بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

سیاست نہیں ریاست بچاؤ۔۔؟؟؟

bashir ahmad mirگذشتہ روز 5سال کی خود ساختہ جلاوطنی کے بعدکینیڈا سے ڈاکٹر طاہر القادری وطن واپس لوٹ آئے ہیں ۔عام طور پر یہ کہا جاتا رہا کہ انہیں لاہور ائیر پورٹ سے 23دسمبر کو ایسے استقبال کیا جائے گا جیسے 1986ء میں شہید بے نظیر بھٹو کا تاریخی استقبال کیا گیا تھا مگر ڈاکٹر صاحب انتہائی پر اسرار طور پر جمعرات کے شب لاہور ائیر پورٹ سے سیدھے اپنے گھر بھاری سیکیورٹی کی معیت میں پہنچ گے۔بہرحال ان کا کل
23دسمبر 2012ء لاہور مینارِ پاکستان میں تاریخ کے بڑے اجتماعات میں سے ایک تاریخی جلسہ عام ہو رہا ہے جس کے مہمان خصوصی تحریک منہاج القران کے بانی و رہنما شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری ہونگے۔ ان کا مختصر تعارف پیش نظر ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری 21فروری 1951ء ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے اعلیٰ درجہ میں کیا اور علمی لحاظ سے ہر سطح تک تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ان کی قائم کردہ تنظیم تحریک منہاج القران کا نظم ملک بھر میں موجود و متحرک ہے جبکہ دنیا کے ایک سو سے زائد ممالک میں ان کا تنظیمی نیٹ ورک کام کر رہا ہے ۔ان کی تصانیف قریباً ایک ہزار کتب تک ہیں جو علم الحدیث،علم التفسیر،علم الفقہ،علم التصوف و معرفت سمیت دیگر تحقیقی علوم پر مشتمل ہیں۔ان کے خطابات کی تعداد 5ہزار سے زائد ہے۔ان کے مختصر تعارف اور آمد کے پس و پیش منظر سے قارئین کی نذرچند سطور پیش خدمت ہیں۔
اختلاف و اتفاق سے قطع نظر ان کی آمد جن حالات میں ہو رہی ہے اس کا وقت ان کی تحریکی سرگرمیوں کا نچوڑ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘ کے ون پوائنٹ ایجنڈا پر وطن واپس آ رہے ہیں۔ان کے اس نظریہ سے متفق ہونا اور اس کے مخالف ہونے کے بے شمار دلائل دئیے جارہے ہیں۔البتہ جس عزم کو لیکر وہ تشریف لا رہے ہیں یہ ہماری سیاست میں اہم حیثیت و اہمیت کے حامل کہنا غلط نہ ہو گا۔بلاشبہ ان کا نعرہ عوام کی بھلائی سے متعلق ہے مگر کیا انہیں ملک میں پذیرائی مل سکتی ہے اس پر بھی کئی خدشات موجود ہیں ۔ایک اندازے کے مطابق ان کے استقبال کے لئے ملک بھر سے لاکھوں شہری مینار پاکستان جانے کے لئے بڑے منظم انداز سے سرگرم ہیں ۔پاکستان کی سیاست میں ان کی عملی جد وجہد کیا رنگ لا تی ہے اس کا انحصار ان کے پہلے خطاب سے عیاں ہو گا۔بہرحال ان کی مذہبی،سیاسی، معاشی ،فلاحی خدمات کے پس منظر میں توقع کی جارہی ہے کہ وہ کسی مثبت تبدیلی کی جانب مثالی کردار ادا کر سکیں گے۔پاکستان اس وقت جن گھمبیر مسائل کا شکار ہے اس لحاظ سے ان کا آنا دورس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔کمر توڑ مہنگائی،قدم قدم پر بے روزگاری نے ہمارے سماج کو بری طرح جھکڑا ہوا ہے،توانائی کا بحران معیشت کو کھو کھلا کر رہا ہے،دہشتگردی نے گھر گھر آگ و خون جیسی صورت حال سے دوچار کر رکھا ہے ،قومی ادارے زوال کا شکار ہیں،جرائم روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں ،افرادی قوت نچلی سطح کو چھو رہی ہے
الغرض مسائل کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ان حالات میں ان کی آمد اور ان کی فکری مہم ’’سیاست نہیں ریاست بچاؤ‘‘معنی خیز ہے۔ایک طبقہ یہ کہہ رہا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کسی درپردہ ایجنڈے کے تحت عام انتخابات سے قبل تشریف لائے ہیں۔کچھ کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے آمریت پسندانہ رجحانات رکھنے والے رجعت پسندوں کی سازش کار فرما ہے جو جمہوریت کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں تاہم جو بھی آمدہ صورت حال رونما ہو یہ حقیقت ہے کہ اگر سیاست نہیں تو پھر آمریت ہی کا کوئی نیا ڈرامہ عوام سے کھیلا جا رہا ہو گا۔عوام کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر ایسا ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے کہ کشیدہ صورت حال سامنے لا کر عام انتخابات پہلے مرحلے پر ملتوی کرنے کا جواز مہیا کیا جائے پھر جمہوریت کی بساط احتساب کے نام پر لپیٹ کر مشرف طرز کے ایجنڈے کو پیش کر کے حکمرانی کی خواہش رکھنے والوں کی ہوس پوری کر دی جائے گی۔یہ ایک خطر ناک کھیل کا سکرپٹ ہے ۔کیا ایسا ممکن ہو سکے گا ؟ کیوں کہ جب سیاست نہیں ہو گی تو عوام کی حکمرانی کیسے ممکن ہو گی۔جمہوریت واحد ایسا راستہ ہے جس کی بنیاد پر بہتر احتساب اور عوام کی آواز میں طاقت پیدا ہو تی ہے ۔اگر چہ موجودہ جمہوری نظام کے تحت عوام کے خواہشات اور توقعات پوری نہیں ہوئیں ۔مگر شعوری طور پر عوام جمہوری فکر سے ہم آہنگ ہو چکی ہے۔جمہوریت ہی کی وجہ سے آج عدل و انصاف کی جانب موثر پیش رفت ہو رہی ہے ،قانون و انصاف کا موجودہ کردار جمہوری نظام کی برکات سے ممکن ہوا۔اسی طرح میڈیا کی آذادی بھی جمہوری فکر کی عکاس ہے۔جہاں تک مسائل کا تعلق ہے یہ جمہوریت کے پیدا کردہ نہیں بلکہ ماضی کے طویل آمرانہ ادوار کا پیش خیمہ ہیں۔مہنگائی، بے روزگاری،کرپشن،بجلی گیس کا بحران ،عوامی مفادات کے حامل سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی سب ہی ماضی کے طویل آمرانہ تسلسل کے نتیجے میں آج عوام بھگت رہے ہیں۔گذشتہ روز یہ انکشاف ہوا کہ قومی آئیر لائن پی آئی اے میں مشرف دور سے اب تک 100ارب روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔دراصل ہمارے نظام مملکت میں ایسے موذی جراثیم پائے جاتے ہیں جو ہر دور کے حکمرانوں کی آنکھو ں کے تارے اور ماتھے کا جھومر بن کر خوب لوٹ مار کر تے جا رہے ہیں مگر ان جن نما گروہ پر کسی نے ہاتھ نہیں ڈالا،جب بھی الزام لگا تو حکمران ہی خوار ہوئے۔سوال یہ ہے کہ عوام کے حقوق کے اصل غاصب کون ہیں ؟ یہ تو واضح ہے کہ ہمارے بیوروکریٹس نے آمریت کے سائے میں خوب مزے اڑائے اور اب بھی درپردہ انہی کا راج ہے ۔کیا ان سے چھٹکارہ دلانے میں ڈاکٹر طاہر القادری کے پاس کوئی ایجنڈا ہے؟ اس بارے تو 23دسمبر ہی معلوم ہو جائے گا کہ موصوف عوام کی آواز لیکر آئے ہیں یا پھر ماضی کی طرح آمریت پسندوں کی سازش کا حصہ بن کر عوام کے جذبات سے کھیلنے کا راستہ اپنا رہے ہیں ۔آج یہیں تک قارئین کو کل تک باخبر کر رہے ہیں آگے دیکھتے جائیں کہ کیا کچھ ہونے جا رہا ہے ۔۔۔؟؟؟

یہ بھی پڑھیں  اسٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker