تازہ ترینکالم

ڈاکٹر صاحبہ اتنی تبد یلی بہت نہیں کیا ۔۔۔

sohail warsiدیکھا جائے ، ارے خو د ہی دیکھ لو ، کتنے دور ما ضی سے شر وع کر و ملتا جو اب یہی ہے کہ وقت گزرہی جا تا ہے اور دنیا صرف اچھے کر داروں کو ہی یا د رکھتی ہے ، پھر خو ش فہمی ،انسا نیت پر تو پورا اتر یں ،کیا امیج بن رہا اس طرف تو غور کریں جو آپ کہتے کہ فلا ں فلا ں دور میں یہ اچھا ہوا تو سن لو یہ بھی
ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صدا قت ہے
ہما رے منہ میں تمہاری زبا ن تھوڑی ہے
ملکی سیاسی شو ر کب سے نہیں مچا ، ہم اس پر بات نہ بھی کہیں تو دو مر غوں کی لڑائی ایک مقررہ وقت پر ہر طر ف دیکھا ئی جا تی ہے ، خا رجہ پا لیسی میں جو سستی وہ ظا ہر ہو رہی ہے ، ہر بار کی طر ح ہما ری پا ک فو ج نے ہما را سر بلند کیے رکھا آ گے بھی ایسے ہی ہو گا یہ پا ک فو ج ہے۔ لکھنے کو بہت کچھ مولانا صا حب کا ٹاپک ، یا قائد انقلا ب کی انٹری ، یا پی ٹی آ ئی اور پیپلز پا رٹی کے درمیا ن اتفاق ، جو کچھ دن کا ، پھر سسی کا کچھ گھڑا ٹو ٹ جا ئے گا اور اب کی بار کس پر الزا م لگا یا جا ئے گا ، ایبٹ آ با د میں جو ایک عورت کے سا تھ سلو ک کیا گیا اس پر لکھتے لکھتے رہ گیا ، شا ہد ہم سب ہی بے حسی ہو گے ہیں ، ملک سے دور بیٹھے ہیں تو ہما ر کچھ قا بل احترام ہما ری تو جہ ان معا ملا ت کی دلا تے رہتے ہیں ، خیا لا ت ان کے بھی ہو تے ہیں ہما ری قلم اور اخبا ر والے وسیلہ بنتے ہیں ، دنیا ایسے ہی چل رہی ہے ، چا ر لڑ کیوں کے زند ہ جلا ئے جا نے کی نیو ز سنی تو طبیعت صر ف خا موش ہی ہو ئی، اس پر جتنا افسو س کیاجا ئے ، مکمل یقین تھا کہ ان دنوں ایک کا ل ضرور آ نی ہے ، اور اس کال میں مفید معلوما ت ملنی ، ہما ری طر ح صر ف چھوڑی نہیں جا ئیں گئیں کیونکہ پہلے بہت بار ایسی مفید معلو ما ت سے خود کے نا لج میں اضا فہ ہوا اور عقل ٹھا کنے آ ئی کہ ہما رے ہاں ہو کیا رہا ہے ، یو رپ میں رمضان کیسا گزر رہے اتنا پو چھ کر روایتی انداز سے بات شروع ہو ئی کہ تم نے آ ج اتنے دن گزرنے کے با وجو دخو اتین کے زند ہ جلا نے پر کچھ لکھا نہیں ، سا تھ یہ بھی واضع کر دیا کے تم لکھو جو سو رس ہما رے پا س ہو تے ان کو تو استعمال میں لا نا چا ہیے اس سے کیا اثرا ت مر تب ہو ں گے یہ بعد کی با ت ، میر ی طر ف سے خا مو شی ہی تھی ، محتر مہ نے ہما رے ملک میں پچھلے دو سا لوں میں عو رتوں کے ساتھ ہو نے والوں کا روائیوں کے بارے مکمل رپو رٹ پر با ت شروع کی ، معلوم پڑا کہ دو سالوں میں تین سو لڑ کیوں کوزندہ جلا یا گیا ، دو ہزار کو غیر ت کے نا م پر قتل کیا گیا ، میں نے اس دوران ایک سوال کیا کہ ، کیا اس کے پیچھے وجہ ان پڑ ھ ہو نا ہے کیو نکہ ہما رے ملک میں تعلیم کے سلسلے میں دیہی علا قوں میں زیا دہ تو جہ نہیں دی جا رہی یا وہاں وسا ئل بھی کم ہیں ، آ گے سے کہا گیا یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے ، مگر اس میں ہم سب شا مل ہو تے ہیں ، سب شا مل وہ کیسے ، وہ ایسے کہ جب کسی عو رت پر الزام آ تا تو با ت صر ٖف اس کے بھا ئی کی ہو تو وہ معا ف بھی کر دے مگر جب بھا ئی یہ سوچتا کہ با قی لو گ کیا کہیں گے تو وہ عز ت کو لے آ تا ، ہو ئے پھر ہم سب شا مل کیو نکہ ہما ری با تین، خیا لا ت ، اس بھا ئی کو ایسا کر نے پر مجبو ر کر رہے ہو تے ہیں ، ٹھیک کہا اور وجہ ، اور وجہ ہما رے ملک میں بنے قا نو ن پر عمل نہیں ہو تا ، قا نو ن تو بنا ئے گے ، آ ئے دن بنا ئے جا رہے ہیں ، ایک رمضا ن کے حو الے سے قا نون بنا اس پر آ خر میں با ت کی جا ئے گی ، میں نے کہا ٹھیک ہے محتر مہ آ پ اپنی با ت جا ری رکھیں ، تو کہا گیا اوکے سنتے جا ؤ ، جی ضر ور ، ہما رے اسلام میں خو اتین کو کتنی عز ت سے نوا زہ گیا ایسے کسی اور مذہب میں نہیں ، ہما رہ معا شر ہ اسلامی روایت کے مطا بق چلا نا چا ہیے ، مگر الٹا ہو رہا ہے ، ہما رے ہاں عو رتوں کے ساتھ جو برا سلوک کیا جا تا اس پر غیر مسلموں کی با تیں ہما رے لیے بحث شر مند گی ہو تی ہیں اگر ہم محسو س کر یں ، یہاں گفتا ر کے غاز ی تو ہیں مگر کر دار کا غاز ی کم ہی بنتے ہیں ،اقتدا ر میں بیٹھے آ ئے دن ملک میں ریکا رڈ تر قی کی با تیں کر تے نہیں تھکتے ہیں کیا یہ ان سب کے منہ پر تما چا نہیں کہ تین سو لڑ کیوں کو زندہ جلا دیا گیا ، مان لیتے سب لڑ کیا ں قصو وار ہو ں گےءں ، اس کے لیے قا نوں بنا ، پھر جہا لت میں ڈ وبے قا نون اپنے ہا تھ میں لیتے رہیں گے اور ہم سب خا مو ش تما شا ئی بنے رہیں گے ، زند ہ جلا نا ، صر ف سو چا جا ئے تو انسا نیت شر ما جا تی ہے ، ہما رے اسلا م مین ایک پر ند ے ، جا نو ر کو بھی حلا ل کر نے با رے یہ تعلیم دی کہ ایسے جان لی جا ئے کے ان کو کم تکلیف ہو ، ادھر انسا نوں کو زندہ جلا یا جا رہا ، محتر مہ نے بہت افسو س کے سا تھ کہا کہ ہم ہیں تو مسلمان مگر تبد یلی اتنی ہی آ ئی ہے کہ پہلے لڑ کیوں کو زند ہ در گور کیا جا تا تھا اب ان کو زندہ جلا یا جا رہا ہے ، ۔ کہا اس حقیقت سے انکا ر نہیں ، پھر کہا اب اس قا نون کے با رے بتا دیں جس کا ذکر آ خر میں ہو نا تھا ، جو اب ملا سو شل میڈ یا ایک تصو یر اپ ڈیٹ ہو ئی کہ ایک بز رگ شخص کو پو لیس کے ایک افسر کے ما رتے دیکھا گیا اور اس کے با رے پو ری بات یہ کہ یہ بزرگ شحص غیر مسلم ہیں اور رمضان میں افطا ری سے کچھ دیر پہلے کر اچی کے علا قے میں کھا نا کھا رہے تھے ، تو پو لیس کے جو ان نے ان کو ما رنا شروع کر دیا کیونکہ ملک میں قا نو ن بنا ہے کہ کو ئی غیر مسلم ہما رے رمضان کے ماہ میں احترام کے لیے کھانا پینا ہما رے سا منے نہیں کر ئے گا ، ایک با ت ، کیا ہمارے ایمان اتنا کمز ور کے روزے کی حالت میں ہم کسی کو کھا نا کھا تے دیکھ لیں تو ہم سے بر داشت نہیں ہو تا اور اس کے لیے قا نون بنا تے پھر تے ہیں ، کیا اوع اسلامی مما لک میں ایسے ہو تا ہے ، روز ہ جو درس دیتا اس کو تو پھر ایک طر ف رکھ دیا گیا ، اور تو اور ایک بز رگ پر ہا تھ اٹھا نا کیا یہ مہذب معا شر ے میں ہو نا چا ہیے ، کچھ اخلا قیا ت ہو تے ہیں کیا ہم اتنے بے حس ہو گے ، بلکے ہم میں انسا نیت ختم ہو تی جا رہی ہے ،آگے سے کہا گیا اب تم بولو تو خا کسار تنا ہی کہہ سکا کہ آ پ سرکا ری ملا زم اور پیشے کے لحا ظ سے ڈا کٹر تو آپ بہتر سے جا نتے کہ چھو ٹی چھو ٹی خرا بی پو رے معا شرے کو خرا ب کر تی ہے اور سرکاری مدا خلت ہو نی چا ہیے اور ایسے قا نون بنے ہے جس میں عا م شہری کو قانون اپنے ہا تھ میں لینے پر سزا دینی چا ہیے مگر بے حد افسو س کے ہما رے ہاں خرا بی کچھ زیا دہ ہی ہے ، اتنا ہ کہو ں گا کہ جو فلا ں فلاں کام اچھے ہو ئے اس خو ش فہمی کی عینک اتا ری جا ئے اور حقیقت کو تسلیم کیا جا ئے کہ انسا نیت کہاں تک پہنچ چکی ہے ، تبد یلی اتنی ہی آ ئی کہ پہلے لڑ کیوں کو زندہ دفن کیا جا تا تھا اب تھو ڑی بہتر ی آ ئی اور زندہ جلا یا جا تا ہے ، کچھ عر صے بعد کیا فرق آتا اس تبد یلی میں یہ ہما رے رویے ابھی سے شو کر رہے ہیں ۔
دیکھا جائے ، ارے خو د ہی دیکھ لو ، کتنے دور ما ضی سے شر وع کر و ملتا جو اب یہی ہے کہ وقت گزرہی جا تا ہے اور دنیا صرف اچھے کر داروں کو ہی یا د رکھتی ہے ، پھر خو ش فہمی ،انسا نیت پر تو پورا اتر یں ،کیا امیج بن رہا اس طرف تو غور کریں جو آپ کہتے کہ فلا ں فلا ں دور میں یہ اچھا ہوا تو سن لو یہ بھی
ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صدا قت ہے
ہما رے منہ میں تمہاری زبا ن تھوڑی ہے

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker