تازہ ترینرپورٹس

پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 90 لاکھ تک پہنچ گئی

drugsلاہور(نمائندہ خصوصی) پاکستان میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد 90 لاکھ تک پہنچ گئی ہے‘ کراچی کے بعد لاہور دوسرے نمبر پر رہا‘ انسداد منشیات مہم کے کنسلٹنٹ سید ذوالفقار حسیننے سالانہ رپورٹ 2012ء پیش کرتے ہوئے بتائی۔ 1980ء میں ملک میں نشہ کرنے والے افراد کی تعداد50 ہزار تھی ‘ سانحہ شاہدرہ اموات کے حوالے سے لاہور میں بڑا واقع تھا‘ ابھی اس کی صدائیں ختم نہیں ہوئیں تھیں کہ گوجرانوالہ کا واقع رونما ہوا‘ جس میں نشہ کرنے والے افراد بھی سیرپ کے استعمال سے لاہور سے زیادہ تعداد میں ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ شاہدرہ کے بعد ہم نے مختلف مواقع پر آگاہ کیا تھا ‘ انہوں نے کہاکہ منشیات کے عادی افراد جو سال ہاسال سے نشہ کی لت کا شکار ہیں‘ اس کو ہم کورنک نشہ باز کہتے ہیں‘ منشیات کے یہ عادی اپنے جسم کو نشہ کی عام خوراک سے 80 فیصد زیادہ فراہم کرتے ہیں‘ دو دو سیرپ کی بوتل 5سے10 سکون آور گولیاں اور تین تین سکون آور انجکشن ایک ہی وقت میں حاصل کرتے ہیں‘ انہوں نے کہاکہ صوبائی دارالحکومت کے پارک اور فٹ پاتھ منشیات کے عادی افراد سے بھر رہے ہیں اور میڈیکل سٹوروں سے ڈاکٹر کے بغیر نسخہ سے تمام ادویات فروخت ہو رہی ہیں‘ محکمہ صحت اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ادویات فروخت ہو رہی ہیں‘ انہوں نے کہاکہ ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے منشیات کا مسئلہ حل نہیں ہو گا ‘ اس لیے واضح پالیسی کی ضرورت ہے‘انہوں نے کہاکہ منشیات کے عادی مریضوں کے لیے 60بستروں پر مشتمل چار ہسپتال تھے جو لاہور کے عادی مریضوں کے لیے کچھ بھی نہیں کررہے ہیں‘ 22کے قریب پرائیویٹ ہسپتال ہیں جو مریضوں کو خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شیشہ کیفوں کے خلاف جو بھرپور مہم چلائی تھی دوران مہم ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر 71شیشہ کیفے سیل کیے‘ 2012ء میں شیشہ کیفوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا‘ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد نئی سرمایہ کاری میں کمی دیکھنے میں آئی‘ اس موقع پر سیکرٹری جاوید اقبال اور ناروے میں مقیم پاکستان کمیونٹی کے رہنما حبیب بٹ بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں  ننکانہ صا حب :بھارت سے آئے سکھوں نےاپنی مذ ہبی رسو ما ت اد ا کیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker