بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

ڈاکٹر طاہر القادری ۔۔۔پوائنٹ آف نو ری ٹرن

bashir ahmad mir logoچار دنوں کے وقفہ کے بعد قارئین کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں ،غیر حاضری کی وجہ کچھ صحافتی مصروفیات رہیں ۔ان دنوں کئی موضوع کا ذکر کرنا ضروری تھا جس کا کفارہ اس کالم میں سمیٹنے کی کو شش کروں گا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے’’ انقلاب سفر‘‘ یا لانگ مارچ کو اب چند دن باقی ہیں اور الطاف بھائی کے ڈرون حملے کا شاہد کالم چھپنے کے اندر ہی دھماکہ ہو جائے مگر ان دونوں بڑے واقعات کا ذکر کرنا اور ساتھ ساتھ دو اہم واقعات جن میں شاہ زیب اور کوہستان کے تین حقیقی بھائیوں کا قتل جن کا اسی کالم میں تذکرہ کرنابھی ضروری ہوگا ۔
ڈاکٹر طاہر القادری اب ’’پوائنٹ آف نو ری ٹرن پر پہنچ چکے ہیں ۔بلا شبہ انہوں نے 23دسمبر کو جس عزم ،پروگرام اور مستقبل کی حکمت عملی کا اظہار کیا تھا اس کے بعد کافی سیاسی سطح پر Developmentsسامنے آئیں ہیں ۔ایم کیو ایم اور ق لیگ کی حمایت ،ن لیگ کی بھر پور مخالفت ،طالبان کی دھمکیاں ،حکومت کی جانب سے مذاکراتی عمل کا آغاز سمیت ڈاکٹر صاحب کی چندہ مہم ،لانگ مارچ کی تیاریاں ،سبھی متعلقہ سرگرمیاں جاری ہیں اگر سچی بات کی جائے تو ڈاکٹر صاحب نے سیاسی فضاء میں حیران کن ہلچل مچا دی ہے۔ان کے لاکھوں مریدین ،پرستار اور عقیدت مندوں نے اپنے پیشواء کی لائن آف ڈائریکشن پر ہر طرح کی قربانی کے لئے کفن پوشی کر رکھی ہے ۔
میں نے ڈاکٹر صاحب کی آمد سے قبل ایک کالم میں جن خدشات و خطرات کا ذکر کیا تھا ان کا ہو بہو ظہور ہونا میرے لئے بھی حیران کن ہے ،کیونکہ میں کوئی دانشور تو نہیں البتہ تاریخ و سیاسیات کے علاوہ صحافت کا طالب علم ہوں۔
ڈاکٹر صاحب نے بروقت سیاست کے عمل میں قدم رکھا ہے مگر انہوں نے کچھ اہداف پر پیشگی صف بندی نہیں کر سکی جس کی وجہ سے انہیں اپنا سفر جاری رکھنے کے لئے کم از کم 5سال اور انتظار کرنا پڑے گا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تحریک منہاج القران کی ہیت ترکیبی پر نظر ڈالی جائے تو ابھی تک ان کے پاس قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لئے مضبوط اور ہر دل عزیز 150ایسے افراد کی ضرورت ہے جو پارلیمنٹ میں پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں جو کہیں بھی نہیں ہیں۔بلاشبہ ہر علاقے میں ان کے پرستار ضرور ہیں مگر ان کا انتخابات میں موثر کردار نظر نہیں آتا۔جب سیاسی میدان میں انہیں اتنا بڑے خلاء سے واسطہ ہے تو کسی انقلابی تبدیلی کی بات سمجھ سے بالا تر ہے ۔ابھی تو انہیں آئے ہوئے ابھی دو ہفتے ہوئے ہیں لیکن مخالفت کا جو سامنا انہیں درپیش ہے اس کا مقابلہ تنہا ڈاکٹر صاحب کے بس میں نہیں۔جہاں تک ایم کیو ایم کی بات ہے وہ جماعت 1984سے سیاست میں ہے اور پارلیمان میں اہم حیثیت رکھتی ہے۔ان کی حمایت سے معتدل سوچ کے طبقات ڈاکٹر صاحب سے نالاں ہونا بھی بڑا بریک ڈاؤن ہے،کیونکہ بوری بند لاشوں اور ریاستی دہشتگردی کے الزامات ایم کیو ایم پر کھلے عام لگائے جارہے ہیں ،راقم کے کراچی سے تعلق رکھنے والے درجنوں کے قریباً روزانہ رابطوں کے دوران ایسے واقعات سنے جا رہے ہیں جو بھتہ خوری ،لسانی تعصب اور اجارداری کے ساتھ ساتھ غنڈہ گردی کی سفاکانہ ،ظالمانہ اور انسانیت سوز داستان رکھتے ہیں ۔ان تمام واقعات کا تعلق،سبھی ایم کیو ایم کے متھے لگائے جا رہے ہیں ممکن ہے کہ یہ الزامات سو فیصد درست نہ سہی مگر سیانے کہتے ہیں ’’بد سے بد نام برا‘‘۔میری ایم کیو ایم کی کئی شخصیات سے شناسائی بھی ہے ان کے قول و کردار سے تو اس طرح کی داستانیں محسوس نہیں کر سکا تاہم ہر جماعت میں گندے انڈے اور اچھے کارکن ہوتے ہیں جو ان جماعتوں کے لئے شکست و فتح کا سبب بنتے ہیں ۔بہرحال طاہر القادری جس سطح کی شخصیت ہیں انہیں بڑی سوچ و فکر کے ساتھ آنے والے حالت کا مقابلہ کرنا ہو گا۔
بلاشبہ ملک میں معاشی ابتری موجود ہے ،بے روزگاری نے قدم قوم پر ہر شہری کی زندگی کو اجیرن بنا رکھا ہے،مہنگائی تو اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب ’’الہ دین ‘‘ کا چراغ ہی آئے تو بہتری آسکتی ہے ۔سچی بات تو یہ ہے کہ جوں جوں حالات آگے بڑھ رہے ہیں عوام کسی’’ مسیحا‘‘کی تلاش میں اپنا سر پکڑ کر منتظر نظر آ رہی ہے۔خطرہ تو یہ ہے کہیں بے تر تیبی سے کسی وقت خونی انقلاب برپا ہو گیا تو پھر سبھی زرداری،شریف برادران،چوہدری،گیلانی،جتوئی،کھوسے،رانے،ٹوانے،نواب ،کھر،خان،سردار ،اعلی سول اینڈ ملٹری بیوروکریٹس،سرمایہ دار ،جاگیردار ،قادری ،بگٹی،لغاری،مینگل ،رئیسانی،مگسی وغیرہ وغیرہ ایک ہی لائن میں مارے جائیں گے ،یہی وجہ ہے کہ یہ ہائر کلاس طاہر القادری کی جلد بازی میں ایک بار پھر بچ نکلیں گے۔
سو اس ساری صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے جناب طاہر القادری کو آگ میں چھلانگ نہیں مارنی چاہئے بلکہ اس مشن کو جاری رکھنے کے لئے مزید منصوبہ بندی کی جائے ،حیران کن بات تو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو مذہبی جماعتیں جو سیاست میں فعال ہیں ابھی تک قبول نہین کر رہی ہیں ۔ڈاکٹر صاحب نے جلدی میں شیر کے کچار میں ہاتھ ڈال دیا ۔بے شک کچھ لوگ ڈاکٹر صاحب کی آمد کو بر وقت قرار دیتے ہیں لیکن انہوں نے دس فی صد بھی تیاری نہ کر سکی جس کے ردعمل میں آج انہیں دباؤ کا سامنا ہے۔ڈاکٹر صاحب کے علمی اور فلاحی دائرہ کار سے ہر گز اختلاف نہیں لیکن جناب صرف اجتماعات ،جلسے،دھرنے اور ملین مارچ سے نظام بدلتا تو جماعت اسلامی کا آج راج ہوتا مگر ایسا کیونکہ نہ ہو سکا اس پر سٹڈی کی ضرورت ہے۔یہ نام نہاد مذہبی’’ بان متی‘‘ کا کنبہ کبھی بھی پاور میں نہیں آسکتا کیونکہ ان کے قول و فعل میں کھلا تضاد ہے ۔مختصر یہ ہے کہ یہ لانگ مارچ بے وقت کی راگنی ہے اور یہ پانی کے بلبلہ سے زیادہ طاقتور بھی نہیں ،ہاں جہاں تک افراتفری ،توڑ پھوڑ اور ملک کا نظام کار تہ و بالا کرنے کی بات ہے تو اس کے واضح امکان ہیں ،اگر ڈاکٹر طاہر القادری کے پاس اچھی ٹیم ہوتی جو نظام مملکت کو احسن انداز سے چلا سکتی تو پھر مثبت تبدیلی کا دعویٰ سمجھ میں آ سکتا تھا۔یہ حقیقت ہے کہ جو بات ڈاکٹر صاحب کر رہے ہیں وہ عوام کی آواز ہے مگر اس نظریہ اور تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کیا جانا مشکل ہے۔سچی بات تو یہ ہے ۔۔۔ً
میرے شہر کیوں جل رہے ہیں مجھے بتا حاکم وقت
لوگ کہتے ہیں ،یہاں تو اغیار کی حکمرانی ہے
پھر یہ بھی سنیئے کہ ووٹ لینے اور دینے والے بھی ایک ہی خصلت سے ہیں جن کے بارے میں شاعر نے کہا کہ
محبت دیکھ لی میں نے زمانے بھر کے لوگوں کی
جہاں کچھ دام زیادہ ہوں وہاں انسان بکتے ہیں
بہرحال اگر ڈاکٹر صاحب حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلے ہیں انہیں کسی سہارے کو چھوڑ کر اللہ کی مدد سے آگے بڑھنا پڑے گا ۔آج نہیں تو کل ان کی منزل خود انہیں سلام پیش کرے گی۔شرط یہ ہے کہ وہ ملک کے اندر رہ کر سیاسی معاشی اور سماجی منصوبہ بندی اور فہم فراست کا مظاہرہ کر کے اپنی موثر تنظیم سازی ،مسلسل مہم کو جاری رکھیں ۔
آخر پر چیف جسٹس آف پاکستان کو مبارک پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے شاہ زیب قتل کا از خود نوٹس لیکر انصاف فراہم کرنے کی تاریخی روایت کو چار چاند لگائے ،ان سطور میں انہیں کوہستان کے ان مقتولوں کے بارے بھی سخت ایکشن لنیے کی استدعا ہے جو سماجی جبر اور انتظامیہ کی نا عاقبت اندیشی کے سبب اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں ۔اس بارے پوری معلومات آنے کے بعد قارئین کو تفصیل سے آگاہی کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں  لاہور : سی این جی او رصنعتوں کے لئے گیس فراہمی شیڈول پھر تبدیل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker