تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

ڈرون حملے نہیں رکیں گے۔ پاکستانی عوام جان لیں!

شمالی وزیرستان اور اس سے ملحقہ علاقوں میںآئے روز ہونے والے ڈرون حملوں نے تشویشناک صورتحال کو جنم دیا ہے۔ گزشتہ روز وزیرستان میں 3ڈرون حملوں میں 22افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ امریکی ڈرون طیاروں نے درے نشتر میں وسیع رہائشی عمارت پر دس میزائل داغے جس سے عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی ۔دوسرا حملہ درندہ درے میں ایک مکان پر کیا گیا جہاں دو میزائل فائر کیے گئے تیسرا حملہ منکی غر میں ایک مکان پر کیا گیا۔ جان بحق ہونے والوں کا تعلق حافظ گل بہادر گروپ سے بتایا گیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ جاسوس طیاروں کی نیچی پروازوں سے علاقے میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے ۔ حیران کن امر یہ ہے کہ یہ حملہ پاکستان کے ڈرون حملے کے خلاف ہونے والے احتجاج کے اگلے روز کیا گیا ہے۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ ڈرون حملوں کے لیے پاکستان کو کسی نوع کی معلومات فراہم نہیں کرتا اور یہ سی آئی اے کی رپورٹس پر عمل میں لائے جاتے ہیں ۔امریکی ڈرون طیاروں نے ہماری عید کو بھی لہو لہان کر کے چھوڑا ہے۔ میڈیائی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی صدر اور اس کے عسکری مشیر ڈرون حملوں کو دہشت گردی کے خلاف موثر ہتھیار تصور کرنے لگے ہیں اس لیے یہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ یمن ، صومالیہ اور دیگر علاقوں میں جہاں دہشت گردی کا شائبہ ہو کیے جارہے ہیں۔
امریکی آئین میں ڈرون حملوں کی اجازت کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ یہ انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ انسانیت کا قتل کسی مذہب میں قابل قبول نہیں ہے۔ امریکی عوام بھی اس بارے میں تذبذب کا شکار ہیں ۔کانگریس کے بعض اراکین نے بھی اس کے خلاف کھل کر نہ صرف آواز اٹھائی ہے بلکہ مذمت بھی کی ہے۔امریکی ڈرون حملوں کے حق میں ابھی تک کسی انسانی حقوق کی تنظیم نے کوئی بیان نہیں دیا بلکہ اس کے خلاف بعض جگہوں پر منظم مظاہرے بھی کئے ہیں ۔لیکن امریکی صدر اوباما کے کان پر جوں تک نہیںرینگتی وہ اور اس کے حواری ڈرون طیاروں کو موثر ہتھیار سمجھ کر استعمال میں لارہے ہیں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو محفوظ بنانے کے لیے اس عمل کو وہ کبھی ترک نہیں کریں گے ۔ آخری دہشت گرد تک وہ اس ہتھیار کا استعمال جاری رکھیں گے ۔ یہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ ڈرون حملے میں کتنے دہشت گرد مارے جاتے ہیں بلکہ میڈیا کی رپورٹس یہ کہتی ہیں کہ ایک آدھ دہشت گرد کے ساتھ بیسوں معصوم بچے ،عورتیں اور بوڑھے بھی شہید ہو جاتے ہیں۔ان بے چاروں کا قصور یہ ہے کہ وہ پاکستان کے شہری ہیں، مسلمان ہیں اور ان حساس علاقوں میں رہائش پزیر ہیں ،جہاں امریکی لغت میں دہشت گردوں کا علاقہ ہے۔
پاکستانی عوام یہ جان لیں کہ ڈرون حملوں سے ان کی اس وقت تک جان نہیں چھوٹے گی جب تک امریکہ کو یقین نہیں ہو جاتا کہ اب یہ دہشت گردوں کی سرزمین نہیں رہی اور امریکہ محفوظ ہو گیا ہے۔
بلاشبہ امریکہ نہ اس سے پہلے محفوظ تھا اور نہ اب رہے گا بلکہ وہ جو کچھ کئے جا رہا ہے اس سے مزید معاملہ بگڑتا جائے گااور دہشت گردی کے سمندر کا کنارہ دنیا کا کوئی سائنسدان اور عسکری محقق تلاش نہ کر پائے گا ۔ اس سے دہشت گردی کی فصل ہی جنم لے گی میں نہیں سمجھتا کہ امریکی پالیسی ساز امریکہ کو محفوظ بنانے کی عملی جدوجہد میں کامیاب و کامران لوٹیں گے ۔ امریکی پالیسی ساز اداروں کی تجاویز و آرائ کے ایما پر آج تک امریکہ نے دوست کم اور دشمن زیادہ پیدا کئے ہیں ۔
سو ویت یونین کو شکست و ریخت سے دوچار کرنے کے بعد اب اس کی نظریں چین پر ہیں اور اس کے خلاف سرد جنگ میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔اور اس راز کو چینی عسکری ماہرین محسوس کرتے چلے جارہے ہیں ۔ بعض عسکری محققین نے چینی حکمرانوں کو دنیا میں امریکی طرز پر فوجی اڈوں کے قیام کا مشورہ بھی دیا ہے اور ایسے ممالک کو جدید اسلحہ سے لیس کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے جس سے بھارتی سرحدوں کو خطرہ ہے ۔سری لنکا نیپال،بھوٹان،بنگلہ دیش اور پاکستان کو اس قدر طاقتور بنا دیا جائے کہ بھارتی فوج چین کی طرف توجہ کم سے کم ہوتی چلی جائے۔ چینی پالیسی ساز اداروں میں تجاویز و آرائ پر شدت سے سوچ بچار جاری ہے۔ یہ سچی حقیقت ہے کہ زیادہ تر امریکی چین کو مستقبل کا عسکری اور اقتصادی دشمن قرار دیتے ہیں اور اس بارے میں سخت موقف اپنانے پر زور دیتے ہیں۔ افغانستان سے 2014میں ہونے والے امریکی فوج کے انخلائ کو چینی عسکری ماہرین عسکری خوردبین سے دیکھ رہے ہیں۔ انہیں یہ حقیقت معلوم ہے کہ امریکہ افغانستان سے کبھی نہیں نکلے گا۔ بلکہ وہ طالبان کو اپنا ہر لحاظ سے ہمنوا بنانے کی حتی المقدور سعی و کوشش کرے گا۔اس مقصد کے لیے وہ پاکستان سے زیادہ بھارت کو اپنا با اعتماد ساتھی بنانے کی کوشش میں لگا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان بھارت سے نفرت کرنا چھوڑ دیں اور علاقہ کی ترقی و خوشحالی کے لیے اس کے تعاون کو قطعی قابل باعمل بنائیں جبکہ طالبان بھارت کی نسبت پاکستان پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں اس کی وجہ طالبان کا اسلامی کردار و عمل ہے اور تاریخی بھائی چارہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں  انتخابات میں عدالتی عملہ الیکشن کمیشن کےساتھ ہوگا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker