تازہ ترینعلاقائی

وانا: ڈرون حملے میں 3افراد جاں بحق

وانا (نمائندہ خصوصی) وانا میں امریکی ڈرون نے ایک گھر پردو میزائل داغے جس کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہو گئے مقامی ذرائع کا دعوی ہے کہ یمن سے تعلق رکھنے والے عبدالرحمان بھی اس حملے میں مارے گئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق ڈرون حملہ وانا بازار سے بارہ کلو میٹر دور تحصیل ورمل کے علاقے شین ورسک میں کیا گیا ۔اس حملے میں جاسوس طیارے نے دو میزائل داغے اور ایک مکان اور اس کے باہر موجود ایک غیر ملکی کو نشانہ بنایا گیا۔ مقامی ذرائع کا دعوی ہے کہ اس غیر ملکی کا تعلق یمن سے تھااور اس کا نام عبدالرحمان تھا، غیر ملکی میڈیا کا دعوی ہے کہ عبدالرحمان کا تعلق القاعدہ سے تھا۔

یہ بھی پڑھیں  انجمن طلباء اسلام حجرہ شاہ مقیم کا ایک اجلاس زیر صدارت رانا وحید ایڈووکیٹ منعقد ہوا

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. شمالی وزیر ستان میں
    القائدہ اور طالبان کے تمام گروپوں اور

    غیر ملکی جہادیوں
    کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔ القائدہ کے دہشت گردوں اور غیر ملکی دہشت
    گردوںکا مارا جانا
    اس چیز کا ثبوت ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردوں کے خلاف ہو رہے ہیں

    اور پاکستان کے مفاد
    میں ہیں۔ وزیرستان ،خصوصا شمالی وزیرستان ،القاعدہ اور طالبان

    اور غیر ملکی جہادیوں
    کا گڑھ اور دہشت گردی کا مرکز سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا بھر

    کے دہشت گرد یہاں
    موجود ہیں۔ اسامہ بن لادن و الظواہری کے ساتھی غیرملکی دہشت گرد

    شمالی وزیرستان پر
    قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور انہوں نے پاکستان کی خود مختاری اور

    سالمیت کو خطرے میں
    ڈال دیا ہے۔القاعدہ اور طالبان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ

    گاہیں پاکستان کے
    لیے بڑا مسئلہ ہے۔ القائدہ اور طالبان کے وجود میں آنے پہلے

    پاکستان میں تشدد
    اور دہشتگردی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ ڈرون حملوں کے متعلق سابق

    صدر پرویز مشرف کا
    کہناہے کہ ڈرون حملے وہاں کئے جاتے ہیں جہاں عسکریت پسند ہوتے

    ہیں اور ان حملوں
    میں بہت دیکھ بھال کر نشانہ لگایا جاتا ہے۔ بڑھتی ہوئی عسکریت

    پسندی اور تشدد آمیز
    مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا

    ہے ۔ یہ وہی عسکریت
    پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھاہے

    ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ
    آوروں کے خلاف لڑیں یا

    پھر ان کے آگے ہتھیار
    ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔

    صلح جوئی کی پالیسی
    نے ملک کو پہلے ہی بھاری نقصان پہنچایا ہے جس کی قیمت ہم

    انسانی جانوں کی زیاں
    نیز معاشرے اور معیشت پر اس کے برےاثرات کی شکل میں ادا کر

    چکے ہیں . دہشت گرد
    عناصر شہر وں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے ملک میں انتشار

    پیدا کررہے ہیں۔ دہشت
    گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا

    چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت
    گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ اسلام

    امن،سلامتی،احترام
    انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا

    میں اسلام کاامیج
    خراب ہورہا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا بیرسٹر مسعود کوثرکہا ہے کہ

    قبائلی علاقوں میں
    حکومت کی رٹ کبھی نہیں رہی اور شمالی وزیرستان اغواکاروں کا گڑھ

    ہے۔ ڈرون حملے صرف
    اور صرف دہشت گردوں کے خلاف کئیے جاتے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ

    دوسرے ممالک کے لئے
    بھی ایک خطرہ ہیں۔۔ درحقیقت ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو کسی

    قسم کا خطرہ لاحق
    نہ ہے اور اگر کسی کو ڈرونز سےخطرہ ہے، تو وہ یا تو دہشت گرد و

    شدت پسند ہیں یا ان
    کے حامی ۔ ڈرونز کی افادیت دشوار گزار اور مشکل ترین علاقوں

    مین دہشت گردوں کی
    خفیہ پناہ گاہوں کو تباہ کرنے اور دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے

    ضمن مین مسلمہ ہے
    اور ڈرونز کا نشانہ بلا کا ہے۔ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک

    ہونے والے شدت پسند ہوتےہیں

  2. شمالی وزیر ستان میں
    القائدہ اور طالبان کے تمام گروپوں اور

    غیر ملکی جہادیوں
    کے محفوظ ٹھکانے ہیں۔ القائدہ کے دہشت گردوں اور غیر ملکی دہشت
    گردوںکا مارا جانا
    اس چیز کا ثبوت ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردوں کے خلاف ہو رہے ہیں

    اور پاکستان کے مفاد
    میں ہیں۔ وزیرستان ،خصوصا شمالی وزیرستان ،القاعدہ اور طالبان

    اور غیر ملکی جہادیوں
    کا گڑھ اور دہشت گردی کا مرکز سمجھا جاتا ہے کیونکہ دنیا بھر

    کے دہشت گرد یہاں
    موجود ہیں۔ اسامہ بن لادن و الظواہری کے ساتھی غیرملکی دہشت گرد

    شمالی وزیرستان پر
    قبضہ کئے بیٹھے ہیں اور انہوں نے پاکستان کی خود مختاری اور

    سالمیت کو خطرے میں
    ڈال دیا ہے۔القاعدہ اور طالبان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ

    گاہیں پاکستان کے
    لیے بڑا مسئلہ ہے۔ القائدہ اور طالبان کے وجود میں آنے پہلے

    پاکستان میں تشدد
    اور دہشتگردی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ ڈرون حملوں کے متعلق سابق

    صدر پرویز مشرف کا
    کہناہے کہ ڈرون حملے وہاں کئے جاتے ہیں جہاں عسکریت پسند ہوتے

    ہیں اور ان حملوں
    میں بہت دیکھ بھال کر نشانہ لگایا جاتا ہے۔ بڑھتی ہوئی عسکریت

    پسندی اور تشدد آمیز
    مذہبی انتہا پسندی نے اس ملک کے وجود کو ہی خطرے میں ڈال دیا

    ہے ۔ یہ وہی عسکریت
    پسند ہیں جنہوں نے ریاست اور اس کے عوام کے خلاف اعلان جنگ کر رکھاہے

    ۔اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے کہ یا تو ہم ان مسلح حملہ
    آوروں کے خلاف لڑیں یا

    پھر ان کے آگے ہتھیار
    ڈال دیں جو پاکستان کو دوبارہ عہدِ تاریک میں لے جانا چاہتے ہیں۔

    صلح جوئی کی پالیسی
    نے ملک کو پہلے ہی بھاری نقصان پہنچایا ہے جس کی قیمت ہم

    انسانی جانوں کی زیاں
    نیز معاشرے اور معیشت پر اس کے برےاثرات کی شکل میں ادا کر

    چکے ہیں . دہشت گرد
    عناصر شہر وں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے ملک میں انتشار

    پیدا کررہے ہیں۔ دہشت
    گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا

    چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت
    گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ اسلام

    امن،سلامتی،احترام
    انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا

    میں اسلام کاامیج
    خراب ہورہا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا بیرسٹر مسعود کوثرکہا ہے کہ

    قبائلی علاقوں میں
    حکومت کی رٹ کبھی نہیں رہی اور شمالی وزیرستان اغواکاروں کا گڑھ

    ہے۔ ڈرون حملے صرف
    اور صرف دہشت گردوں کے خلاف کئیے جاتے ہیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ

    دوسرے ممالک کے لئے
    بھی ایک خطرہ ہیں۔۔ درحقیقت ڈرون حملوں سے عام شہریوں کو کسی

    قسم کا خطرہ لاحق
    نہ ہے اور اگر کسی کو ڈرونز سےخطرہ ہے، تو وہ یا تو دہشت گرد و

    شدت پسند ہیں یا ان
    کے حامی ۔ ڈرونز کی افادیت دشوار گزار اور مشکل ترین علاقوں

    مین دہشت گردوں کی
    خفیہ پناہ گاہوں کو تباہ کرنے اور دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کے

    ضمن مین مسلمہ ہے
    اور ڈرونز کا نشانہ بلا کا ہے۔ ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک

    ہونے والے شدت پسند ہوتےہیں

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker