تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

ڈرون حملوں کے خلاف اِحتجاج مگر سیاسی مصلحتیں؟

zafar ali shah logoڈرون حملوں کے خلاف احتجاج اورنیٹوسپلائی لائن بند کرانے کے لئے تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کے دھرنے سے کوئی اختلاف نہیں۔۔تحریک انصاف ہو یا کوئی اور سیاسی جماعت یا انفرادی حیثیت میں اہم قومی معاملات،ناانصافی اور کسی بھی بیرونی جارحیت کے خلاف احتجاج کرنے کا حق سب کوحاصل ہے۔ لیکن ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج اور نیٹوسپلائی لائن روکنے کے لئے دھرنا دینے کے معاملے میں کیا تحریک انصاف اور خیبر پختونخواکی حکومت کے راستے واقعی الگ ہیں یا سیاسی مصلحت کے تحت صوبائی حکومت کو ایسی جذباتی سرگرمیوں سے دور رکھا جارہاہے ۔یہ ایک اہم سوال ہے جو قومی میڈیااورملک کے طول و عرض میں سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے اٹھایاجارہاہے۔۔اور یہ بھی کہ کیا واقعی ڈرون حملوں کے خلاف نیٹوسپلائی لائن کی بندش کے لئے دھرنا دینے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان تضادات کے شکار ہیں کہ ایک طرف ڈرون حملوں کے خلاف احتجاج اور نیٹو سپلائی لائن کی بندش کا نہ صرف مطالبہ کررہے ہیں بلکہ دھرنا بھی دیتے دکھائی دے رہے ہیں اور دوسری جانب امریکہ سے کروڑوں روپے کے فنڈزبھی لے رہیں جیسا کہ وفاقی وزیراطلاعات سینیٹرپرویزرشید نے الزام عائد کیا ہے ۔کیا یہ سمجھا جائے کہ تحریک انصاف روکو،مت جانے دواور روکومت،جانے دوکے بیچ پھنس کر رہ گئی ہے جس کی نشاندہی قومی میڈیا بھی کررہاہے کیونکہ سوال یہ بھی اہم ہے کہ اگر تحریک انصاف نیٹوسپلائی لائن کی بندش کی خواہاں ہے تو نیٹوسپلائی لائن خیبرپختونخوا سے گزرتی ہے جہاں ان کی حکومت ہے اور یہ معاملہ سو فیصد صوبائی حکومت کے اختیار میں ہے پھر کیا وجہ ہے کہ صوبائی حکومت کے ذریعے یہ کام انجام نہیں دیا جاتا جبکہ عمران خان کا یہ بھی کہنا ہے اس معاملے میں ان کی حکومت چلی جاتی ہے تو چلی جائیں۔یہاں میڈیاکی فراہم کردہ یہ معلومات بھی دلچسپی کے حامل ہیں کہ ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجی دھرنا عمران خان پہلی بار نہیں تیسری بار دے رہے ہیں لیکن کیا ہی عجیب اتفاق ہے کہ اس سے قبل والے احتجاجی دھرنے بھی ہفتہ اور اتوار کے دن دیئے گئے تھے اور اس دفعہ بھی دھرنا دیا توہفتے اور اتوار کے دن ۔۔اگرچہ ہفتہ اور اتوار کے دن دھرنا دینے کو ایک جانب اتفاق قرار دیا جارہاہے لیکن دوسری جانب یہ بھی کہا جارہا ہے کہ ہفتہ اور اتوارکے دن پاک افغان بارڈرطورخم سے نیٹوسپلائی لائن نہیں گزراکرتی جس سے احتجاج اور دھرنے کوتقویت بھی ملتی ہے اور کاروبارزندگی بھی بڑی حد تک متاثر نہیں ہوتی۔یہاں اس بات کی منطق سمجھ میں آنے سے باہر ہے کہ صوبائی حکومت اس احتجاج سے باہر کیوں ہے جبکہ پی ٹی آئی سمیت وہ تمام سیاسی جماعتیں اس احتجاج کا حصہ ہے جن کے اتحاد سے خیبر پختونخوامیں تشکیل پائی مخلوط حکومت قائم اور اس کا رفتار سفر جاری ہے ۔۔میرا خیال ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت بھی احتجاج میں شامل ہونی چاہیے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا یہ کہنا بھی حیران کن ہے کیا عمران خان حکومتی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے صوبائی حکومت سے مطالبہ کریں گے یا ہدایات دیں گے یاپھر یہ تاثر دیاجارہاہے کہ صوبائی حکومت اپنے فیصلوں میں خودمختار ہے اور صوبے کے انتظامی معاملات میں عمران خان اور پی ٹی آئی کی قیادت اثرانداز ہے نہ ہی دخل اندازی کررہی ہے ۔لیکن اگر ایسا مان بھی لیں تو قومی وطن پارٹی کے وزراء کی برطرفی کے لئے عمران خان کی جانب سے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو دیئے جانے والی ہدایات ،ہدایات کہلائیں گی یا مطالبہ ،کیاصوبائی حکومت کو احتجاج سے دور رکھنے میں واقعی راز یہ پنہاں ہے کہ حکومت بھی ہو اور عوام کے جذباتی رگ پر ہاتھ رکھ کر احتجاج بھی، حکومتی اختیار بھی ہو، ڈالرز میں بیرونی میں مالی مدد بھی ہو اور ساتھ ساتھ نیٹوسپلائی لائن روکنے کی صدائیں بھی گونجتی رہیں تاکہ اس معاملے میں عوام کی ہمدردیاں بھی حاصل ہوں۔ اور وفاقی حکومت کے لئے مشکلات بھی،یا جیسا کہ پشتو میں کہا جاتا ہے کہ (مڑ دی بل وے اؤ شہید دی زہ وے)یعنی مرے وہ اور شہید بنوں میں ۔۔ کیا عمران خان اور ان کی جماعت کی سوچ یہ ہے کہ کریڈٹ وہ لیں اور ذمہ داری ڈالیں وفاقی حکومت پر۔۔ایسے میں کیا متحدہ قومی موومنٹ کا یہ مؤقف غورطلب نہیں کہ ڈروں حملوں کے خلاف احتجاج کی آڑمیں سیاست چمکائی جارہیں۔کیا ایم کیوایم کے رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار کا یہ کہنا درست تسلیم کیاجائے کہ احتجاج اور دھرنوں کی صورت میں عوامی جذبات کا مذاق اڑایاجارہاہے ۔جبکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت ڈرون حملے بند نہیں کرسکتی جبکہ تحریک انصاف امریکہ سے ڈالرز بھی لیتی ہے اور ڈرون حملوں کی بندش کا مطالبہ کرتے ہوئے نیٹوسپلائی لائن روکنے کے لئے دھرنا بھی دے رہی ہے جو کہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے ۔۔بہرحال اپنے اتحادی جماعتوں جماعت اسلامی اور عوامی جمہوری اتحاد کے ساتھ چیئرمین عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے ڈرون حملوں کے خلاف اور نیٹوسپلائی لائن روکنے کی غرض سے 23نومبرکو رنگ روڈ پشاور پر احتجاجی دھرنا دیا جس کا اعلان کچھ دن قبل کیا گیا تھا۔ دھرنے میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی شرکت کی اور جن شخصیات نے اس موقع پر خطاب کیا ان میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان،مخدوم شاہ محمودقریشی ،مخدوم جاوید ہاشمی اور جماعت اسلامی کے مرکزی سیک
رٹری جنرل لیاقت بلوچ قابل ذکر تھے عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے لیڈربننے کا۔۔ میاں صاحب قومی وقار کے لئے قدم بڑھاؤ اور اقدامات اٹھاؤپوری قوم آپ کے ساتھ ہے اور ڈالروں کے بدلے اپنے فیصلے تبدیل نہ کریں۔انہوں نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمان کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف شہید نہیں غازی بننے جارہی ہے۔قطع نظر اس کہ کے کون کس کو مخاطب کررہا ہے اور سیاسی مقاصد کس حد تک حاصل کئے جارہے ہیں تاہم معاملہ ہو نیٹو سپلائی لائن کااور ڈرون حملوں کا تویہ ایک دو دن کی بات نہیں یہ تو سالوں سے چلنے والا معاملہ ہے ڈرون حملوں میں اب تک سینکڑوں معصوم اور بے گناہ شہری لقمہ ء اجل بنے ہیں یہ سراسر ظلم ہے جس کی مذمت نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی کی جارہی ہے۔ہماری قوم اس بات پر متفق ہے کہ ڈرون حملے بند ہوں جو کہ معصوم شہریوں کی ہلاکت کاباعث بننے سمیت ملکی خودمختاری کے خلاف کھلی جارحیت بھی ہے اوراس نکتہ پر احتجاج کرنااور نیٹوسپلائی لائن روکنے کے لئے دھرنا دیناسب کی خواہش ہے لیکن اگر احتجاج ہو تو بھرپور طریقے سے ہو (دغوخے نہ پہ خلااؤد شوروانہ مرور)یعنی گوشت سے دوستی اور گوشت کے شوربے سے ناراضگی والا معاملہ نہ ہو کہ احتجاج بھی ہو اورسیاسی مصلحتیں بھی۔۔۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button