سےDVMمکمل کرلیا،MBBSکرنے کی ادھوری خواہش نے انہیں چین نہ لینے دیابالآخرانہیں راولپنڈی کے جنرل ٹیچنگ ہسپتال میں داخلہ مل ہی گیا خدمت کا جذبہ دل کی گہرائیوں میں لئے ڈاکٹر بننے وہ راولپنڈی پہنچ گئے،دوران تعلیم ہی مری کے رہائشی حاجی محمد عباس نامی شخصیت جو پولٹری کے کاروبار سے وابستہ تھے سے ملاقات ہو گئی DVMکیا ہوا تھالہٰذا انہی کے ساتھ ملازمت اختیار کر لی حاجی عباس کو بہت جلد سمجھ آ گئی کہ اسے کوئی عام ڈی وی ایم ڈاکٹر نہیں کچھ اور ہی مل گیا ہے ان کی یہ جانچ یہ پرکھ ان کی سوچ سے بھی کہیں بڑھ کر نکلی،کچھ عرصہ بعد ہی ڈاکٹر محمد اسلم اس چھوٹی سی کمپنی میں حاجی محمد عباس کی خواہش پر حصہ دار بن گئے،اس وقت یہ کمپنی اسلام آباد بریڈنگ کمپنی کے نام سے 929۔Bسیٹلائٹ ٹاؤن نزد نادر سینما دو منزلہ پرانی سے کوٹھی میں قائم تھی، ڈاکٹر محمد اسلم نے اس دوران MBBSبھی کر لیا مگر تب تک وہ کاروبار میں اس قدر مصروف ہو چکے کہ پروہ بطور ڈاکٹرکام نہ کر سکے،دن گذرتے گئے کمپنی اپنے عزم ایمانداری اور انسانیت کے موٹو کے ساتھ بڑھتی اور پھلتی پھولتی گئی ہر نیا دن کمپنی کی وسعت کے لئے ابھرتا،اکتوبر1985میں بھارہ کہو کے نزدیک کورنگ کنارے جدید طرز کی ہیچری بنانے کا آغاز ہوا،مری کے قریب پھلگراں 40ہزار بریڈرزفارم کو اس قدر وسعت دی کہ وہ جنوبی ایشیا کے سب سے بڑا فارم بن گیا،1991میں دھمیال کے قریب 20ہزارCapicity کا برائلر فارم بنایا گیا،1996میں روات کے قریب فیڈ ملز بنی جسے5سال بعد وسعت دی گئی جس سے اس کا شمار پاکستان کی دو تین سب سے بڑی فیڈ ملز میں ہوتا ہے اسی عرصہ میں رائے ونڈ روڈ لاہور اور ملتان کے علاقہ میں بھی ہیچریز بن چکی تھیں،اس دوران کمپنی کا آفس D۔98سیٹلائٹ ٹاؤن کرائے کی بلڈنگ میں منتقل ہو چکا تھا،2010میں سرگودھا ضلع میں 3لاکھ Birdsکا برائلر فارم بن گیا،2012میں ڈاکٹر محمد اسلم نے اپنے آبائی ضلع اوکاڑہ میں دیپالپور روڈ پر بہت بڑی فیڈ ملز قائم کی،2014میں کوٹری حیدر آبادبھی کمپنی کی ہیچری بن گئی،2016میں فوڈ سپلائی کا مرکز،2018میں 6لاکھ چوزوں کے لئے لئیرفارم اٹک بھی بنا دیا گیا،اس وقت 2ملین بریڈرز اور2.7ملین برائلرزکے مجموعی فارمز ہیں،فیڈز ملز میں ہر گھنٹہ150ٹن فیڈاور50ٹن مویشیوں کی فیڈ تیار ہو رہی ہے،ملک بھر میں پولٹری کی سب سے بڑی کمپنی کو اب اسلام آبادگروپ آف کمپنیز کے نام سے مشہور ہے جس کا صدر دفترپرانے آفس سے ملحقہ پلاٹ پر قائم عالیشان دفترمین مری روڈ پر ررحمان آباد سٹاب سے چند قدم دوری پر ہے جبکہ ملک کے13بڑے شہروں میں کمپنی کے ذاتی دفاتر کام کر رہے،اسلام آباد گروپ آف کمپنیز کی پروڈکٹس متحدہ عرب امارات،سعودی عرب،اومان،کویت سمیت دیگر خلیجی ممالک تک جاتیں دوسری جانب براستہ افغانستان وسطی ریاستوں تک جا پہنچتیں،یہاں ہر شہر میں اسلام آباد فیڈز ایند چکس کی ایجنسیاں کاروباری کامیابی کے سفر میں ہم رکاب ہیں،کمپنی کے مستقل ملازمین کی تعداد3500 سے زائد،کنٹریکٹ ملازمین بھی ہزاروں میں ہیں،ڈاکٹر محمد اسلم کی شادی 1990میں لاہور کے ایک انتہائی معزز پال خاندان میں طے پائی،ان کے چار بچوں میں دو بیٹیاں اور دو ہی بیٹے محمد علی اور محمد حسن ہیں،ڈاکٹر محمد اسلم نے اپنی زندگی میں ہی بڑے بیٹے علی کو کمپنی کا بطورMDپنی جگہ پر بٹھا دیا تھا،صرف بڑی بیٹی کی شادی باقی ابھی غیر شادی شدہ ہیں،ڈاکٹر محمد اسلم کی رہائش4۔Fمیں پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کے باکل سامنے تھی بعد میں انہوں نے کئی کنال پر مشتمل اس بنگلہ سے رہائش آرچیڈ سکیم چک شہزاد میں اپنے فارم پر اختیار کر لی وہیں ان کی نمازہ جنازہ پڑھائی گئی جو فیض آباد سے مری روڈ پر اسلام آباد کی جانب راول چوک سے چندمیٹر کے فاصلہ پر ہے،

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button